دہشت گردی سے مقابلے کے نام پر ہندو نوجوانوں کو مسلح کرنے کی بجرنگ دل کی کوشش پر ملی کونسل کی ناراضگی

05:12PM Tue 6 Jun, 2017

نئی دہلی،(بھٹکلی نیوز) آل انڈیا ملی کونسل نے بجرنگ دل اور اس سے وابستہ ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے اکثریتی طبقہ کے نوجوانوں کو اسلحہ ٹریننگ دیئے جانے پر اپنی شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ کونسل سے جاری پریس بیان میں جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم نے کہا ہے کہ جس طرح بجرنگ دل جیسی ہندو انتہاپسند جماعت کے ذریعہ مرشدآباد میں اسلحہ ٹریننگ کیمپ لگائے گئے ہیں اور ہندو نوجوانوں کو دہشت گردی کے خلاف انہیں اسلحہ ٹریننگ دیے جانے کی ترغیب دی جا رہی ہے، وہ ایک خطرناک سازش ہے۔ جنرل سکریٹری نے کہا کہ ایک ایسے ملک میں جہاں ملکی سطح پر امن وامان کے قیام میں تعاون دینے کے لیے مسلح افواج کام کرتی ہے، بجرنگ دل کا قانون کو اپنے ہاتھوں میں لینا نہ صرف مسلح افواج کے لیے ایک چیلنج ہے بلکہ اس ملک کے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں وپسماندہ طبقات کے خلاف ایک منظم سازش بھی ہے۔ ملی کونسل سے جاری بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسے ملک میں جہاں کا سماج آپس میں فرقہ وارانہ خیرسگالی اور گنگا جمنی تہذیب اور یہاں کے سیکولر اقدار پر یقینی رکھتا ہے، بجرنگ دل کا یہ طریق کار سماجی سطح پر منافرت کا بیج بو رہا ہے اور سادہ لوح ہندو نوجوانوں کو مسلمانوں وکمزور طبقات کے خلاف متنفر کرنے اور اشتعال پھیلا کر یہاں کے سماج کو انتشار کی طرف لے جانے کی راہ پر ہے، جو ایک خطرناک علامت ہے اور یہ افراتفری، بے چینی اور ملک کے دور دراز مقامات پر توڑ پھوڑ پیدا کرنے کی طرف مائل کرنے کی سوچی سمجھی منصوبہ بندی کا حصہ ہو سکتا ہے۔جنرل سکریٹری ملی کونسل نے آگے اپنے بیان میں مرکزی حکومت اور متعلقہ ریاستی حکومتوں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس قسم کے ٹریننگ کیمپ لگانے والوں کے خلاف قانونی اقدام کرے، ان پر روک لگائے اور تعزیری قوانین کے تحت آرگنائزروں کے خلاف فوجداری مقدمات چلائے۔ انہیں گرفتار کرے، بصورت دیگر اس قسم کی سرگرمیوں سے ملک کے مختلف حصوں میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نہ صرف خطرات لاحق ہیں بلکہ اکثریتی واقلیتی طبقات کے درمیان دوریاں بڑھیں گی اور بھائی چارگی وامن وامان کے لیے یہ زہر ہلاہل بن جائے گا۔ لہٰذا قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف فی الفور سخت قانونی اقدام کیے جائیں۔