کرکٹ شہرت اور دولت کا دوسرا نام بن چکا ہے
02:08PM Thu 23 May, 2013
بھارت میں کرکٹ کا مقبول کھیل اس وقت تاریخ کے اب تک کے اپنے سب سے بد ترین دور سے گزر رہا ہے۔ آئی پی ایل کے میچوں میں سپاٹ فکسنگ کے واقعے نے کرکٹ کے شائقین کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ انڈین پریمئیر لیگ جب اپنے مقابلے کے آخری مراحل میں پہنچ رہی تھی اور جس وقت یہ مقایلہ ہر لمحے دلچسپ ہوتا جا رہا تھا اسی وقت دنیا کے اس عظیم کھیل پر قیامت ٹوٹ پڑی۔
کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ شری سنت جیسا قومی کھلاڑی پیسوں کی لالچ میں اپنے تماشائیوں اور اپنے کھیل کے ساتھ کبھی دغا کر سکتا ہے۔
اخبارات میں کل سے انتہائی تکلیف دہ اور افسردہ کرنے والی تصویریں شائع ہو رہی ہیں۔ شری سنت اور ان کے دو ساتھی کھلاڑیوں کو عام مجرموں کی طرح چہرے کو کپڑے سے ڈھکے ہوئے عدالت لے جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہی کھلاڑی کل تک کروڑوں دلوں کی دھڑکن بنے ہوئے تھے۔
پولیس اب تک ممبئی، دلی، احمدآباد، چنئی اور کوچین سے پندرہ سے زیادہ سٹے باووں کو گرفتار کر چکی ہے۔ کھیلوں میں سپاٹ فکسنگ کا یہ معاملہ دور تک پھیلا ہوا ہے اور پولیس مزید کئی میچوں کا جائزہ لے رہی ہے۔
کرکٹ کے کھیل میں کامیاب ہونا پریوں کی کہانیوں کی طرح ہے۔ کامیاب کرکٹ کھلاڑی انتہائی کم عمری مین نہ صرف یہ کہ بے پناہ مقبولیت اور عزت حاصل کر رہے ہیں بلکہ بہت سے کھلاڑی اربوں روپے کما رہے ہیں۔ بیشتر قومی کھلاڑی چند برس کے اندر اربوں روپے کما چکے ہوتے ہیں۔ کرکٹ شہرت اور دولت کا دوسرا نام بن چکا ہے۔
کرکٹ کی اصل دھارا میں جمے رہنے کے لیے کھلاڑیوں کو سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ ایک وقت تھا جب صرف دو ملکوں کے درمیان میچ ہوا کرتے تھے اور صرف ایک قومی ٹیم ہوا کرتی تھی۔
لیکن آئی پی ایل نے کرکٹ کی پوری دنیا ہی بدل دی ہے۔ اس میں آٹھ سے زیادہ ٹیمیں کھیل رہی ہیں۔ آئی پی ایل نے کرکٹ کو مقبولیت اور دولت کی نئی اونچائیوں پر پہنچا دیا۔ فلم سٹارز اور بڑے بڑے صنعت کار کھلاڑیوں کے مالک بن گئے۔ دولت کے ساتھ ساتھ اس میں گلیمر بھی شامل ہو گیا۔
چھوٹے چھوٹے دور دراز کے شہروں سے آئے ہوئے کامیاب کھلاڑی جن میں ابھی کچھ تو نوعمری سے ہی گزر رہے ہیں اچانک کروڑوں میں کھیلنے لگے۔ کرکٹ کا کھیل اپنی جگہ قائم رہا لیکن اب وہ دولت کے حصول کا محض ذریعہ بنتا گیا۔ کرکٹ کئی ہزار کروڑ روپے کا گیم بن گیا۔
BBC
بھارت میں کرکٹ کا مقبول کھیل اس وقت تاریخ کے اب تک کے اپنے سب سے بد ترین دور سے گزر رہا ہے۔ آئی پی ایل کے میچوں میں سپاٹ فکسنگ کے واقعے نے کرکٹ کے شائقین کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ انڈین پریمئیر لیگ جب اپنے مقابلے کے آخری مراحل میں پہنچ رہی تھی اور جس وقت یہ مقایلہ ہر لمحے دلچسپ ہوتا جا رہا تھا اسی وقت دنیا کے اس عظیم کھیل پر قیامت ٹوٹ پڑی۔
کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ شری سنت جیسا قومی کھلاڑی پیسوں کی لالچ میں اپنے تماشائیوں اور اپنے کھیل کے ساتھ کبھی دغا کر سکتا ہے۔
