کئی بی جے پی اراکین اسمبلی کانگریس کی دہلیز پر فرقہ پرستی ذہینت رکھنے پر کانگریس نے شامل کرنے سے انکار کردے

03:48PM Thu 17 Aug, 2017

بنگلور(بھٹکلیس نیوز ):۔ وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا کہ بی جے پی کے کئی اراکین اسمبلی نے کانگریس میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے ان سے خفیہ طوپر ملاقات کی ہے ۔لیکن ان کی ذہینت فرقہ پرستی ہونے کی وجہ سے انہیں دور رکھا گیا ہے اورپارٹی میں لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔انہوں نے نئی دہلی میں کانگریس کی صدر سونیا گاندھی اور نائب صدر راھل گاندھی سے ملاقات کرنے کے بعد نامہ نگاروں کو بتایا کہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی کامیابی یقینی ہے اور کانگریس کا ہی وزیر اعلیٰ بنے گا۔وہ اگلے اسمبلی انتخابات نہ لڑنے کا فیصلہ لیا تھا لیکن بی جے پی کو اقتدار سے پر رکھنے کے لئے وہ دوبارہ انتخابات لڑنے کا فیصلہ لیا ہے۔ دوسری طرف بی جے پی نے کانگریس کو کرناٹک سے ہی ختم کرنے کا عہد کیا ہے اور یہ عہد اور وعدہ کبھی بھی پورا نہیں ہوگا۔ خود بی جے پی ایک ڈوبتی جہاز کی طرح ہے اور کئی اراکین اسمبلی نے ان سے خفیہ طورپر ملاقات کی تھی وہ ان اراکین اسمبلی کو بہت قریبی سے جانتے ہیں اور ان کا دماغ ہمیشہ لوگوں کے درمیان نفرت کا بیج پیدا کرنے اور اقتدار حاصل کرنے کے لئے کچھ بھی کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں ایسے اراکین اسمبلی کو پارٹی میں لینے سے پارٹی بدنام ہوگی اور یہاں بھی زعفرانیت پھیلانے کی کوشش کرسکتے ہیں ۔ایسے کمزور اور فرقہ پرستی کی ذہنیت رکھنے والوں کو کانگریس کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جے ڈی ایس کے سات اراکین اسمبلی کو بہت جلد کانگریس میں شامل کیا جائے گا اور ان کی شمولیت سے کانگریس مضبوط ہوگی اور وہ ان اراکین اسمبلی کو کئی سالوں سے بخوبی جانتے ہیں اور وہ ان تمام اراکین اسمبلی کے ساتھ جے ڈی ایس میں کام کیا تھا۔ ان کا ذہن سیکیولرزم ہے اور اس طرح کی ذہنیت رکھنے والے لیڈروں کی کانگریس کو سخت ضرورت ہے ۔ سابق مرکزی وزیر دھننجے کمار بھی بی جے پی سے تعلق رکھتے تھے لیکن بی جے پی کے اندر ہورہی مخالف سازشوں اور ناپاک ارادوں سے مایوس ہوکر کانگریس میں شمولیت اختیار کی ہے اور آنے والے لوک سبھا انتخابات میں انہیں ٹکٹ دینا ہے یا نہیں اسکا فیصلہ اعلیٰ کمان کرے گا۔ جنوبی کینرا ضلع میں کانگریس مزید مضبوط ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ بنگلور میں اندرا کینٹن کھولے جانے کی وجہ سے بنگلور میں مزدوری او ر قلی کرنے والے لوگو ں کو بہت فائدہ ہوگا اور انہیں اب بھوکا رہنے کی نوبت نہیں آئے گی۔اس طرح کے کینٹن بہت جلد تمام اضلاع۔ تعلقہ جات اور گرام پنچایتوں میں شروع کئے جائیں گے اور اس کے لئے بڑی رقم کی ضرورت ہے ۔ جب حکومت نے اندرا کینٹن کے لئے 100کروڑ روپےئے جاری کی تو بی جے پی اور جے ڈی ایس نے ایک سیاسی چال بتایا تھا۔ حکومت ان طرح کی باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لے گی اور پیٹ بھرے لوگوں کو بھوک کا مطلب نہیں ہے۔ صرف دوماہ میں 101کینٹن کھولے گئے ہیں اور 2اکتوبر کو تمام 198وارڈوں میں کینٹن کھولے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ نے ان کی حکومت کو رشوت خور اور کئی بدعنوانیو ں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے اور مرکزی حکومت سے جاری کردہ فنڈ کے خرچ کے تعلق سے کئی سوالات کئے ہیں ۔اس کا جواب وہ ملزم امیت شاہ کو نہیں بلکہ ریاست کی عوام اور کرناٹک لجس لیٹیو کی دونو ں ایوانوں کو دینے کے لئے تیار ہیں ۔دوسری طرف ریاست سے مرکزی حکومت کو ہر سال انکم ٹیکس ، آبکاری ، سنٹرل ایکسائز اور دیگر ٹیکس کی صورت میں دو لاکھ گیارہ ہزار کروڑ روپےئے ملتے ہیں اور ریاست کو اپنا فنڈ وصول کرنے کا پورا من ہے ۔مگر مرکزی حکومت کرناٹک کو فنڈ جاری کرنے کے معاملہ میں سوتیلا پن رویہ اپنا رہی ہے۔