جدہ: ایماندار 'چور' نے نادر مال مسروقہ مالک کو لوٹا دیا

11:29AM Tue 8 Apr, 2014

بھٹکلیس نیوز08اپریل14 سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ سے تعلق رکھنے والے مُعمر سعید الغامدی کو کئی سال قبل کرنسی کے پرانے نوٹ اور نایاب سکے جمع کرنے کا شوق چرایا اور اس نے مختلف ملکوں کے پرانے سکوں کی تلاش شروع کر دی۔ اس مقصد کے لیے اس نے سعودی عرب سے باہر پاکستان اور دوسرے ملکوں کا بھی سفر کیا جہاں سےاس نے خطیر رقم خرچ کر کے سیکڑوں برس پرانے سکے جمع کیے۔ اپنے منفرد مشغلے کے دوران سعید کو کئی ناقابل یقین واقعات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ وہ واقعہ جو اس خبر کی بنیاد بنا وہ حال ہی میں پیش آیا ہے۔ سعید نے بتایا کہ ایک شخص اس سے پرانے کرنسی نوٹ اور سکے چھین کر لے گیا لیکن چند ہی دنوں میں واپس لوٹ آیا۔ معذرت کی اور سکے واپس کر دیے۔سعدی الغامدی نے اپنے شوق کی تکمیل کے لیے جدہ میں ایک دکان کھولی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نادر اور نہایت قیمتی سکوں کے ایک بڑے ذخیرے کے باوجود سعید نے اپنے دُکان کے لیے کوئی زیادہ حفاظتی انتظامات نہیں کیے۔ وہ اکثر نمائش کے لیے پرانے سکے اپنے دکان کے باہر ایک میز پر پھیلا دیتا جس کے نتیجے میں سکوں کے چوروں اور ڈاکوؤں کے ہاتھ لگنے کا بھی اندیشہ رہتا ہے۔ سعید نے بتایا کہ ایک دفعہ اس کی دکان کے سامنے ایک کار آ کر رُکی جس میں دو میاں بیوی سوار تھے۔ کار میں موجود شخص نے کہا کہ میں نے آپ کے پڑوسی سے سنا ہے کہ آپ کے پاس پرانے اور نایاب سکے ہیں۔ میں نے 'ہاں' میں جواب دیا۔ اس نے کہا کہ کیا آپ ہمیں وہ سکے دکھا سکتے ہیں؟ میرے ساتھ میری اہلیہ ہیں جو وہ سکے دیکھنے کا شوق رکھتی ہیں۔ میں نے سکوں کی ایک تھیلی اٹھائی اور دیکھنے کو انہیں دے دی۔ سکوں کی تھیلی پکڑتے ہی اس شخص نے کار بھگا دی۔ میں بھی اس کے پیچھے دوڑا لیکن وہ لمحوں میں آنکھوں سے اوجھل ہو گیا۔ چور کے ہاتھ لگنے والے سکوں میں خلافت عباسیہ کے دور کے دینار بھی تھے جن کی مجموعی مالیت سات ہزار ریال سے زیادہ تھی۔ اس واقعے کے چند دن بعد وہ شخص اپنی بیوی کے ہمراہ دوبارہ آیا۔ میں انہیں آسانی سے پہچان نہیں سکا۔ انہوں نے اپنا تعارف کرایا اور شوہر نے مجھ سے معذرت کرتے ہوئے لوٹے گئے سکے واپس کر دیے۔ مبینہ چور نے کہا کہ اسے رقم کی ضرورت تھی۔ میں نے پرانے سکے فروخت کے لیے ایک گاہک کو پیش کیے۔ مجھے اس کے عوض معقول رقم مل رہی تھی لیکن میرے ضمیر نے گوارا نہ کیا۔ اس لیے میں واپس لے آیا ہوں۔ سعید الغامدی کا کہنا ہے کہ میں نے چور کو نہ صرف معاف کر دیا بلکہ اس کی اہلیہ کو پرانے سکوں سے بنا ایک ہار اپنی طرف سے تحفے میں بھی دیا۔ سعید الغامدی کے ساتھ چوری کے اس واقعے کے بعد بھی وہ کوئی زیادہ محتاط نہیں ہوا۔ وہ اکثر مختلف نمائشوں کے دوران پرانی کرنسی کے سکوں کو کھلے فرش پر ڈال دیتا ہے۔ بعض اوقات ان کی مالیت 90 ہزار ریال سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