شرمندگی اور ذلت کے ساتھ ستیہ نارائن راؤ ریٹائرڈ ہوگئے

03:00PM Wed 2 Aug, 2017

بنگلور( بھٹکلیس نیوز ):۔ محکمۂ جیل خانہ کے سابق ڈائرکٹرجنرل آف پولیس ( ڈی جی پی ) ایچ ایس ستیہ نارائن آج ریٹائرڈ ہوگئے اور ان کی وظیفہ یابی شرمندگی اور ذلت کے ساتھ ختم ہوئی ۔انہیں پولیس ہیڈ کوارٹرس سے وظیفہ یانی کی سند لینے کے لئے آتے وقت ان کے چہرے پر مایوسی اور شرمندگی صاف طور پر جھلک رہی تھی اور انہوں نے صحافیوں سے بات کرنا پسند نہیں کیا اور کار میں سوار ہوکر نکل پڑے۔ محکمۂ جیل خانہ کی ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس ( ڈی آئی جی ) ڈی روپا نے گذشتہ ماہ 16 جولائی کو پرپنااگراہار سنٹرل جیل میں اے آئی اے ڈی ایم کے پارٹی کی جنرل سکریٹری وی کے ششی کلا کو دو کروڑ روپےئے رشوت لیکر شاہی مہمان نوازی اور کئی سہولیات فراہم کرانے کا الزام سیتہ نارائن راؤ پر لگایا تھا۔اس کے علاوہ جعلی اسٹامپ کاغذات گھوٹالہ کے اہم ملزم کریم لالہ تیلگی کو بھی رشوت لیکر کئی جدید سہولیات کا الزام لگا کر حکومت کو ایک تفصیل رپورٹ پیش کی تھی۔ اس رپورٹ میں کئی باتوں کا انکشاف بھی کیا گیا تھا۔ اس رپورٹ کے بعد محکمۂ پولیس میں ایک طرح سے کھلبلی مچ گئی تھی۔حکومت نے سیتہ نارائن راؤ کو زبردستی چھٹی پر بھیج دیا تھا اور کوئی پوسٹنگ نہیں دکھائی تھی۔ روپا کو تبادلہ کرکے انہیں ٹرافک اور روڈ سیفٹی کا کمشنر بنایا گیا۔ سیتہ نارائن راؤ کی چھٹی وظیفہ یابی کے طور پر ختم ہوئی۔ سیتہ نارائن راؤ نے ان کی بے عزتی کرنے پر روپا سے تین دنوں کے اندر معافی طلب کرنے کے لئے نوٹس جاری کی تھی اور اعلان کیا تھا کہ اگر روپا نے معافی طلب نہیں کی تو 50کروڑ روپیوں کا ہتک عزت مقدمہ دائر کیا جائے گا۔ روپا نے معافی طلب کرنے سے صاف طور پر انکار کردیا اور سیتہ نارائن راؤ نے ابھی تک ہتک عزت مقدمہ دائر نہیں کیا۔