ہر سیاسی پارٹی مسلمانوں کو صرف ووٹ بینک سمجھ رہی ہے۔۔کل ہند امام ایسوسی ایش

03:07PM Fri 10 Feb, 2017

نئی دہلی ۔(بھٹکلیس نیوز) آج ہندوستان کی سیاست جس سمت میں جارہی ہے، وہ نہایت ہی ا فسوسناک ہے۔ ہر سیاسی پارٹی مسلمانوں کو صرف ووٹ بینک سمجھ رہی ہے۔ اور حد تو یہ ہے کہ کچھ فرقہ پرست طاقتیں مسلمانوں کانام لے کر اور مذہب کا سہارالے کر ملک میں نفرت پھیلانے کاکام کررہی ہیں۔ کبھی لوجہاد، کبھی رام مندر، کبھی گؤ ماش، کبھی تین طلاق اور کبھی پردے جیسی مذہبی چیزوں کا سہارالے کر برادران وطن کو یہ بتانے کی کوشش کررہے ہیں کہ اسلام اور مسلمان محض نام کے لئے ہیں اور یہ مذہب (نعوذ باللہ) صرف آتنک واد پھیلانے کی دعوت دیتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت ہندوستانی مسلمانوں کو ہندو کہتے ہیں، اور بی جے پی کے صدر امت شاہ سے جب یہ پوچھا جاتا ہے کہ آپ نے مسلمانوں کو ٹکٹ کیوں نہیں دیا تو وہ کہتے ہیں کہ مسلمان ہمیں ووٹ نہیں دے گا۔تویہ ہندوتو کا دوہرا چہرہ سامنے آتا ہے۔ ہندوستانی وزیراعظم بھی اس بات کو مسلم علماء کے سامنے کہہ چکے ہیں کہ مسلمان ہمیں ووٹ نہیں دے گا۔تو ایک مذہب کے ماننے والوں کو کبھی ہندو اور کبھی مسلمان کہاجاتاہے۔ یہ صرف گندی سیاست ہی ہوسکتی ہے اور کچھ نہیں۔بی جے پی کے نیتا یوگی آدتیہ ناتھ ،ساکشی مہاراج، سادھوی پراچی یہ سب ایسے نام ہیں جن کی سیاست صرف اور صرف مسلمانوں کے خلا ف نفرت پھیلاکر چلتی ہے۔ ابھی حال ہی میں بی جے پی کے ایک لیڈرنے کہاکہ اگر اترپردیش میں بی جے پی سرکار بنا لیتی ہے تو کیرانہ ،دیوبند، اور مرادآبادمیں کرفیولگادیاجائے گا۔ اتنی کھلی نفرت کی باتوں کو موجودہ سرکار اور الیکشن کمیشن کیسے ان سنی کررہے ہیں، یہ بڑے افسوس کی بات ہے۔ اس سے بھی زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ کچھ نام نہاد مسلم سیاسی پارٹیوں کے رہنما بی جے پی اورآر ایس ایس کامہرابنے ہوئے ہیں ، جبکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مذہب کے نام پر جب جن سنگھ اور مسلم لیگ جیسی پارٹیاں نہیں چل پائیں تو مجلس اتحاد المسلمین نام کی پارٹی کیسے ہندوستان میں کامیاب ہوسکتی ہے؟ کیوں کہ جن کی سیاسی طاقت ان کے اپنے صوبے میں کامیاب نہیں ہوپائی آج وہ بی جے پی کے دم پر پورے ملک میں سیاست کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔ آج کے حالات میں جب کہ مسلمان سیاسی اعتبار سے بے دست و پا نظر آتاہے تو کیا ان کی سیاسی دانشمندی ان کو ا س بات کے لئے نہیں اکساتی کہ ہم مسلمانوں کو اتحاد کی دعوت دے کر کسی ایک سیکولر پارٹی کو حمایت دے کر فرقہ پرست طاقتوں کو ہرانے کاکام کریں۔یہ مسلم سیاسی پارٹیاں اترپردیش میں مسلمانوں کے ووٹوں کو صرف اور صرف منتشر کرنے کا کام کررہی ہیں جس کا سیدھا فائدہ بی جے پی کو ہونے جارہا ہے۔ یہ نہایت افسوس کی بات ہے کہ جو لوگ اپنے آپ کو مسلم قائد بنانے کے فرا ق میں ہیں ان کا یہ عمل کیا فرقہ پرست طاقتوں کو طاقت دینے کے لئے نہیں ہے۔ اگر یہ واقعی مسلمانوں کے بہی خواہ ہیں تو ان کو میدان سے ہٹ جاناچاہئے تھا۔ لیکن انہوں نے ایسانہیں کیا، جس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ لوگ فرقہ پرست طاقتوں کے ہاتھوں کاکھلونا بن رہے ہیں۔ مجلس اتحادالمسلمین کی ایک ٹیم جس کی رہنمائی محمد انس نامی آدمی کررہا ہے، یہ لوگ دہلی میں علماء کو باقاعدہ نشانہ بنارہے ہیں۔ یہ میں اسلئے کہہ رہا ہوں کہ کیوں کہ ان لوگوں نے مجھے کبھی فتح کے فتوے کابہانہ بناکر اورکبھی میری اس پوسٹ کو لے کر جو میں نے ٹیوٹر اور فیس بک پریہ کہہ کر کی تھی کہ آج کے حالات میں مسلمانوں کو چارشادیاں کرنی چاہئیں اور چالیس بچے پیداکرنے چاہئیں۔ میری یہ پوسٹ غیر اسلامی نہیں ہے۔اسلام میں چارشادیاں جائز ہیں، اور اللہ کے رسولؐ نے فرمایاکہ میں اپنی امت کے زیادہ ہونے پر فخر کروں گا۔ لیکن ان لوگوں نے میری فیس بک اور ٹیوٹر پر جو بدتمیزی کی ہے اور مجھے میری بیوی اور میری بیٹیوں کو برا بھلاکہاہے اس کا ثبوت میرے پاس موجود ہے۔ کیاکہ پارٹی مسلمانوں کی رہنمائی کرسکتی ہے؟ ہم یوپی کے تمام مسلمانوں سے اورخاص کر علما سے ایک اپیل یہ بھی کرتے ہیں کہ مجلس اتحاد المسلمین اور دوسری مسلم سیاسی پارٹیاں جو مسلم ووٹوں کو منتشرکرنے کیلئے چناؤمیدان میں ہیں ان کانہ صرف بائیکاٹ کیاجائے بلکہ ان کے نمائندوں کو باقاعدہ غیرت بھی دلائی جائے کہ آج فرقہ پرست طاقتوں کو منہ توڑ جواب دینے کا وقت ہے نہ کہ قوم میں انتشارپھیلانے کا۔ ہم امام ایسوسی ایشن کی طرف سے اتر پردیش کے تمام مسلمانوں سے یہ بھی اپیل کرنا چاہتے ہیں کہ بی جے پی کی نظر صرف اترپردیش نہیں ہے بلکہ بی جے پی کی نظرراجیہ سبھاپرہے کیوں کہ راجیہ سبھا میں ان کی اکثریت نہیں ہے اس لئے یہ اترپردیش جیت کر راجیہ سبھامیں اپنی اکثریت لاناچاہتے ہیں ۔ اگرآپ کے ووٹ منتشر ہو کر خدا ناخواستہ بی جے پی کو یوپی میں اکثریت مل گئی تو یاد رکھئے کہ راجیہ سبھا میں ان کو اکثریت حاصل ہوجائے گی اور یہ فرقہ پرست جماعت پھر اپنے من مانے ڈھنگ سے رام مندربل، کامن سول کوڈ بل، دفعہ ۳۷۰ بل، تین طلاق بل اور پردے جیسے بلوں کو پاس کرکے مسلمانوں پر آئے دن حملہ کرتے رہیں گے ۔ آج اگروقت ہاتھ سے نکل گیا تو پھر پچھتانے سے کوئی فائدہ نہیں۔ اس لئے جوبھی امیدوار بی جے پی کو ہرانے کی طاقت رکھتاہے ،تمام مسلمان مل کر اس امیدوار کوووٹ کریں۔ یہ قطعی نہ سوچیں کہ میں کانگریس سے جڑاہوا ہوں، یاسماجوادی پارٹی، یابسپا سے میرا تعلق ہے، بلکہ صرف یہ سوچیں کہ ہمیں بی جے پی کو کیسے ہرانا ہے۔ امید کرتا ہوں کہ تمام مسلمان ہماری اس اپیل کو اتحاد کے لئے ایک پیغام سمجھ کر فرقہ پرست طاقتوں کے عزائم کو ناکام کرنے کی ایک اپیل سمجھیں گے اور اس پر عمل بھی کریں گے۔ اللہ آپ کو دیکھ رہاہے، اسلام اور مسلمان کی عزت کی شکل میں آج آپ کے پاس ہے، اگرآپنے ذراسی چوک کی تو وقت ہاتھ سے نکل جائے گااور اسد الدین اویسی اورڈاکٹرایوب جیسے لوگ آپ کی اوراسلام کی کوئی مدد نہیں کرپائیں گے۔ اللہ آپ کاحامی و ناصر ہے۔