ٹرمپ اور امریکی چیف جسٹس کے درمیان بیانات کی جنگ
01:07PM Thu 22 Nov, 2018
امریکی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جان رابرٹس نے وفاقی عدلیہ کی خود مختاری اور آزادی کا دفاع کیا ہے۔ یہ موقف صدر ٹرمپ کے اُس بیان کے جواب میں سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے منگل کو سان فرانسسکو کے ایک جج کو "صدر اوباما کا جج" قرار دیا تھا۔ مذکورہ جج نے رواں ہفتے غیر قانونی تارکینِ وطن سے پناہ کی درخواستیں نہ لینے سے متعلق ٹرمپ کے فرمان کو معطل کر دیا تھا۔
امریکی چیف جسٹس کی جانب سے بدھ کے روز سامنے آنے والا بیان ٹرمپ کی وفاقی عدالتوں پر تنقید کے حوالے سے پہلا رد عمل ہے۔ ٹرمپ کے مخالفین نے ججوں پر امریکی صدر کی تنقید کو امریکا میں قانون کی بالادستی پر حملہ قرار دیا ہے۔
موجودہ چیف جسٹس جان رابرٹس کو سابق ریپبلکن صدر جارج ڈبلیو بش نے مقرر کیا تھا۔ رابرٹس نے بدھ کے روز اپنے بیان میں کہا کہ "ہمارے پاس اوباما کے جج، ٹرمپ کے جج، بش کے جج اور کلنٹن کے جج نہیں بلکہ ایسے مخلص ججوں کا مجموعہ ہے جو اپنے سامنے پیش ہونے والوں کے درمیان انصاف کو یقینی بنانے کے واسطے انتہائی کوششیں کرتے ہیں۔ یہ خود مختار اور آزاد عدلیہ ہم سب کے لیے قابل افتخار ہے"۔
چیف جسٹس کے بیان کے جواب میں صدر ٹرمپ نے اپنی ٹوئیٹ میں لکھا کہ "یقینا آپ کے پاس اوباما کے جج ہیں جن کے نقطہ ہائے نظر اُن لوگوں کے نظریات سے قدرے مختلف ہیں جن کے پاس ہمارے ملک کی سکیورٹی کی ذمے داری ہے"۔
امریکا میں کسی چیف جسٹس کا ملک کے صدر کے جواب میں اس طرح سے بیان جاری کرنا ایک غیر مانوس امر ہے۔ امریکا کا آئین وفاقی عدلیہ کو حکومت کی ایک بطور مساوی شاخ شمار کرتا ہے۔ ملک کا صدر وفاقی عدالتوں کے ججوں کو نامزد کرتا ہے اور سینیٹ ان کی توثیق کرتی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز اپنے بیان میں سان فرانسسکو کے ڈسٹرکٹ جج جان ٹیگار کو نکتہ چینی کا نشانہ بنایا تھا۔ ٹیگار کو سابق صدر باراک اوباما نے نامزد کیا تھا۔ ٹیگار نے ٹرمپ کی جانب سے پیر کے روز جاری اس صدارتی فرمان کو عارضی طور پر معطل کر دیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ میکسیکو سے غیر قانونی طور پر امریکا میں داخل ہونے والے مہاجرین یا تارکین وطن کو پناہ کی درخواست دینے کا حق نہیں ہو گا۔