’الیکٹورل بانڈس‘ معاملہ پر مودی حکومت کٹہرے میں، سپریم کورٹ نے کی سرزنش

03:46PM Thu 11 Apr, 2019

الیکٹورل بانڈس پر سپریم کورٹ میں مودی حکومت کو زبردست سُبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ملک کی سب سے بڑی عدالت نے آج (جمعرات) کہا کہ الیکٹورل بانڈس کے ذریعہ کالے دھن پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ مودی حکومت کی کالے دھن پر لگام لگانے کی کوشش کی شکل میں الیکٹورل بانڈس کی کوششیں پوری طرح بے کار ہیں۔
سپریم کورٹ نے الیکٹورل بانڈس پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے کالے دھن کو سفید کرنے کا طریقہ قرار دیا۔ عدالت نے کہا کہ جس طرح سے الیکٹورل بانڈس کی فروخت کو لے کر بینکوں کو کوئی جانکاری نہیں دی جا رہی ہے، اس سے لگتا ہے کہ کالے دھن کو سفید کرنے میں اس کا استعمال ہو رہا ہے۔ سپریم کورٹ جمعہ کے روز اس معاملے میں اپنا فیصلہ سنائے گا۔
 اس معاملے کی سماعت چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی بنچ کر رہی ہے۔ چیف جسٹس گوگوئی نے اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال سے پوچھا کہ کیا الیکٹورل بانڈس خریدنے والے کی جانکاری بینک کے پاس ہے؟ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’’ہاں، کے وائی سی کے سبب ایسا ہے۔ حالانکہ خریدار کی شناخت خفیہ رکھی جاتی ہے اور مہینے کے آخر میں اس کی جانکاری مرکزی فنڈ کو دی جاتی ہے۔‘‘ جواب سن کرچیف جسٹس آف انڈیا نے پوچھا کہ ’’ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ جب بینک ایک الیکٹورل بانڈس ’ایکس‘ یا ’وائی‘ کو جاری کرتا ہے تو بینک کے پاس اس بات کی تفصیل ہوتی ہے کہ کون سا بانڈ ’ایکس‘ اور کون سا بانڈ ’وائی‘ کو جاری کیا جا رہا ہے؟‘‘ اس کا جواب اٹارنی جنرل کے پاس نہیں تھا۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو کالے دھن کے خلاف لڑائی کی یہ کوشش پوری طرح سے بے کار ہے۔
اس سلسلے میں سنجیو کھنہ کا کہناتھا کہ جس کے وائی سی کی بات اٹارنی جنرل کر رہے ہیں وہ صرف خریدار کی پہچان ہے۔ یہ پیسے کی اصلیت یا سرٹیفکیٹ نہیں ہے کہ یہ دھن کالا ہے یا سفید۔ دوسری طرف سپریم کورٹ کے سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے کہا کہ الیکٹورل بانڈ اسکیم میں کالے دھن پر روک لگانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ سیاسی پارٹیوں کو گمنام طریقے سے پیسے دینے کا یہ ایک نیا چینل ہے۔ پرشانت بھوشن نے کہا کہ اب نقدی میں بھی سیاسی پارٹیوں کو چندہ دیا جا سکتا ہے۔ الیکٹورل بانڈس سے سب سے زیادہ پیسہ برسراقتدار پارٹی بی جے پی کو ملا ہے۔ پرشانت بھوشن نے اس پر بھی سوال اٹھائے۔ انھوں نے کہا کہ 220 کروڑ کے الیکٹورل بانڈس میں سے 210 کروڑ روپے برسراقتدار پارٹی کو ملے ہیں۔