گجرات میں دلتوں کو نہیں ملی ان کی زمین، بیٹھے بھوک ہڑتال پران زمین کے
03:16PM Sat 13 May, 2017
کاغذ نریندر مودی نے دیے تو تھے لیکن اب سرکاری افسر کہہ رہے ہیں کہ کہیں اور جا کر بس جاؤ.
احمد آباد۔(بھٹکلیس نیوز) یہ بات تب کی ہے جب وزیر اعظم نریندر مودی گجرات کے وزیر اعلی ہوا کرتے تھے. سال 2010 میں انہوں نے پاٹدی تعلقہ کے تحت آنے والے موتی مجیٹھی گاؤں کے دلتوں کے پانچ خاندانوں کو زمین دینے کا وعدہ کیا تھا. اگرچہ اس زمین کا الاٹمنٹ ہوا لیکن صرف کاغذوں تک. ہاتھ کچھ نہیں لگا. نریندر مودی نے ان میں سے ہر خاندان کو 100 مربع زمین دینے کا وعدہ کیا تھا جو ابھی تک مکمل نہیں ہوا ہے.
انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی تک زمین کا حق نہیں ملا ہے اور یمالپر گاؤں کے قریب کے پاٹیدار کمیونٹی کے لوگ اپنے آس پاس دلتوں کو رہنے دینا نہیں چاہتے. اس کے ساتھ پاٹدی تعلقہ کی انتظامیہ اس مسئلے پر سمجھوتہ کرنے کی کوشش بھی نہیں کر رہا ہے. اس معاملے کو لے کر یہ لوگ دفتر کے باہر گزشتہ پانچ دنوں سے بھوک ہڑتال پر ہیں.
گاؤں کے سرپنچ شاگرد بھرواد نے بتایا کہ سابق وزیر اعلی نریندر مودی نے سال 2010 میں دلتوں کو زمین کے کاغذ دے دیئے تھے. اس بات کو 7 سال ہو گئے ہیں. حال ہی میں پتہ چلا کہ یمالپر کے پاٹیدارو نے اس معاملے پر اعتراض جتایا ہے کیونکہ جو زمین دلتوں کو دی گئی ہے وہ ان کی زمین کے قریب ہے اور وہاں پر ایک شیو مندر بھی ہے. معاملے کو لے کر کچھ بی جے پی لیڈروں نے انتظامیہ پر سیاسی دباؤ بھی بنایا جس کی وجہ سے دلتوں کو وہ زمین چھوڑنی پڑی۔
ایک دلت کا کہنا ہے کہ ان کو زمین کے کاغذ نریندر مودی نے دیے تو تھے لیکن اب سرکاری افسر کہہ رہے ہیں کہ کہیں اور جا کر بس جاؤ. پتہ نہیں کون کس پر دباؤ بنا رہا ہے لیکن سات سالوں سے زمین نہیں ملی ہے.
وہیں ایک مقامی کا کہنا ہے کہ پاٹیدار کمیونٹی اس معاملے کے خلاف تھے تو اس کی وجہ زمین اب الاٹ ہی نہیں کی گئی ہے.اس معاملے پر پاٹدی تعلقہ کی ترقی افسر پی ایم میوانا کا کہنا ہے کہ یہ صحیح بات ہے کہ سال 2010 میں نریندر مودی نے غریب بہبود میلے میں ان دلتوں کو زمین کے کاغذ دیئے تھے. لیکن بعد میں پتہ چلا کہ ان دلتوں کو وہ زمین نہیں کوئی دوسری زمین دینی ہے. اس کی وجہ سے الجھن رہتا ہے. انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