مستعفی این مہیش کو کابینہ میں بحال رکھنے کے مقصد سے جے ڈی ایس قائدین مایاوتی کو منانے میں سرگرم
03:48PM Mon 15 Oct, 2018
بنگلور15؍اکتوبر( سالار نیوز)جے ڈی ایس پارٹی بہوجن سماج پارٹی ( بی ایس پی) کی سربراہ مایاوتی کو منانے پر آمادہ ہوگئی ہے۔بی ایس پی کے رکن اسمبلی این مہیش کو راضی نامہ واپس لینے کا دباؤ ڈالنے جے ڈی ایس قائدین مایاوتی کو منانے میں سرگرم ہوگئے ہیں ۔ این مہیش کے استعفیٰ نامہ سے ریاست کے دلت طبقات میں غلط پیغام جانے کا خدشہ اور ضمنی انتخابات میں برا اثر پڑنے کے خوف سے جے ڈی ایس قائدین متبادل سیاسی قوت ( تیسرے محاذ) کے لیڈروں کے ذریعہ مایاوتی کو مناکر این مہیش کو کابینہ میں بحال رکھنے کی حکمت عملی اپنا رہے ہیں ۔ اسمبلی انتخابات کے موقع پربی ایس پی سے اتحاد کے نتیجہ میں جے ڈی ایس کو بڑے پیمانے پر دلت ووٹ حاصل ہوئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ بی ایس پی سے جیت درج کرنے والے واحد ایم ایل اے کو کابینہ میں شامل کیا گیا تھا ۔ اب ان کے استعفیٰ سے دلت ووٹ بینک بکھرنے کاخوف جے ڈی ایس کو ستانے لگا ہے۔ مہیش کو کسی بھی صورت میں شامل کرنے پر غور ہورہا ہے اور کمار سوامی نے این مہیش کا استعفیٰ اب تک قبول بھی نہیں کیا ہے ، جے ڈی ایس کے سربراہ دیوے گوڈا نے تیسرے محاذ کے سرگرم لیڈر و آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ چندرا بابو نائیڈو سے فون پر مایاوتی کو منانے کی سفارش کی ہے ۔ این مہیش کے استعفیٰ سے ہونے والے منفی اثرات و دیگر عوامل پیش کرکے دیوے گوڈا نے نائیڈو کو منانے کی سفارش کی ہے ۔ اس ضمن میں ریاستی جے ڈی ایس صدر وشواناتھ کو چندرا بابو نائیڈو سے ملاقات کرنے کے مقصد سے آندھرا پردیش جانے کی ہدایت دی ہے ۔ دریں اثناء این مہیش استعفیٰ دینے کے بعد سے آج تک کسی بھی قائد کے رابطہ میں نہیں آرہے ہیں۔ان سے بات کرناممکن نہیں ہورہا ہے ۔ اس لئے جے ڈی ایس نے سوچا کہ بی ایس پی کی سربراہ سے بات چیت کے ذریعہ ہی یہ معاملہ حل ہوسکتا ہے ۔اس لئے مایاوتی کو منانے کی سرگرمی شروع کردی گئی ہے ۔ توقع کی جارہی ہے کہ دو تین دنوں میں این مہیش اپنا استعفیٰ واپس لے لیں گے ۔ اس بارے میں خود مایاوتی این مہیش کو ہدایت دیں گی۔