کیا بلقیس بانو اجتماعی عصمت دری اور ۱۴؍افراد کے قتل کا معاملہ صدمے کی سونامی نہیں تھا؟

07:04AM Mon 8 May, 2017

نربھیا معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر مولانا ندیم صدیقی کی اظہارِ تشویش ممبئی۔ (بھٹکلیس نیوز) دہلی کے نربھیا اجتماعی عصمت دری معاملے میں ملوث مجرموں کو سپریم کورٹ کی جانب سے پھانسی سزا برقرار رکھے جانے پر جہاں ایک جانب ملک میں عدلیہ پر اعتماد کا اظہار کیا جارہا ہے اور اس فیصلے کو حق بجانب قرار دیا جارہا ہے وہیں اس فیصلے سے کچھ ایسے سوالات بھی پیدا ہورہے جوانصاف کے دوہرے معیار کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یہ سوالات گجرات کی بلقیس بانوکے مقدمے میں سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے سامنے آیا ہے جس میں سی بی آئی کی جانب سے مجرموں کو سزائے موت دیئے جانے کا مطالبہ کیا گیا تھا مگر عدالت نے ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلے کو ہی برقرار رکھا جس میں مجرمین کو عمرقید کی سزا دی گئی تھی۔جبکہ بلقیس بانو کے مقدمے میں مجرمین اجتماعی عصمت دری کے ساتھ ساتھ ۱۴؍افراد کو قتل کرنے کے بھی مجرم ہیں۔ نربھیا معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر مولانا ندیم صدیقی جہاں خیرمقدم کرتے ہیں وہیں وہ بلقیس بانو کے مقدمے میں بھی اسی طرح کے فیصلے کی امید کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نربھیا اجتماعی عصمت دری کے ملزمین کسی بھی طرح رحم کے حقدار نہیں تھے اور عدالت نے ان کی پھانسی کی سزا کو برقرار رکھ کر حق وانصاف کے عین مطابق کام کیا ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ وہ یہ بھی سوال بھی کرتے ہیں اگر نربھیا کے مجرمین پھانسی کی سزا کے حقدار ہیں اور یقیناً ہیں تو کیا گجرات کی بلقیس بانو معاملے کے مجرمین سزائے موت کے حقدار نہیں ہیں جبکہ بلقیس بانو کا معاملہ نربھیا سے زیادہ سنگین ہے؟ انہوں نے کہا کہ مجرمین کو سزا کے تعین کے معاملے میں عدالتوں کا فیصلہ یکساں ہونا چاہئے تاکہ انصاف کا معیار متاثر نہ ہو۔ مگر بلقیس بانو کے معاملے دو روز قبل سپریم کورٹ کا جو فیصلہ آیا ہے اور نربھیا کے معاملے اسی عدالت نے جو فیصلہ دیا ہے ان دنوں مقدمات میں دو الگ الگ معیار سامنے آتے ہیں جو نہایت تشویشناک ہیں۔ مولانا ندیم صدیقی کے مطابق چونکہ یہ دونوں فیصلے ملک کی سب سے بڑی عدالت نے دیئے ہیں، اس لئے ہم لامحالہ دنووں کا خیرمقدم کرتے ہیں، مگر اسی کے ساتھ اگر ہم عدالتی فیصلے کا تجزیہ کرتے ہیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ بلقیس بانو کے معاملے میں بھی عدالت کو اسی طرح اس کی سنگینی کو پیشِ نظر رکھنا چاہئے تھا جس طرح نربھیا کے معاملے میں عدالت نے اسے’ صدمے کی سونامی‘ قرار دیا ہے۔ مارچ ۲۰۰۲ میں گجرات کے بلقیس بانو کے ساتھ جو کچھ ہوا تھا اور جس طرح اس کے اہلِ خانہ کے ۱۴؍افراد کو مجرمین نے زندہ جلادیا تھا، وہ بھی کسی صدمے کی سونامی سے کم نہیں تھا، یہ الگ بات ہے کہ بلقیس بانو ریاستی دہشت گردی کی شکار ہوئی تھی اور جس کی سربراہی میں ریاستی دہشت گردی کا برہنہ رقص کیا گیا تھا اس کے ہاتھ میں آج ملک کی باگ ڈور ہے۔ مولانا ندیم صدیقی نے کہا کہ میں عدالتی فیصلے پر سوالیہ نشان نہیں لگا رہا ہوں اور نہ ہی اس فیصلے پر کوئی تنقید کررہا ہوں، البتہ دونوں فیصلوں کا تجزیہ کرتے ہوئے مذکورہ بالا سوال پیدا ہوتا ہے اور یہ سوال صرف میرا ہی نہیں بلکہ ان تمام لوگوں کا ہے جن کا عدلیہ پر اعتماد قائم ہے۔ وہیں جمعیۃ علماء مہاراشٹر لیگل سیل کے سکریٹری ایڈووکیٹ تہور خان پٹھان نے بھی اس معاملے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ تشویش اس معاملے میں مزید شدید ہوجاتی ہے جب ہم بلقیس بانو کے مقدمے کی نوعیت اور اس کی سنگینی پر غور کرتے ہیں۔ بلقیس بانوکے معاملے میں ہم یہ امید کررہے تھے کہ عدالت سی بی آئی کی مطالبے پر غور کرتے ہوئے مجرمین کو پھانسی کی سزا دے گی مگر اس کے برخلاف ہائی کورٹ کے عمرقیدکے فیصلے کو ہی برقرار رکھا گیا۔ یہ مجرمین چند سالوں میں جیلوں سے رہا ہوجائیں گے۔ جبکہ اس معاملے میں ملوث تمام ملزمین بلا کسی رو رعایت کے سزائے موت کے مستحق تھے۔ بہر حال ہم عدلیہ کے فیصلے کا اس سوال کے ساتھ استقبال کرتے ہیں کہ کیا بلقیس بانو کا معاملہ نربھیا کے معاملے سے کم سنگین تھا؟ ہمارا یہ سوال عدلیہ پر کسی طرح کی تنقید کے بجائے بلقیس بانو کے مقدمے کی سنگینی کو واضح کرنے کے لئے ہے، جسے اب ہم ملک کے کروڑوں انصاف پسندوں کی عدالت میں پیش کرتے ہیں۔