اخبارات میں کل سے انتہائی تکلیف دہ اور افسردہ کرنے والی تصویریں شائع ہو رہی ہیں۔ شری سنت اور ان کے دو ساتھی کھلاڑیوں کو عام مجرموں کی طرح چہرے کو کپڑے سے ڈھکے ہوئے عدالت لے جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہی کھلاڑی کل تک کروڑوں دلوں کی دھڑکن بنے ہوئے تھے۔
پولیس اب تک ممبئی، دلی، احمدآباد، چنئی اور کوچین سے پندرہ سے زیادہ سٹے باووں کو گرفتار کر چکی ہے۔ کھیلوں میں سپاٹ فکسنگ کا یہ معاملہ دور تک پھیلا ہوا ہے اور پولیس مزید کئی میچوں کا جائزہ لے رہی ہے۔
کرکٹ کے کھیل میں کامیاب ہونا پریوں کی کہانیوں کی طرح ہے۔ کامیاب کرکٹ کھلاڑی انتہائی کم عمری مین نہ صرف یہ کہ بے پناہ مقبولیت اور عزت حاصل کر رہے ہیں بلکہ بہت سے کھلاڑی اربوں روپے کما رہے ہیں۔ بیشتر قومی کھلاڑی چند برس کے اندر اربوں روپے کما چکے ہوتے ہیں۔ کرکٹ شہرت اور دولت کا دوسرا نام بن چکا ہے۔
کرکٹ کی اصل دھارا میں جمے رہنے کے لیے کھلاڑیوں کو سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ ایک وقت تھا جب صرف دو ملکوں کے درمیان میچ ہوا کرتے تھے اور صرف ایک قومی ٹیم ہوا کرتی تھی۔
لیکن آئی پی ایل نے کرکٹ کی پوری دنیا ہی بدل دی ہے۔ اس میں آٹھ سے زیادہ ٹیمیں کھیل رہی ہیں۔ آئی پی ایل نے کرکٹ کو مقبولیت اور دولت کی نئی اونچائیوں پر پہنچا دیا۔ فلم سٹارز اور بڑے بڑے صنعت کار کھلاڑیوں کے مالک بن گئے۔ دولت کے ساتھ ساتھ اس میں گلیمر بھی شامل ہو گیا۔
چھوٹے چھوٹے دور دراز کے شہروں سے آئے ہوئے کامیاب کھلاڑی جن میں ابھی کچھ تو نوعمری سے ہی گزر رہے ہیں اچانک کروڑوں میں کھیلنے لگے۔ کرکٹ کا کھیل اپنی جگہ قائم رہا لیکن اب وہ دولت کے حصول کا محض ذریعہ بنتا گیا۔ کرکٹ کئی ہزار کروڑ روپے کا گیم بن گیا۔
BBC
[:fa]بھارت میں کرکٹ کا مقبول کھیل اس وقت تاریخ کے اب تک کے اپنے سب سے بد ترین دور سے گزر رہا ہے۔ آئی پی ایل کے میچوں میں سپاٹ فکسنگ کے واقعے نے کرکٹ کے شائقین کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ انڈین پریمئیر لیگ جب اپنے مقابلے کے آخری مراحل میں پہنچ رہی تھی اور جس وقت یہ مقایلہ ہر لمحے دلچسپ ہوتا جا رہا تھا اسی وقت دنیا کے اس عظیم کھیل پر قیامت ٹوٹ پڑی۔
کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ شری سنت جیسا قومی کھلاڑی پیسوں کی لالچ میں اپنے تماشائیوں اور اپنے کھیل کے ساتھ کبھی دغا کر سکتا ہے۔
اخبارات میں کل سے انتہائی تکلیف دہ اور افسردہ کرنے والی تصویریں شائع ہو رہی ہیں۔ شری سنت اور ان کے دو ساتھی کھلاڑیوں کو عام مجرموں کی طرح چہرے کو کپڑے سے ڈھکے ہوئے عدالت لے جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہی کھلاڑی کل تک کروڑوں دلوں کی دھڑکن بنے ہوئے تھے۔
پولیس اب تک ممبئی، دلی، احمدآباد، چنئی اور کوچین سے پندرہ سے زیادہ سٹے باووں کو گرفتار کر چکی ہے۔ کھیلوں میں سپاٹ فکسنگ کا یہ معاملہ دور تک پھیلا ہوا ہے اور پولیس مزید کئی میچوں کا جائزہ لے رہی ہے۔
