شعبہ اسلامک اسٹڈیز میں فادرڈاکٹر ایم ڈی تھامس کا توسیعی خطبہ
02:30PM Tue 21 Feb, 2017
علی گڑھ، (بھٹکلیس نیوز)علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ اسلامک اسٹڈیز میں ڈاکٹر ایم ڈی تھامس نے مذہبی رواداری کے موضوع پر خطبہ پیش کیاجس کا آغاز شعبہ کے ریسرچ اسکالر عاطف عمران کی تلاوتِ کلام پاک سے ہوا۔بنارس ہندویونیورسٹی سے ہندی زبان میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے فادرڈاکٹر تھامس نے کہا کہ انہوں نے ہندوستانی تہذیب،ہندی زبان اور میوزک پر دسترس حاصل کی ہے اور ان علوم و فنون کے ذریعہ خوشگوار زندگی اور توسیع پسند رجحانات کی تبلیغ واشاعت کے سلسلہ میں دنیا کے معروف مذاہب کے درمیان تال میل کے لئے گذشتہ تیس برسوں سے کوشاں ہیں۔متعدد کتابوں کے مصنف اورمختلف قومی ایوارڈ یافتہ کیرالہ میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر تھامس نے کہا کہ انہیں کبیر داس کے ذریعہ ایک نئی زندگی ملی ہے، جس نے مذہبی اور تہذیبی رواداری کی ہندوستان میں قندیل روشن کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کبیرداس کی تعلیمات کے ذریعہ دوسرے مذاہب کی عزت کرنے اور ان سے سیکھنے کی تعلیم ملتی ہے۔مذہبی رواداری کی تعریف کرتے ہوئے فاضل خطیب نے کہا کہ آپسی من مٹاؤختم کرنا، منافرت کے جذبات سے الگ ہوجانا، ایک دوسرے کو برداشت کرنا، سمجھنااور سیکھنا ہی در اصل مذہبی رواداری ہے۔ تشدد کو رواداری کی ضد قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ذہن و دماغ اور عقلی صلاحیتوں کو گھن کی طرح کھا جانے والا مرض ہے۔ مذہب کی تبلیغ و اشاعت کے ضمن میں انہوں نے کہا کہ مذہب صرف نجی معاملہ ہی نہیں بلکہ یہ ایک سماجی معاملہ بھی ہے۔ ہم اگر کسی مذہب کو قبول کرتے ہیں، اسے اچھا سمجھتے ہیں تو ہمارا یہ بنیادی حق ہے کہ دوسرے بھائی کو بھی اس کی تلقین کریں۔ مذہب کو نہ جبراً منوایا جا سکتا ہے اور نہ ہی مذہب کی توسیع کوپر تشدد طریقوں سے روکا جا سکتا ہے۔شعبۂ اسلامک اسٹڈیز کے سربراہ پروفیسر سید احسن نے اپنے صدارتی خطاب میں مذہبی روادای کو ہندوستان کی پہچان بتاتے ہوئے کہا کہ یہاں قدیم زمانے سے ہندوستانی مذاہب کے ماننے والے امن ، سکون اور آزادی کے ساتھ ایک دوسرے کے حقوق کی پاسداری کرتے رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مذہبی روادی کے علمی و عملی نمونے برصغیر کی تمام خانقاہوں کا طرۂ امتیاز رہے ہیں۔ڈاکٹر ضیاء الدین ملک فلاحی نے اختتامی کلمات میں ڈاکٹر تھامس کی آمد کو شعبۂ اسلامک اسٹڈیزکے لئے نیک فال قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج کی سسکتی بلکتی اور امن و سکون سے عاری انسانیت کو مذہبی روادری کی شدیدضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکوت کی ذمہ داری ہے کہ مذہبی وثقافتی تال میل کے ذریعہ علم و فن کو تحفظ فراہم کرے اور دوسری جانب تمام مذاہب کے ارباب حل و عقد کی ذمہ داری ہے کہ اپنے مذہبی دائروں سے نکل کر دوسرے مذاہب کے ماننے والوں سے قربتیں پیدا کریں تاکہ لسانی اور مذہبی منافرت ختم ہو اور تکریم انسانیت کو اس کا حقیقی مقام مل سکے۔ڈاکٹر آدم ملک، ڈاکٹر امتیاز الھدیٰ، ہارون زرگر نے سوالات کے ذریعہ محفل کو دلچسپ بنایا۔ شعبۂ عربی، تھیالوجی، اسلامک اسٹڈیزکے طلبأ و اساتذہ کی کثیر تعدادنے اس توسیعی خطبہ سے استفادہ کیا۔