جی ایس ٹی کے تین ماہ بعد بھی بنگلور کے تاجر پریشانیوں کاشکار
03:37PM Wed 27 Sep, 2017
بنگلو ر،27 ؍ستمبر(ذرائع) مرکزی حکومت کی جانب سے جی ایس ٹی کے نفاذ کے فیصلہ کو تین ماہ کا عرصہ مکمل ہونے کو آیا ہے، لیکن ابھی تک شہر کے کاروباری اور تاجروں خصوصاً تھوک بازاروں کے تاجروں کے لئے حالات معمول کی طرف نہیں لوٹ پائے ہیں۔کے آر مارکیٹ کے بعض تاجروں نے بتایا کہ پچھلے سال نومبر کی آٹھ تاریخ کو وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے ان کے لئے سخت حالات پیدا کئے جانے کے بعد اس سال دوبارہ جی ایس ٹی کے نفاذ کے اعلان نے ان کے کاروبار پر کافی برا اثر ڈالا تھا اور اس کے بعد سے ابھی تک حالات میں کوئی سدھار نہیں پیدا ہو سکا ہے اور وہ معمول کی طرف نہیں لوٹے ہیں۔مارکیٹ میں جی ایس ٹی سے بے نیاز چھوٹے کاروباری جن کی دکانیں بھی نہیں ہیں اور راستوں کے کنارے ترکاریاں اور دوسرے سامان وغیرہ رکھ کر اپنا پیٹ پالنے کی کوشش کرتے ہیں ان کے لئے مسئلہ ’’بڑے نوٹوں‘‘ کا ہے ، کمار اور گنگما جیسے کئی تاجروں نے بتایا کہ اکثر گاہک کوئی چیز خریدنے کے لئے دو ہزار روپئے نوٹ دیتے ہیں اور جب ان کے پاس اس کا چھٹا نہیں ہوتا ہے تو وہ لوگ کچھ بھی خریدے بغیر وہاں سے چلے جاتے ہیں۔کمار اور گنگما، راستہ کے کنارے اپنی دکان لگاتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں بی بی ایم پی کو صرف مختصر سا کرایہ ادا کرنا ہوتا ہے،جبکہ دوسرے تاجر جن کے پاس مستقل دکانیں موجود ہیں انہیں بھاری رقم کرایہ میں ادا کرنی پڑتی ہے۔ان تاجروں کو جی ایس ٹی کے بارے میں پریشانی لگی ہوئی ہیں، وہ ابھی تک محصول کے اس نظام کو ٹھیک طرح سے سمجھ ہی نہیں پائے ہیں اور انہیں اندازہ بھی نہیں ہے کہ اس کے کیا اثرات ان کے کاروبار پر مرتب ہونے والے ہیں لیکن ان لوگوں کا احساس ہے کہ جی ایس ٹی کے بعد سے ان کے کاروبار مزید خراب ہو گئے ہیں۔حالات ایسے ہیں کہ دکان کا کرایہ نکال پانا بھی مشکل ہو رہا ہے ۔ترکاری فروخت کرنے والے محمود پاشاہ اپنی دکان کے لئے ماہانہ پچیس ہزار روپئے کرایہ ادا کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ ان کی خوش قسمتی ہے کہ ان کے بعض رشتہ دار دکان کے مالک سے شناسائی رکھتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں کم کرایہ پر دکان مل گئی ہے ورنہ اسی رقبہ کی کوئی بھی دکان یہاں 35,000 روپئے سے کم میں نہیں ملتی(واضح رہے کہ اس مارکیٹ میں دکانوں کی اصل ملکیت بی بی ایم پی کی ہے لیکن جن لوگوں کو بی بی ایم پی نے ٹھیکہ پر یہ دکانیں فراہم کر رکھی ہیں وہ خود گویا اس کے مالک بن گئے ہیں اور انہوں نے دوسرے لوگوں کو یہ دکانیں بھاری کرایہ پر دے رکھی ہیں)۔