کرکٹ کے کھیل میں کامیاب ہونا پریوں کی کہانیوں کی طرح ہے۔ کامیاب کرکٹ کھلاڑی انتہائی کم عمری مین نہ صرف یہ کہ بے پناہ مقبولیت اور عزت حاصل کر رہے ہیں بلکہ بہت سے کھلاڑی اربوں روپے کما رہے ہیں۔ بیشتر قومی کھلاڑی چند برس کے اندر اربوں روپے کما چکے ہوتے ہیں۔ کرکٹ شہرت اور دولت کا دوسرا نام بن چکا ہے۔
کرکٹ کی اصل دھارا میں جمے رہنے کے لیے کھلاڑیوں کو سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ ایک وقت تھا جب صرف دو ملکوں کے درمیان میچ ہوا کرتے تھے اور صرف ایک قومی ٹیم ہوا کرتی تھی۔
لیکن آئی پی ایل نے کرکٹ کی پوری دنیا ہی بدل دی ہے۔ اس میں آٹھ سے زیادہ ٹیمیں کھیل رہی ہیں۔ آئی پی ایل نے کرکٹ کو مقبولیت اور دولت کی نئی اونچائیوں پر پہنچا دیا۔ فلم سٹارز اور بڑے بڑے صنعت کار کھلاڑیوں کے مالک بن گئے۔ دولت کے ساتھ ساتھ اس میں گلیمر بھی شامل ہو گیا۔
چھوٹے چھوٹے دور دراز کے شہروں سے آئے ہوئے کامیاب کھلاڑی جن میں ابھی کچھ تو نوعمری سے ہی گزر رہے ہیں اچانک کروڑوں میں کھیلنے لگے۔ کرکٹ کا کھیل اپنی جگہ قائم رہا لیکن اب وہ دولت کے حصول کا محض ذریعہ بنتا گیا۔ کرکٹ کئی ہزار کروڑ روپے کا گیم بن گیا۔
BBC
اچانک کروڑوں میں کھیلنے لگے
چھوٹے چھوٹے دور دراز کے شہروں سے آئے ہوئے کامیاب کھلاڑی جن میں ابھی کچھ تو نوعمری سے ہی گزر رہے ہیں اچانک کروڑوں میں کھیلنے لگے۔ کرکٹ کا کھیل اپنی جگہ قائم رہا لیکن اب وہ دولت کے حصول کا محض ذریعہ بنتا گیا۔ کرکٹ کئی ہزار کروڑ روپے کا گیم بن گیا۔
BBC
بھارت میں کرکٹ کا مقبول کھیل اس وقت تاریخ کے اب تک کے اپنے سب سے بد ترین دور سے گزر رہا ہے۔ آئی پی ایل کے میچوں میں سپاٹ فکسنگ کے واقعے نے کرکٹ کے شائقین کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ انڈین پریمئیر لیگ جب اپنے مقابلے کے آخری مراحل میں پہنچ رہی تھی اور جس وقت یہ مقایلہ ہر لمحے دلچسپ ہوتا جا رہا تھا اسی وقت دنیا کے اس عظیم کھیل پر قیامت ٹوٹ پڑی۔
کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ شری سنت جیسا قومی کھلاڑی پیسوں کی لالچ میں اپنے تماشائیوں اور اپنے کھیل کے ساتھ کبھی دغا کر سکتا ہے۔
اخبارات میں کل سے انتہائی تکلیف دہ اور افسردہ کرنے والی تصویریں شائع ہو رہی ہیں۔ شری سنت اور ان کے دو ساتھی کھلاڑیوں کو عام مجرموں کی طرح چہرے کو کپڑے سے ڈھکے ہوئے عدالت لے جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہی کھلاڑی کل تک کروڑوں دلوں کی دھڑکن بنے ہوئے تھے۔
پولیس اب تک ممبئی، دلی، احمدآباد، چنئی اور کوچین سے پندرہ سے زیادہ سٹے باووں کو گرفتار کر چکی ہے۔ کھیلوں میں سپاٹ فکسنگ کا یہ معاملہ دور تک پھیلا ہوا ہے اور پولیس مزید کئی میچوں کا جائزہ لے رہی ہے۔
کرکٹ کے کھیل میں کامیاب ہونا پریوں کی کہانیوں کی طرح ہے۔ کامیاب کرکٹ کھلاڑی انتہائی کم عمری مین نہ صرف یہ کہ بے پناہ مقبولیت اور عزت حاصل کر رہے ہیں بلکہ بہت سے کھلاڑی اربوں روپے کما رہے ہیں۔ بیشتر قومی کھلاڑی چند برس کے اندر اربوں روپے کما چکے ہوتے ہیں۔ کرکٹ شہرت اور دولت کا دوسرا نام بن چکا ہے۔
کرکٹ کی اصل دھارا میں جمے رہنے کے لیے کھلاڑیوں کو سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ ایک وقت تھا جب صرف دو ملکوں کے درمیان میچ ہوا کرتے تھے اور صرف ایک قومی ٹیم ہوا کرتی تھی۔
