جموں و کشمیر پر ترک صدر اردوغان کے متنازع بیان پر ہندوستان کا کرارا جواب ، اٹھایا یہ بڑا قدم

03:47PM Mon 17 Feb, 2020

جموں وکشمیر کے تعلق سے ہندوستان کی پالیسیوں کے بارے میں ترک صدر رجب طیب اردوغان کے غیر ضروری بیان سے ناراض ہندستان نے ترک سفیر کو طلب کر کے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے ۔ ہندوستان نے ترک سفیر کو طلب کر کے سختی سے متنبہ کیا کہ ترک قائدین ہندوستان کے اندرونی معاملات میں جس طرح مداخلت جاری رکھے ہوئے ہیں ، اس کی وجہ سے دوطرفہ تعلقات بری طرح متاثر ہوں گے۔ حالیہ دورہ پاکستان کے دوران ترک صدرار دوغان کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس طرح کی باتیں دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے سخت مضمرات کی حامل ہیں۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے نئی دہلی میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ سکریٹری برائے امور خارجہ ( مغرب) وکاس سوروپ نے ترک سفیر شاکر اوزان ٹولر کو طلب کیا اور انھیں سخت الفاظ میں کہا کہ صدر اردوغان کے تبصرے میں نہ تو تاریخ کی کوئی جھلک نظر آتی ہے اور نہ ہی یہ سفارتی آداب پر کھرا اترتا ہے ۔ وہ کل کے گزرے واقعات کو آج کے مفادات میں توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں۔ مسٹر کمار نے کہا کہ ترک صدر اردوغان کا حالیہ تبصرہ دوسرے ملکوں کے داخلی امور میں ترکی کی مداخلت کی نظیر ہے۔ ہندستان کے نزدیک یہ چیز ناقابل قبول ہے ، لہذا سرحد پار سے بے شرمی سے جاری پاکستانی دہشت گردی کو با جواز ٹھہرانے کی ترکی کی طرف سے بار بار کی جانے والی کوششوں کو مسترد کیا جاتا ہے۔ ترجمان نے ترک حکومت کو یہ وارننگ بھی دی کہ اگر یہ سلسلہ نہیں روکا گیا ، تو ہندوستان اور ترکی کے دو طرفہ تعلقات پر انتہائی خراب اثر پڑ سکتا ہے۔