وقف بورڈ کے انتخابات بہت جلد کرائے جائیں گے : تنویرسیٹھ
02:38PM Tue 9 May, 2017
بنگلور:(بھٹکلیس نیوز) کرناٹک کے وزیر اوقاف جناب تنویرسیٹھ نے ایک اخباری بیان جاری کرکے بتایا کہ ریاستی وقف بورڈ کے انتخابات کے سلسلے میں سابق مرکزی وزیر وراجیہ سبھا رکن جناب رحمن خان صاحب نے اُردو اخبارات میں جو اخباری بیان جاری کیا ہے ا س کی میں وضاحت پیش کرنا چاہتا ہوں۔ ریاستی وقف بورڈ کی معیاد19اگست2016کو ختم ہوئی ۔وقف ایکٹ2013میں ترمیم کرکے شائع ہونے کے بعد نئے ضوابط بنا نے کی ضرورت تھی لیکن وقف ایکٹ ترمیم ہونے کے تین چار سال بعد بھی وقف کے نئے ضوابط حکومت کرناٹک سے نہیں بنائے گئے جیسے ہی میں نے وقف کا قلمدان سنبھا لا فوراً وقف ضوابطہ مرتب کرنے کیلئے ایک اعلیٰ سطح کمیٹی بنائی ۔ اس کمیٹی نے وقف ضوابط مرتب کئے۔ اس کو ڈرافٹ کی شکل میں کرناٹک حکومت کے گیزٹ میں نوٹی فائی کرکے اس میں اگر کوئی اعتراض یا مشورے ہوں تو ایک ماہ اکے اندر مینارٹی ویلفیر ڈپارٹمنٹ کو پیش کرنے کیلئے وقت دیا گیا۔ اس سلسلے میں ریاستی عوام سے بہت سے مشورے بھی آئے ۔ جو بھی صلح ومشورے قبول ہوئے ۔ اس کے بارے میں جانچ کرنے کے لئے کمیٹی نے پھر سے میٹنگ کی اور کرناٹک وقف بورڈ ضوابطہ کی مکمل شکل تکمیل کے آخری مراحل میں ہے اور انشاء اللہ یہ بہت جلد شائع بھی ہوجائے گی۔ہندوستان میں کرناٹک پہلی ریاست ہے جس نے نئے وقف ایکٹ کے تحت وقف ضوابطہ مرتب کئے۔ اور وقف بورڈ میں الیکشن کس طرح سے کرائے جائیں ۔ اس کا مکمل تفصیل اس میں دی گئی ہے اگر وقف ضوابطے کے بغیر ریاستی وقف بورڈ کے الیکشن نہیں کروائے گئے تو الیکشن کے بعد اگر کس نے عدالت میں اپیل داخل کردے تو اسٹے ہونے کا اندیشہ بھی تھا ۔ اس لئے میں نے دور اندیشی سے کام کرتے ہوئے وقف ضوابط مرتب کرنے کے لئے پہل کی ۔وقف ضوابط کو مرتب کرنے کیلئے قانونی طور سے کم سے کم 6ماہ کا وقفہ ضروری ہے نہ کہ ایک دو ماہ کا وقفہ میں نے کبھی بھی اس کو بہانے بنانے کی کوشش نہیں کی بلکہ پورے لگن اور محنت سے وقف بورڈ کے لئے انتخابات کروانے کی کوشش میں لگاہوں ۔ اس بارے میں میں خود دو تین مرتبہ جناب رحمن خان صاحب سے تبدلہ خیال کر چکا ہوں ۔ ریاست میں قبرستانوں کو حصار بندی اور مسجدوں ، مدرسوں ، درگاہوں، اور دیگر وقف جائیداد کے تحفظ کیلئے رواں سال (2016-17) میں کل 85کروڑ روپئے کا ریکارڈ گرانٹ جاری کیا ہے وقف گرانٹ منظوری کیلئے صاف اور شفاف طریقہ کار کو اپنا یا گیا ہے۔ بنگلورو اور گلبرگہ ڈیوشن کیلئے وقف ٹرینبل قائم کیا گیا ہے اور ان دو وقف ٹرینبل کے ذریعہ بیلگام اور میسور میں بھی عوام کی سہو لیت کیلئے کار گزاری کی جائے گی۔ ریاستی اور ضلع سطح پر وقف جائیدا د کے تحفظ اور وقف جائیداد کے دستاویزات کو درست کرانے کے لئے ضلع سطح پر ڈپٹی کمشنر اور ریاستی سطح چیف سکریڑی کے چیرمین شپ میں کمیٹی قائم کی گئی ہے جس سے وقف جائیداد کا تحفظ بھی ہوگا۔ ایک لاکھ سے زیادہ آمدنی والے وقف اداروں کو اور طاقت وار بنا کر اس سے وقف ادارہ کو آمدنی میں اضافہ کرنے کیلئے ضروری تدابیر کئے گئے ہیں۔ جس سے بہت سے اداروں کو فائدہ ہوا ہے۔