بیلگاوی سیشن کے پہلے دن حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ حکومت پر کسانوں کے مسائل حل کرنے میں ناکامی کا الزام ۔ سیشن کے بعد ریاست بھر میں احتجاج کرنے بی جے پی کا فیصلہ
01:24PM Tue 11 Dec, 2018
بیلگاوی ؍بنگلورو۔11؍دسمبر (سالارنیوز) بیلگاوی میں آج اسمبلی سیشن کے آغاز کے دن ہی ریاستی مخلوط حکومت کو کسانوں کے احتجاجی مظاہرہ کا سامنا کرنا پڑا۔ سورنا سودھا کے باہر بی جے پی سے تعلق رکھنے والے کسانوں نے حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ بشمول گنے کے کاشتکار مختلف تنظیموں سے تعلق رکھنے والے کسانوں نے اس احتجاج میں حصہ لیا اور حکومت کے خلاف اپنے غم اور غصہ کا اظہارکیا۔ یہ احتجاج بی جے پی کی سرپرستی میں کیاگیا ، جس میں بی جے پی کے کئی ریاستی لیڈروں بی ایس ایڈی یورپا، شوبھا کرند لاجے ،گووند کرجول بھی شامل ہیں نے مظاہرین سے خطاب کیا۔ سورنا سودھا سے ایک کلو میٹر کی دوری پر کسانوں نے یہ احتجاج کیا۔ اس دوران حکومت کے خلاف مظاہرین نے نعرے بازی بھی کی۔ رواں سیشن کے بعد بھی اس احتجاج کو جاری رکھنے کا بی جے پی نے فیصلہ کیا ہے۔ بیلگاوی کے کے این ای گیسٹ ہاؤز میں سابق وزیراعلیٰ ایڈی یورپا کی صدارت میں منعقدہ بی جے پی کورکمیٹی کے اجلاس میں سیشن کے بعد بھی مخلوط حکومت کے خلاف ریاستی سطح پر احتجاج کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ ایوان میں بھی مختلف معاملات کو شدت سے اٹھانے کا فیصلہ کیا گیاہے۔
وزیراعلیٰ کو دھمکی: اس اجلاس کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے ایڈی یورپا نے کہاکہ وزیراعلیٰ کمار سوامی کو خوشیاں زیادہ ہوگئی ہیں۔ اس لئے وہ پارلیمانی طور طریقوں سے ہٹ کر باتیں کررہے ہیں۔ اپوزیشن لیڈروں کی وہ عزت نہیں کرتے۔ وہ تمام کو ایک ہی لکڑی سے ہانک رہے ہیں۔ بی جے پی کے احتجاج سے متعلق بھی انہوں نے غلط جملے استعمال کئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ کمار سوامی کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ عوام کو آسانی سے دستیاب ہونے والے وزیراعلیٰ ہیں، لیکن بنگلور میں ایک پانچ ستارہ ہوٹل میں بیٹھ کر سرکاری ملازمین کے تبادلوں کا کاروبار کررہے ہیں۔ جہاں عوام کی رسائی نہیں ہوتی، بیلگاوی میں بھی سرکاری گیسٹ ہاوز ہوتے ہوئے سورنا سودھا سے دور وی ٹی یو گیسٹ ہاوز میں قیام کیا ہے تاکہ لجس لیٹرس اور عوام ان تک نہ پہنچ سکیں۔ اس کے باوجود عوام کو آسانی سے دستیاب ہونے کا ان کا بیان حقیقت سے کوسوں دور ہے۔ ایک طرف بیلگاوی میں گنے کے کاشتکار اپنے بقیہ جات کی ادائیگی کا مطالبہ کرتے ہوئے سیشن کے آغاز ہی سے حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کررہے ہیں۔ دوسری جانب مختلف سیاسی پارٹیوں کے لیڈر بیلگاوی کی اہم شاہراہوں اور سرکلوں پر اپنے من پسند لیڈروں کے بڑے بڑے پوسٹرس اور کٹ آؤٹس لگاکر ان لیڈروں کا بیلگاوی سیشن میں خیر مقدم کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں جس کے سبب بیلگاوی میں تہوار جیسا ماحول نظر آرہا ہے۔