روس میں اسلامی فینانس رائج کرنے مسودہ قانون پیش
12:48PM Fri 24 Apr, 2015
بھٹکلیس نیوز/24اپریل،15
ما سکو (ایجنسی)روسی قانون سازوں نے پارلیمنٹ میں ایک مسودہ قانون پیش کیا ہے جس میں اسلامی فینانس کی تائید کی گئی ہے ۔ اس کا مقصد سرمایہ کے بہاؤ کو حاصل کرنا ہے جبکہ یہاں معاشی سست روی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور مغربی طاقتوں کی جانب سے عائد کردہ تحدیدات کے نرم پڑنے یا ان کی برخواستگی کا کوئی امکان بھی نہیں ہے ۔ یہ مسودہ قانون پارلیمنٹ کے ایوان زیریں اسٹیٹ ڈوما کو جاریہ ہفتے روانہ کیا گیا ہے ۔ اس مسودہ میں تجویز کیا گیا ہے کہ بینکوں کو تجارتی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے ۔ یہ ایسی تجویزہ ے جو شریعت کی پابندی کے ساتھ اصولوں میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے ۔ حالانکہ اس مسودہ قانون کی راہ میں کئی رکاوٹیں حاصل ہیں لیکن اسے ایک ایسے بینکنگ نام کی شروعات کی سمت پہلا قدم قرار دیا جا رہا ہے جس کے نتیجہ میں کئی خلیجی و جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں ترقی کی شرح دو ہندسوں تک پہونچ گئی ہے ۔ اس بینکنگ نظام کو روس میں ابھی منظوری حاصل نہیں ہوئی ہے ۔ اسلامی قوانین کے تحت اسلامک فینانس میں بینکس ڈپازیٹرس سے سرویس فیس حاصل کرتے ہیں اور ڈپازیٹرس کو بینک کے نفع میں حصہ دار بنایا جاتا ہے - روس پر مغربی ممالک کی تحدیدات عائد ہیں جن کے نتیجہ میں اس کی معاشی رفتار سست ہوگئی ہے ۔ یوکرین کے بحران کی وجہ سے روس پر امریکہ اور اس کے حواری ممالک نے تحدیدات عائد کی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ روسی ڈوما میں پیش کردہ یہ مسودہ قانون اسلامک فینانس کی شروعات کیلئے اہمیت کا حامل ہے جس کے نتیجہ میں دوگنا یا سہ گنا ٹیکس و محصول وصول کئے جاسکتے ہیں کیونکہ ان قوانین کی رو سے غیر اہم اثاثہ جات کی ہمہ جہتی منتقلی کی گنجائش رہتی ہے ۔
ع،ح،خ