سعودی عدلیہ آزاد اور فعال ہے، عالمی مداخلت مسترد کرتے ہیں: عادل الجبیر
01:42PM Fri 16 Nov, 2018
سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ مملکت کی عدلیہ فعال ، موثر اور آزاد ہے اور سعودی عرب صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے واقعے کو بین الاقوامی رنگ دینے کی کوششوں کو مسترد کرتا ہے۔
انھوں نے یہ بات جمعرات کو مقتول صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پرآنے کے بعد ایک نیوز کانفرنس میں کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ سعودی عرب کا پبلک پراسیکیوشن ابھی تک بہت سے سوالوں کے جواب کی تلاش میں ہے اور وہ تحقیقات کررہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ سعودی عرب کو مذموم اور غیر قانونی حملوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔انھوں نے قطری میڈیا پر سعودی عرب کے خلاف مہم برپا کرنے کا الزام عاید کیا اور کہا کہ اس نے جمال خاشقجی کے قتل کیس سے فائدہ اٹھانے کے لیے ابھی تک سعودی عرب کے خلاف مہم جاری رکھی ہوئی ہے۔
عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ خاشقجی کی موت کو سیاسی بنا نے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن اس کیس سے سعودی عرب کی ایران یا دہشت گردی کے مقابلے میں پالیسیاں ہرگز تبدیل نہیں ہوں گی۔
انھوں نے واضح کیا کہ اس کیس میں مقتول اور تمام ملزمان سعودی شہری ہیں اور یہ واقعہ سعودی خود مختار جگہ ( قونصل خانے ) میں رونما ہوا تھا۔انھوں نے سعودی حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ قتل کے اس واقعے میں ملوث تمام ملزموں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے گی۔
سعودی عرب کے محکمہ پبلک پراسیکیوشن نے ترکی کے شہر استنبول میں سعودی قونصل خانے میں جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث پانچ افراد کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔پبلک پراسیکیوشن کا کہنا ہے کہ ان پانچ افراد نے جمال خاشقجی کے قتل کا اعتراف کیا ہے۔سعودی حکام نے ان افراد سمیت کل اکیس ملزموں سے پوچھ تاچھ کی ہے اور ان میں سے گیارہ پر قتل کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی ہے۔تاہم ان کا کہنا ہے کہ فوجداری نظام کے تحت فی الوقت ان ملزموں کے نام ظاہر نہیں کیے جاسکتے۔