پاکستان دہشت گردی کے ڈھانچے کو منہدم کردیں ہم گلے لگانے کیلئے تیار ہے ۔۔وزیر اعظم
03:43PM Thu 19 Jan, 2017
نئی دہلی ۔(بھٹکلیس نیوز)جنوبی ایشیا کے خطے میں امن ،ترقی اور خوشحالی کے متمنی ہونے کا ارادہ ظاہرکرتے ہوئے وزیرا عظم نے کہا کہ پاکستان عسکریت پسندی کے ڈھانچے کو ختم کرے تو بھارت پاکستان کو گلے لگانے کیلئے تیار ہے ،کسی بھی مسئلے پر کھلے ذہن کے ساتھ بات چیت کرنے کا ارادہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حلف برداری کے موقعے پر اپنے پاکستانی ہم منصب اور سارک ملکوں کے سربراہوں کو اس لئے مدعوں کیا تھا کہ خطے میں امن قائم کرنے اور اختلافات کو کم کر کے مسائل کو حل کرنے کیلئے راہ ہموار کی جائے اور بہتر ہمسائیوں کی طرح ایک دوسرے کے قریب آسکیں ۔ لاہور کا اچانک دورہ بھی پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے کی ایک نشانی تھی تاہم بدلے میں کیا ملا یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ۔ نمائندے کے مطابق نئی دہلی میں منعقد کی گئی ایک تقریب پر تقریر کرتے ہوئے وزیرا عظم نریندر مودی نے پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ایک امن پسند ملک ہے اور بھارت میں مختلف مذاہب کے ماننے والے لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں اور ہم دوسرے ملکوں کے عوام اور حکومتوں کا بھر پور احترام کرتے ہیں ۔ وزیرا عظم نے کہا کہ بھارت پاکستان کے مابین بہتر تعلقات لازمی ہے اور خطے کے دو نیو کلیئر طاقتوں کے درمیان اختلافات سے مزید مسائل پیدا ہو سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ مرکز میں سرکار کی تبدیلی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کا برصر اقتدار آنا اس بات کی غماز ہے کہ ہم مسائل کو پُر امن طریقے سے حل کرنے کے ہمیشہ سے خواہش مند رہے ہیں اور خطے میں تمام پڑوسی ملکوں کے ساتھ امن اور خوشحالی کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں ۔ اپنے خطاب کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ کیوں تعلقات بہتر نہیں ہو سکتے ہیں ؟پاکستان عسکریت پسندی کے ڈھانچے کو منہدم کر دیں ،اپنی سرزمین بھارت مخالف سرگرمیوں کیلئے استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں اور بھارت مخالف سرگرمیوں میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچا دیں ،عسکریت پسندوں کی دراندازی روک دیں ، ناجنگ معاہدے پر من و عن عمل کر لیں ہم پاکستان کو گلے لگانے کیلئے تیار ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں نے اپنی حلف برداری کے موقعے پر اپنے پاکستانی ہم منصب میاں نواز شریف کے ساتھ ساتھ سارک ملکوں کے حکومتی سربراہوں کو اس لئے مدعو ں کیا تھا کہ ہم جنوبی ایشیا کے خطے میں امن کو ہاتھ سے جانے نہیں دیں گے ،ہم اپنے مسائل مل بیٹھ کر حل کریں گے ، ہم ایک دوسرے کے کام آسکیں گے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ میں نے اچانک لاہور جانے کا فیصلہ کیا تھا اور اس کے پیچھے کوئی سیاست نہیں تھی میں اور میری حکومت پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کی خواہشمند رہی ہے ،ہم جمہوریت کے علمبردار ہیں اور پاکستان ہمارا پڑوسی ملک ہے تاہم میرے پاکستان دورے کے بعد کئی فدائین حملوں کا بھارت کو سامنا کرنا پڑا ۔ کیا بہتر دوستی کا جواب یہی ہے ۔وزیر اعظم نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ پاکستان آج ارادہ کر لیں کہ وہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے کار گر اقدامات اٹھائے گا ،پاکستان کی سرزمین بھارت مخالف سرگرمیوں کیلئے استعمال نہیں کی جائیگی ہم بات چیت شروع کرنے کے ساتھ ساتھ بہتر دوستی کیلئے ہاتھ بڑھائیں گے تاہم یہ پاکستان پر منحصر ہیں کہ وہ جس دن بھارت کے ساتھ نیک نیتی اور خلوص کی بنیاد پر تعلقات کو بہتر بنانا چاہے گا ہم اسے گلے لگانے کیلئے تیار ہونگے ۔ وزیرا عظم نے کہا کہ ملک کے خلاف اٹھنے والی آنکھوں کو ہم برداشت نہیں کریں گے ،سازشیں رچانے کی اجازت بھی نہیں دیں گے ، امن و امان میں رخنہ ،لوگ کے جاں و مال کو نقصان پہنچا نے والوں کے خلاف سختی سے پیش آئیں گے ،ہم اپنے ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنا جانتے ہیں اور دوسرے ملکوں کا عزت اور احترام کرنا بھی جانتے ہیں ،ہم کسی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے مرتکب نہیں ہو رہے ہیں ،ہم اپنے کام سے کام رکھتے ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ ہمارے پڑوسی ممالک بھی خطے میں امن ،ترقی اور خوشحالی کو یقینی بنانے کیلئے کارگرد اقدامات اٹھا ئیں گے ۔