تین طلاق کے خلاف درخواست عشرت جہاں کو سماجی بائیکاٹ کا سامنا
12:13PM Sun 27 Aug, 2017
کولکتہ:26،اگست(یو این آئی)ایک ہی مجلس میں تین طلاق کے وقوع کے خلاف درخواست دینے والی عشرت جہاں کی پریشانیاں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کم نہیں ہوئی ہے۔ کیونکہ اب کولکتہ میں عشرت جہاں کو سماجی بائیکاٹ کا سامنا ہے اور اس نے وزیر اعلٰی ممتا بنرجی سے سیکورٹی کا مطالبہ کیا ہے۔عشرت جہاں نے میڈ یا اہلکاروں سے کہا کہ چوں کے میں نے تین طلاق کے خلاف آواز بلند کی اور اس کے لیئے لڑائی لڑی اس لیئے سماج سے مجھے گالیاں مل رہی ہے ان کی نگاہ میں میں نے غلط کام کیا ہے۔یہ لڑائی ہر گزرتے دن کے ساتھ مشکل ہوتی جارہی ہے ۔عشرت جہاں کی پیروی کرنے والی سماجی کارکن نازیہ الٰہی خان نے کہا کہ22،اگست کو سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بینچ میں سے تین ججوں کے ایک ہی مجلس میں تین طلاق کو غیر آئینی قرار دینے کے بعد سے ہی انکا بائیکاٹ کرنا شروع کردیا گیا ہے اور انہیں ''ہندو کی بیوی ''کہا جارہا ہے ۔نازیہ الٰہی خان نے کہا کہ تین طلاق پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کےبعد ہم لوگ بہت ہی خوش تھے۔اس کے اگلے دن سے ہی آس پاس کے محلّے کی خواتین نے ہمارا سماجی بائیکاٹ کرنا شروع کردیا،ہم نے یہ سمجھانے کی کوشش کی ہیکہ عدالت عظمٰی کا فیصلہ ایک مجلس میں تین طلاق کے خلاف ہے نہ کہ طلاق کے خلاف ' ہم لوگوں نے ایک ہی مجلس میں تین طلاق کے خلاف جدوجہد کی ہے ہم بھی اسلام پر یقین رکھتے ہیں ،ہم نے وزیر اعلٰی ممتا بنرجی کو خط لکھ کر سیکوریٹی کا مطالبہ کیا ہے نازیہ الٰہی خان نے بتایا کہاگر وزیر اعلٰی ممتا بنرجی نے ہمارے خط کا جواب نہیں دیا تو ہم عدالت سے رجوع کریں گے ہم لاء اینڈ آرڈ ر پر یقین رکھتے ہیں مگر اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کے ہمیں غلط الفاظ سے مخاطب کیا جائے