لیکن آئی پی ایل نے کرکٹ کی پوری دنیا ہی بدل دی ہے۔ اس میں آٹھ سے زیادہ ٹیمیں کھیل رہی ہیں۔ آئی پی ایل نے کرکٹ کو مقبولیت اور دولت کی نئی اونچائیوں پر پہنچا دیا۔ فلم سٹارز اور بڑے بڑے صنعت کار کھلاڑیوں کے مالک بن گئے۔ دولت کے ساتھ ساتھ اس میں گلیمر بھی شامل ہو گیا۔
اچانک کروڑوں میں کھیلنے لگے
چھوٹے چھوٹے دور دراز کے شہروں سے آئے ہوئے کامیاب کھلاڑی جن میں ابھی کچھ تو نوعمری سے ہی گزر رہے ہیں اچانک کروڑوں میں کھیلنے لگے۔ کرکٹ کا کھیل اپنی جگہ قائم رہا لیکن اب وہ دولت کے حصول کا محض ذریعہ بنتا گیا۔ کرکٹ کئی ہزار کروڑ روپے کا گیم بن گیا۔
BBC
[:fa]بھارت میں کرکٹ کا مقبول کھیل اس وقت تاریخ کے اب تک کے اپنے سب سے بد ترین دور سے گزر رہا ہے۔ آئی پی ایل کے میچوں میں سپاٹ فکسنگ کے واقعے نے کرکٹ کے شائقین کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ انڈین پریمئیر لیگ جب اپنے مقابلے کے آخری مراحل میں پہنچ رہی تھی اور جس وقت یہ مقایلہ ہر لمحے دلچسپ ہوتا جا رہا تھا اسی وقت دنیا کے اس عظیم کھیل پر قیامت ٹوٹ پڑی۔
کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ شری سنت جیسا قومی کھلاڑی پیسوں کی لالچ میں اپنے تماشائیوں اور اپنے کھیل کے ساتھ کبھی دغا کر سکتا ہے۔
اخبارات میں کل سے انتہائی تکلیف دہ اور افسردہ کرنے والی تصویریں شائع ہو رہی ہیں۔ شری سنت اور ان کے دو ساتھی کھلاڑیوں کو عام مجرموں کی طرح چہرے کو کپڑے سے ڈھکے ہوئے عدالت لے جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہی کھلاڑی کل تک کروڑوں دلوں کی دھڑکن بنے ہوئے تھے۔
پولیس اب تک ممبئی، دلی، احمدآباد، چنئی اور کوچین سے پندرہ سے زیادہ سٹے باووں کو گرفتار کر چکی ہے۔ کھیلوں میں سپاٹ فکسنگ کا یہ معاملہ دور تک پھیلا ہوا ہے اور پولیس مزید کئی میچوں کا جائزہ لے رہی ہے۔
کرکٹ کے کھیل میں کامیاب ہونا پریوں کی کہانیوں کی طرح ہے۔ کامیاب کرکٹ کھلاڑی انتہائی کم عمری مین نہ صرف یہ کہ بے پناہ مقبولیت اور عزت حاصل کر رہے ہیں بلکہ بہت سے کھلاڑی اربوں روپے کما رہے ہیں۔ بیشتر قومی کھلاڑی چند برس کے اندر اربوں روپے کما چکے ہوتے ہیں۔ کرکٹ شہرت اور دولت کا دوسرا نام بن چکا ہے۔
کرکٹ کی اصل دھارا میں جمے رہنے کے لیے کھلاڑیوں کو سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ ایک وقت تھا جب صرف دو ملکوں کے درمیان میچ ہوا کرتے تھے اور صرف ایک قومی ٹیم ہوا کرتی تھی۔
لیکن آئی پی ایل نے کرکٹ کی پوری دنیا ہی بدل دی ہے۔ اس میں آٹھ سے زیادہ ٹیمیں کھیل رہی ہیں۔ آئی پی ایل نے کرکٹ کو مقبولیت اور دولت کی نئی اونچائیوں پر پہنچا دیا۔ فلم سٹارز اور بڑے بڑے صنعت کار کھلاڑیوں کے مالک بن گئے۔ دولت کے ساتھ ساتھ اس میں گلیمر بھی شامل ہو گیا۔
اچانک کروڑوں میں کھیلنے لگے
چھوٹے چھوٹے دور دراز کے شہروں سے آئے ہوئے کامیاب کھلاڑی جن میں ابھی کچھ تو نوعمری سے ہی گزر رہے ہیں اچانک کروڑوں میں کھیلنے لگے۔ کرکٹ کا کھیل اپنی جگہ قائم رہا لیکن اب وہ دولت کے حصول کا محض ذریعہ بنتا گیا۔ کرکٹ کئی ہزار کروڑ روپے کا گیم بن گیا۔
BBC