ووٹنگ مشینوں کے ذریعہ نتائج کو بدلنے کا الزام
06:07AM Thu 22 May, 2014
بھٹکلیس نیوز/21مئی 14
نئی دہلی ۔ حال میں ہو ئے لوک سبھا انتخابات میں الیکٹرا نک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) کے ذریعہ ووٹوں میں گڑ بڑی کرنے اور نتائج کو بدلنے کے الزامات نہ صرف یہ کہ حزب اختلاف کی جماعتیں عائد کر رہی ہیں بلکہ بیرونی مما لک سے بھی اس طرح کی خبریں موصول ہو رہی ہیں کہ ای وی ایم مشینوں میں چھیڑ چھاڑ کی گئ اور نتا ئج بدلے گئے ۔ بی بی سی کے سائنس رپورٹر جولین سڈل نے امریکہ کی مشی گن یو نیور سٹی کے سائنس دانوں کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ہندوستان کی ای وی ایم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جا سکتی ہے اور نتائج کو بدلا جا سکتا ہے ۔حا لا نکہ الیکشن کمیشن کا دعوی ہے کہ ای وی ایم میں کسی طرح کی چھیڑ چھاڑ نہیں کی جا سکتی بی بی سی نے مشی گن یو نیورسٹی کے ایک سائنس داٰں پروفیسر جے الیکس ہیلڈر مین کے حوالے سے خبر دی ہے کہ انہوں نے ایک ایسی ٹیکنک ایجاد کی ہے جس میں مو بائل فون کے ذریعہ میسج بھیج کر نتائج کو بدلا جا سکتا ہے۔ مسٹر ہیلڈ ر مین کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ تجربہ ای وی ایم جیسی ایک نقلی مشین بنا کر کیا ۔ اس مشین کے نیچے انہوں نے ایک مائیکرو پروسیسر اور بلو توتھ ریڈ یو خفیہ طریقہ سے چپابدیا ۔ تجربہ کے دوران وہ دیکھ کر حیرت زدہ ہو گئے کہ اس نقلی مشین میں دکھا ئی گئے نتائج کو بڑی آسانی کے ساتھ بدلا جا سکتا ہے اور اس کے اعداد و شمار میں مر ضی کے مطا بق تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں لیکن ہندوستان کے ڈپٹی الیکشن کمشنر آلوک شکلا کا دعوی ہے کہ ابھی تک ایسا کوئی سافٹ ویئر تیار نہیں ہوسکاہے جو ای وی ایم مشینوں کے اعداد و شمار میں کسی طرح کی تبدیلی کر سکے ۔جنہیں ایک خاص طریقے سے پر پزبلٹ کمپیوٹرچپس کے ذریعہ محفوظ رکھا جاتا ہے ۔ لیکن کانگریس پارٹی کے تر جمان اور حال ہی میں ممبئی شمال حلقے سے الیکشن ہارے سنجے نروپم نے الزام عائد کیا ہے کہ ان انتخابات میں بڑے پیمانے پر بی جے پی کار کنوں نے ای وی ایم میں مداخلت کی اور نتائج کو بدل دیا ۔
ووٹنگ مشینوں کے ذریعہ نتائج کو بدلنے کا الزام
بھٹکلیس نیوز/21مئی 14
نئی دہلی ۔ حال میں ہو ئے لوک سبھا انتخابات میں الیکٹرا نک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) کے ذریعہ ووٹوں میں گڑ بڑی کرنے اور نتائج کو بدلنے کے الزامات نہ صرف یہ کہ حزب اختلاف کی جماعتیں عائد کر رہی ہیں بلکہ بیرونی مما لک سے بھی اس طرح کی خبریں موصول ہو رہی ہیں کہ ای وی ایم مشینوں میں چھیڑ چھاڑ کی گئ اور نتا ئج بدلے گئے ۔ بی بی سی کے سائنس رپورٹر جولین سڈل نے امریکہ کی مشی گن یو نیور سٹی کے سائنس دانوں کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ہندوستان کی ای وی ایم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جا سکتی ہے اور نتائج کو بدلا جا سکتا ہے ۔حا لا نکہ الیکشن کمیشن کا دعوی ہے کہ ای وی ایم میں کسی طرح کی چھیڑ چھاڑ نہیں کی جا سکتی بی بی سی نے مشی گن یو نیورسٹی کے ایک سائنس داٰں پروفیسر جے الیکس ہیلڈر مین کے حوالے سے خبر دی ہے کہ انہوں نے ایک ایسی ٹیکنک ایجاد کی ہے جس میں مو بائل فون کے ذریعہ میسج بھیج کر نتائج کو بدلا جا سکتا ہے۔ مسٹر ہیلڈ ر مین کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ تجربہ ای وی ایم جیسی ایک نقلی مشین بنا کر کیا ۔ اس مشین کے نیچے انہوں نے ایک مائیکرو پروسیسر اور بلو توتھ ریڈ یو خفیہ طریقہ سے چپابدیا ۔ تجربہ کے دوران وہ دیکھ کر حیرت زدہ ہو گئے کہ اس نقلی مشین میں دکھا ئی گئے نتائج کو بڑی آسانی کے ساتھ بدلا جا سکتا ہے اور اس کے اعداد و شمار میں مر ضی کے مطا بق تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں لیکن ہندوستان کے ڈپٹی الیکشن کمشنر آلوک شکلا کا دعوی ہے کہ ابھی تک ایسا کوئی سافٹ ویئر تیار نہیں ہوسکاہے جو ای وی ایم مشینوں کے اعداد و شمار میں کسی طرح کی تبدیلی کر سکے ۔جنہیں ایک خاص طریقے سے پر پزبلٹ کمپیوٹرچپس کے ذریعہ محفوظ رکھا جاتا ہے ۔ لیکن کانگریس پارٹی کے تر جمان اور حال ہی میں ممبئی شمال حلقے سے الیکشن ہارے سنجے نروپم نے الزام عائد کیا ہے کہ ان انتخابات میں بڑے پیمانے پر بی جے پی کار کنوں نے ای وی ایم میں مداخلت کی اور نتائج کو بدل دیا ۔
v