امریکی ماہرین نے نابینا افراد کی مدد کیلیے جدید چشمہ تیار کرلیا

02:37PM Sun 8 May, 2016

کیلیفورنیا: دنیا کے ہر حصے میں بینائی سے محروم افراد موجود ہیں اور ان افراد کو زندگی کی دوڑ میں شامل کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اسی لیے اب ایک ایسا چشمہ ایجاد کیا گیا ہے جو نابینا افراد کو دیکھنے میں بھرپور مدد کرسکتا ہے۔ یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے محققین کی جانب سے ایجاد کیے جانے والے چشمے میں چھوٹا کیمرہ نصب ہے جو الفاظ کو دیکھ کر ’’آپٹیکل کریکٹر ریکگنائزیشن‘‘ یعنی او سی آر کی تکنیک استعمال کرتے ہوئے انہیں نہ صرف سمجھ سکتا ہے بلکہ بول کر بھی سنا سکتا ہے۔ اس طرح نابینا یا بینائی سے متاثرہ افراد باآسانی اخبار یا کوئی بھی کتاب پڑھ یعنی سن سکتے ہیں جب کہ کیمرے کو کام کرنے کے لیے درکار توانائی فراہم کرنے کے لیے اس کے ساتھ ایک چھوٹی سی بیٹری بھی منسلک ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ چشمہ صرف متن پڑھنے تک محدود نہیں بلکہ یہ چہرے اور اشیا کو بھی پہچان کر ان کے نام بتا سکتا ہے۔ اس میں چہروں کو ان کے نام سے محفوظ کرنے کے بعد جب کوئی فرد سامنے ہوگا تو یہ چشمہ اسے پہچان کر نام بتا سکے گا اس طرح نابینا افراد کسی خاموش فرد کو بھی پہچان سکیں گے۔ glass یہ چشمہ جو ابھی تجرباتی مراحل میں ہے واقعی نابینا افراد کی بینائی لوٹا سکتا ہے کیونکہ اس کے ذریعے نہ صرف اخبار بلکہ کہیں بھی لکھا متن جیسے کہ اسمارٹ فون کے پیغامات یا ای میلز بھی پڑھی جا سکتی ہیں۔ دیواروں پر موجود نشانات سے یہ گھر تلاش کر سکتا ہے، کرنسی نوٹوں کو پہچان سکتا ہے اور بظاہر ملتی جلتی چیزوں میں بھی فرق کی نشاندہی کر سکتا ہے۔ اس ڈیوائس کو اورکیم کا نام دیا گیا ہے جب کہ فی الحال اس کی فروخت صرف امریکا میں جاری ہے اور اس کی قیمت 2500 سے 3500 امریکی ڈالر تک ہے۔ چونکہ یہ ڈیوائس ابھی تجرباتی مراحل میں ہے اس لیے امید ہے اس میں مزید بہتریاں لانے کے بعد اسے دنیا بھر میں فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا۔