بیدر شہر میں امیرِ شریعت کرناٹک مولانا مفتی اشرف علی باقوی ؒ کی رحلت پر ایک تعزیتی و دعائیہ اجلاس کا انعقاد

03:14PM Mon 11 Sep, 2017

بیدر شہر کے دینی ‘ملی‘ سماجی ‘تعلیمی اور مُختلف سیاسی جماعتوں کے ذمہ داران شریک رہے اور تعزیت پیش کی  بیدر۔(بھٹکلیس نیوز ) آج بیدر شہرکی معروف دینی درسگاہ مدرسہ تعلیم القرآن للبنات نورخان تعلیم بیدر میں امیرِ شریعت کرناٹک مولانا مفتی اشرف علی باقوی ؒ کی رحلت پر ایک تعزیتی و دعائیہ اجلاس کا انعقاد عمل میں آیا۔جس کی صدارت مولانا شاکر حسین رشادی نے فرمائی۔بیدر شہر کے دینی ‘ملی‘ سماجی ‘تعلیمی اور مُختلف سیاسی جماعتوں کے ذمہ داران شریک رہے ۔اس موقع پر مولانا کے شاگرد مولانا محمدفہیم الدین رشادی نے مولانا کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ مولانا مفتی محمد اشرف علی باقوی ؒ کئی صفات کے حامل شخصیت تھے ان کی رحلت سے اُمتِ مسلمہ کا بڑا خسارہ ہوا ہے اور بالخصوص کرناٹک کے مسلمانوں کا بڑا خسارہ ہوا ہے۔انھوں نے ملت کے مسائل حل کرنے اور ملت کے مفادت کے تحفظ کیلئے کوشاں و ساعی رہے اور ملی قائدین و کارکنان کو ان کی جانب متوجہ فرماتے اور مسلسل کوشش و جدوجہد کی ترغیب فرمایا کرتے تھے۔ مولانا مرحوم اتحادِملت کے عظیم داعی بھی تھے ‘مولانا با کمال خطیب‘ شاعر و ادیب بھی تھے ‘مرحوم کی دینی ملی‘ علمی‘ و ادبی شخصیت ایک انوکھے انداز کی حامل تھی۔مولانا کے جامعہ سبیل الرشاد بنگلور جہاں سے ہندوستان بھر سے طلباء دینی علوم کے حصول کیلئے آتے ہیں اور یہاں کے فارغ التحصیل طلباء ملک و بیرون ممالک میں دینی علوم کی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔مولانا اشرف علی باقوی صاحب امیرِ شریعت کرناٹک آل انڈیا ملی کونسل کے نائب صدر ‘اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن عاملہ تھے ‘اس کے علاوہ کئی اداروں سے مولانا محمد اشرف علی باقوی صاحب کی وابستگی تھی۔مدرسہ مدنۃ العلم میں حفظِ قُرآن کی تکمیل کے بعد جامعہ باقیات الصالحات ویلور سے عالمیت کی سند حاصل کی اور دارلعلوم دیوبند سے فضیلت و افتاء کا کورس مکمل کیا۔مولانا موصوف کے والد علامہ شاہ ابوالسعود احمد باقوی جو بانی و مہتمم سبیل الرشاد بنگلور خلیفہ حضرت مولانا سعید صاحبؒ اور خلیفہ حضرت حکیم الامت اشرف علی تھانوی تھے اور مولانا مرحوم اپنے والد کے ہاتھوں بیعت تھے اور خلافت بھی دی گئی تھی۔ اور مولانا کُل ہند فقہ اکاڈیمی کے نائب صدر ‘رابطہ ادب اسلامی کرناٹک کے صدر‘مدرسہ داودیہ ایروڈ کے ناظر‘ مدرسہ اشرف العلوم میسور کے صدرر تھے۔مولانا محمد فہیم الدین رشادی صاحب نے اپنا ارادہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے استاد محترم کی سوانح عمری لکھیں گے۔اس موقع پر رابطہ ملت بیدر ضلع کے صدر مولانا عبدالوحید قاسمی نے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ مولانا اشرف علی باقوی صاحب ؒ نہایت ہی مشفق اور نرم مزاج اور نہایت ہی قابل ترین شخصیت تھے ‘ان کی دینی ملی خدمات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ۔مرحوم نے ریاستِ کرناٹک کے مسلمانوں کیلئے ہمیشہ فکر مند رہتے تھے ۔مولانا نے کئی ایک موقعوں پر ملت کی فلاح و بہبود کیلئے مفید مشوروں دیتے تھے ۔دینی طلباء اور علماء کی بڑی عزت کرتے تھے ۔مولانا عبدالغنی خان صدر جمعیت علماء بیدر نے بھی تعزیت پیش کرتے ہوئے مولانا مرحوم کے اوصاف اور ان کے کارناموں کو پیش کیا ۔اس موقع پر جناب محمد آصف الدین سکریٹری وزڈم ادارہ جا بیدر نے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ مولانا مرحوم کے شاگردوں کی جانب سے تعزیتی و دعائیہ اجلاس کا انعقاد کرکے تمام شعبہ جات کے معززین کو ایک جگہ جمع کیا اور مولانا مرحوم کی تعزیت کا موقع دیا ۔ جناب سید ذوالفقار ہاشمی سابق رکن بلدیہ بیدر نے مولانا مفتی محمد اشرف علی باقویؒ سے اپنے دیرینہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے چند واقعات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ مولانا دینی معاملات کے علاوہ سیاسی اعتبار سے ملت کادرد و بھلائی کیلئے بہت ہی دراندیش سوچ رکھتے تھے۔مولانا مرحوم نے ہمیشہ کرناٹک کے سیاست دانوں کو ملت کے درد کااحساس دلاتے رہے اور ملت کی تڑپ ان میں بہت زیادہ تھی ۔الحاج ڈاکٹر عبدالقدیر سکریٹری شاہین ادارہ جات بیدر تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مولانا مفتی محمد اشرف علی باقوی صاحب سے 1982سے تعلقات رہے ہیں ۔مولانا مرحوم نے ہماری دعوت پر کئی مرتبہ بیدر کا دورہ کیا ۔اور مولانا محترم نے اصلاحِ معاشرہ سے متعلق بہت زیادہ تڑپ رکھتے تھے ۔بیدر کے دینی مدارس کی فکر کیا کرتے تھے۔خصوصی طورپر مدینۃ العلوم بیدر کی انھیں بڑی فکر تھی ۔ڈاکٹرعبدالقدیر سکریٹری شاہین ادارہ جات بیدر نے مولانا کے ساتھ ان کی ملاقات کے دوران کئی ایک واقعات کو سامنے رکھا ۔مولانا مفتی غلام یذانی اشاعتی صدر جمعیت علماء ہند ضلع بیدر نے اپنے تعزیتی خطاب میں بتایا کہ مولانا کا شمار ہندوستان عظیم علماء میں ہوتا ہے۔دینی معاملات کے علاوہ سیاست اور حالات پر ان کی گہری نظر تھی ۔گُلشنِ علم و ادب کے گُل و فراست کو آب اجل نے نوش کرلیا مگر اس دریا سے پیدا شدہ اخلاق کے بادل ہر ایک کے آفاق ذہن پر منتشر ہیں ۔شمع فن تقریر و تحریر کو شعلہ موت کی پھونک نے بجھادیا مگر اس کے اجالے ہندوستان بھر میں جلوہ افروز ہیں ‘مولانا مرحوم کی ذات بہت ساری خوبیوں کی مالک تھی ‘مگر وہ خوبیاں جو لوگوں کے اذہان پر اپنے نقوش چھوڑ گئیں وہ یہ تھیں عجز و انکساری‘ بصیرت دینی و سیاسی‘علم اور فراست ان چارو ں امتزاج سے علامہ کی شخصیت ایک ممتاز مقام رکھتی تھی ۔صدر جلسہ مولانا محمد شاکر حسین رشادی نے اپنی تعزیت میں کہا کہ مولانا مرحوم کا وصال پوری ملتِ اسلامیہ کا ناقابلِ تلافی نقصان ہے مادرِ علمی دارالعلوم سبیل الرشاد ہم ابنائے دارلعلوم سبیل الرشاد کیلئے ایک بڑا ہی عظیم سانحہ ہے‘ حضرت والا کی شفقت ‘آپ کی توجہات آپ کی مستجاب دعائیں ہمارے لئے قیمتی سرمایہ ہے ۔مولانا ایک عظیم شخصیت مجموعہ کمالات تھی‘ آپ ایک عظیم مفکر ‘بزرگ عالم ‘مؤقر فقیہ اور عظیم محدث تھے ‘ملت کا درد ہمیشہ دل میں کوٹ کوٹ کربھرا ہوا تھا ہمیشہ ملت کے مسائل کو لے کر متفکر رہتے اور آپ ہمیشہ مُختلف ادارہ جات جنھیں حضرت والا کی سربراہی اور سرپرستی حاصل تھی۔ آخر میں مولانا مفتی محمد فہیم الدین رشادی کی تعزیتی دعا پر جلسہ کا اختتام عمل میں آیا۔جلسہ میں تعزیتی اجلاس کا آغاز ماہین طالبہ مدرسہ تعلیم القرآن للبنات نورخان تعلیم بیدر کی قُراء ت کلام پاک سے ہوا ‘الحاج محمد شفیع الدین نے نعت شریف پڑھی‘ اور ‘بشری ضیا ‘ عضمی‘ماہین طالبات مدرسہ تعلیم القرآن للبنات نورخان تعلیم بیدر نے ترانہ سبیل الرشاد ترنم کے ساتھ پیش کیا ۔تعزیتی اجلاس میں شرکت کرنے وا لے معززین شہر مولانا عبدالوحید قاسمی خطیب مسجد محمو دگاوان ‘ مولانا عبدالغنی خان خطیب عیدگاہ بیدر ‘مولانا مفتی غلام یزدانی اشاعتی خطیب جامع مسجد بیدر‘مولانا مفتی فہیم الدین رشادی خطیب مسجد فرش پورہ بیدر‘مولانا حافظ عبدالحکیم‘مولانا اسمعیل کاظم‘ڈاکٹر عبدالقدیر سکریٹری شاہین ادارہ جات بیدر‘محمد آصف الدین سکریٹری وزڈم ادارہ جات بیدر‘عبدالمنان سیٹھ صدر شاہین ادارہ جات بیدر ‘محمد نظام الدین امیر مقامی جماعت اسلامی ہندبیدر سید ذوالفقار ہاشمی سابق رکن اسمبلی بیدر‘ سید منصور احمد قادری انجینئر صدر کُل ہند مجلس اتحا دالمسلمین شاخ بیدر‘اختر محی الدین مؤظف ایکزیٹیو انجینئر ‘محمد واجد مؤظف منیجر اسٹیٹ بنک آف حیدرآباد‘الحاج محمد ایاز الحق مالک کرناٹک چھالیہ اسٹور‘ محمد ظفر اُللہ خان ‘الحاج محمد جاوید کلا س ون کنٹراکٹر‘سید مدثر حسین مالک سید میٹل ورکس‘محمد فراست علی ایڈوکیٹ صدر کاروان ادب و رحمت عالم کمیٹی‘محمد غوث قریشی سابق رکن بلدیہ بیدر‘اور محمد امین نواز صحافی شامل ہیں ۔