پھلوں کے کاروباری محمد فراز کو اپنی دکان کے لئے روزانہ ایک ہزار تین سو روپئے کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے، حالانکہ اس کی دکان ایاز کی دکان سے تھوڑی چھوٹی ہی ہے۔محمود نے بتایا کہ’’اس سال جولائی کے مہینہ میں جب کہ جی ایس ٹی کا نفاذ عمل میں آیا تھا اس سے پہلے ، میں صبح پانچ سے دس بجے کے درمیان روزانہ سات ہزار روپئے کا کاروبار کر لیا کرتا تھا، مگر اب عموماً اس کی مقدار ایک ہزار روپئے سے بھی کم ہی ہوتی ہے‘‘۔محمود ، مارکیٹ کے اطراف کی صورت حال اور گندگیوں کو بھی اس کے لئے مورد الزام ٹہراتے ہیں کہ یہ حالات لوگوں کو مارکیٹ میں آنے سے روکتے ہیں۔پچھلے ایک دو ماہ سے ریاست کے مختلف مقامات پر شدید برساتوں نے فصلوں کو کافی نقصان پہنچایا ہے جس کی وجہ سے بعض اشیاء کی قیمتوں پچھلے ایک دو ماہ میں بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں اور اس کا اثر یہ ہو رہا ہے کہ گاہک زیادہ مقدار میں ترکاریاں، پھل پھول وغیرہ خریدنے سے کتراتے ہیں۔گووندا نے بتایا کہ گاجر اور بینس وغیرہ کی قیمتیں اس وقت بالترتیب فی کلو 60؍ روپئے اور100؍ روپئے ہیں، حالانکہ اس سے قبل ان کی قیمتیں20؍ اور 30؍ روپئے ہوا کرتی تھیں۔رسل مارکیٹ کے ایک تاجر جمیل احمد کے مطابق اس مارکیٹ میں گاجر اور بینس کی قیمتیں اس سے بھی بہت زیادہ ہیں اور یہ دونوں ترکاریاں وہاں 80 روپئے اور120؍ روپئے میں فروخت کی جا رہی ہیں۔اشوک نامی ایک پھلوں کے تاجر نے بتایا کہ بعض افراد جو ماریٹ کے باہری راستوں پر پھل اور ترکاریاں وغیرہ فروخت کرتے ہیں انہیں پولیس والے کافی پریشان کرتے ہیں اور بار بار انہیں وہاں سے ہٹا دیا جاتا ہے۔اشوک نے بتایا کہ کل گذشتہ پولیس والوں نے اسے مارا پیٹا تھااور اسے نو ہزار روپئے کی لاگت کے انار فروخت کرنے سے روک دیا تھا، یہ پھل اس وقت ایک تاڑپال کے نیچے بیکار پڑے ہوئے ہیں اور بارشوں کی وجہ سے ان کے برباد ہوجانے کے بھی اندیشے ہیں۔البتہ مارکیٹ کے قریب ہی ذمہ داری نبھانے والے ایک ٹرافک پولیس اہل کار کا کہنا تھا کہ صرف کچھ ہی لوگ جن کے ٹھیلے راستہ کا ایک بڑا حصہ قبضہ کئے ہوئے ہوتے ہیں انہیں وہاں سے ہٹایا جاتا ہے ورنہ دوسرے تاجروں کو کوئی تکلیف نہیں دی جاتی۔راستوں کے درمیان میں ٹھیلہ گاڑیاں اور پھل، پھول اور ترکاریوں کی ٹوکریاں رکھ دی جانے کی وجہ سے گاڑیوں کے گزرنے اور پیدل چلنے والوں کو بھی یہاں پریشانیوں کا سامنا ہوتا ہے جس کی وجہ سے پولیس اہل کار ان چھوٹے موٹے تاجروں کو وہاں سے ہٹاتے رہتے ہیں۔