امریکہ : مسلمان ہونے کی وجہ سے کنبہ کو طیارہ سے اتارا گیا ، یونائیٹڈ ائیر لائنس چوطرفہ تنقید کی زد میں
11:28AM Sun 3 Apr, 2016
لندن : امریکہ میں عربوں اور مسلمانوں کے ساتھ ہتک آمیز سلوک کے تازہ ترین واقعہ کے تحت یونائٹیڈ ایرلائنس نے ایک مسلم خاندان کو مبینہ طور پر محض مسلمان ہونے کی وجہ سے طیارے سے اتار دیا ۔اس واقعہ کے بعد سوشل میڈیا پر ائیرلائنس کی چوطرفہ تنقید کی جارہی ہے۔ ڈیلی میل میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق عرب امریکی شہری ایمان سعد شبلی نے الزام لگایا ہے کہ انہیں ، ان کے شوہر اور تین بچوں کو مسلمان ہونے کی وجہ سے طیارے سے اترنے کے لئے کہا گیا۔
ایمان شبلی نے اس واقعہ کی ویڈیو اپنے فیس بک پیج پر اپ لوڈ کرکے لکھا ہے کہ یہ واقعہ 20مار چ کو اس وقت پیش آیاجب وہ اپنے خاندان کے ساتھ چھٹیاں منانے کے لئے شکاگو سے واشنگٹن ڈی سی جارہی تھیں۔
یمان نے فضائی کمپنی کو مخاطب کر تے ہوئے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہےامریکن ایئرلائنز تمہیں شرم آنی چاہیے کہ تم نے بنا کسی سبب کے مجھے اور میرے گھروالوں کو (نسلی) امتیاز کا نشانہ بنایا۔ اس کی وجہ ہمارے حلیے کے سوا کچھ نہ تھا۔ ہمیں "فلائٹ سیکورٹی ایشوز" کی بنیاد پر واشنگٹن جانے والی پرواز سے باہر نکال دیا گیا جہاں ہم بچوں کی موسم بہار کی چھٹیاں گزارنے جا رہے تھے۔ میرے تینوں بچے اس (بھیانک) تجربے سے گزرنے کے حوالے سے ابھی بہت چھوٹے ہیں"۔
انہوں نے بتایا کہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب انہوں نے اپنے چھوٹے بچے کے لئے چائلڈ بوسٹر سیٹ کے لئے ایک اضافی بیلٹ مانگی۔لیکن ایئر ہوسٹس نے مطلوبہ بیلٹ لانے کے بجائے ایمان اور اس کے شوہر کو کپتان کا یہ پیغام پہنچایا کہ وہ بچوں کو لے کر طیارے سے چلے جائیں۔ جب بات زیادہ بڑھی تو کپتان نے خود آ کر انہیں اپنا حکم سنا دیا۔
اس موقع پر شوہر اور بیوی نے بالخصوص ایمان نے کپتان سے وجہ پوچھتے ہوئے سوال کیا کہ "کیا یہ نسلی امتیاز ہے، یا پھر اس لیے کہ ہم.."، ماں نے یہ جملہ مکمل نہیں کیا تاہم کپتان جملے کے بقیہ حصے کو سمجھ گیا اور جواب دیا کہ " نہیں، اس کی وجوہات کا تعلق پرواز کی سیکورٹی سے ہے"۔ تاہم کپتان نے اس خطرے کی تفصیل نہیں بتائی جو ان پانچ مسافروں سے جن میں تین بچے بھی تھے، اس پرواز کی سیکورٹی کو پہنچ سکتا تھا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر سرگرم حلقوں نے لبنانی ماں کے جذبات کو ہزاروں کی تعداد میں شیئر کیا کیوں کہ اس کو ٹوئیٹر پر بھی "ہیش ٹیگ" کردیا گیا تھا۔ علاوہ ازیں ایمان نے اپنے فیس بک پیج پر 250 دوستوں اور 3473 فالوورز سے جہاز کے اندر موبائل سے بنائی گئی وڈیو پھیلا دینے کی درخواست کی۔ جمعرات کے روز یوٹیوب" پر اپ لوڈ کیے جانے کے بعد سے اس ویڈیو کو ابھی تک 27 لاکھ افراد دیکھ چکے ہیں۔ مذکورہ عرب خاندان کے ساتھ پیش آنے والے اس واقعے کی ابھی تک کوئی منطقی وجہ سامنے نہیں آ سکا ہے۔
متاثرہ خاندان نے اس واقعہ کی شکایت کاونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز سے کی ہے۔ کونسل نے اس واقعہ پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔
دریں اثنا ں امریکن ایئرلائنزنے اس واقع پر معذرت کا اظہار کرتے ہوئے ان الزامات کی تردید کی ہے ان لوگوں کو مسلمان ہونے کی وجہ سے طیارے سے اتارا گیا تھا اور کہا کہ ایسا سیکورٹی وجوہات کی بنا پر کیا گیا تھا۔ خیال رہے کہ دہشت گردی کے فوبیا کے سبب امریکہ میں مسلمانوں کو ملک کی اندرونی پروازوں کی اڑان سے قبل طیاروں سے اتارے جانے کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