’کمپیوٹر کی جاسوسی‘ والے مودی حکومت کے فیصلہ پر سپریم کورٹ نے جاری کیا نوٹس

01:36PM Mon 14 Jan, 2019

ملک کی 10 جانچ ایجنسیوں کو کسی بھی کمپیوٹر کا ڈاٹا دیکھنے کی اجازت دئیے جانے پر سپریم کورٹ نے مودی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے۔ مودی حکومت کو نوٹس کا جواب داخل کرنے کے لیے 6 ہفتہ کا وقت ملا ہے۔ ملک کی 10 جانچ ایجنسیوں کو کسی بھی کمپیوٹر کا ڈاٹا دیکھنے کی اجازت دینے کے معاملے میں سپریم کورٹ نے مودی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ اس معاملے میں مرکزی حکومت 6 ہفتوں کے اندر اپنا جواب داخل کرے۔ اس سے قبل سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ اس معاملے میں ضرورت پڑنے پر سماعت کی جائے گی۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی اور جسٹس سنجے کشن کول کی بنچ کے سامنے وکیل منوہر لال شرما نے اپنی مفاد عامہ عرضی کا تذکرہ کرتے ہوئے اس پر فوری سماعت کی گزارش کی تھی۔ عرضی دہندہ نے کہا کہ ان کی مفاد عامہ عرضی پر فوری سماعت کی جانی چاہیے۔ قابل ذکر ہے کہ مودی حکومت نے 10 جانچ ایجنسیوں اور دہلی پولس کو کسی بھی کمپیوٹر سے کسی بھی جانکاری کو انٹرسیپٹ کرنے، اس کا تجزیہ کرنے کی اجازت دی تھی۔ گزشتہ مہینے وزارت داخلہ نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ خفیہ بیورو، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ، سی بی ڈی ٹی، ڈی آر آئی، را سمیت دس ایجنسیوں اور دہلی کے پولس کمشنر کے پاس ملک میں چلنے والے سبھی کمپیوٹر کی مبینہ طور پر نگرانی کرنے کا حق ہوگا۔ حکومت کے اس نوٹیفکیشن پر گزشتہ دنوں پارلیمنٹ میں بھی زوردار ہنگامہ ہوا تھا۔ اپوزیشن پارٹیوں نے اسے عام آدمی کے حقوق اور رازداری کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ اپوزیشن کے الزامات پر حکومت کی جانب سے ایوان میں وزیر مالیات ارون جیٹلی نے صفائی دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہی معاملوں میں یہ قانون نافذ ہوگا جن کا تعلق قومی سیکورٹی سے ہوگا۔ جیٹلی نے کہا تھا کہ حکومت نے اس معاملے میں کوئی نیا قانون نہیں بنایا ہے۔ دوسری طرف کانگریس صدر راہل گاندھی نے اس تعلق سے پی ایم مودی کو تاناشاہ بتاتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ خود کو کس قدر غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