مرکزی بجٹ سے کرناٹک کومایوسی ہوئی ہے :کمار سوامی

03:29PM Sat 2 Feb, 2019

یہ کسان اور یوتھ مخالف بجٹ ہے: سدارامیا بنگلورو۔ 2 فروری،2019 (سالارنیوز)مرکزی حکومت کے بجٹ پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ۔ وزیر اعلیٰ کمار سوامی نے بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت پر کڑی تنقید کی ہے اور کہا کہ جمعہ کے دن پیش کیا گیا یہ بجٹ محکمہ فائنانس نے تیار کیا ہے یا آر ایس ایس کے ہیڈ کوارٹرس میں تیارکیا گیا ہے، یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔پردھان منتری کسان سمان اسکیم سے معلوم ہوتا ہے کہ تکلیف میں گھرے کسانوں کو نریندر مودی حکومت نے کاٹن کینڈی دینے کا کام کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ الیکشن بجٹ ہے جس میں کسی بھی اسکیم سے متعلق واضح تفصیلات نہیں ہیں ۔ اس بجٹ سے عوام کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔ لوک سبھا انتخابات کے بعد نئی حکومت آئے گی اور وہ تازہ بجٹ پیش کرے گی ۔ کمار سوامی نے یہاں نامہ نگاروں کوبتایا کہ اگر بی جے پی دوبارہ اقتدار پر آئی اور اسی بجٹ کو نافذ کیا گیا توریاست کرناٹک کے 59لاکھ کسانوں کو ایک سال میں 3,578کروڑ روپئے جاری کرنے ہوں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کی حکومت نے 48ہزار کروڑ زرعی قرضے معاف کئے ہیں، جس سے 44لاکھ کسانوں کے کنبوں کو فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے نریندر مودی کے اس طنز کو یاد کیا کہ جب جے ڈی ایس اور کانگریس مخلوط حکومت نے زرعی قرضے معاف کرنے کااعلان کیا تو مودی نے اس اسکیم کو لالی پوپ کہا تھا ۔اب مرکزی حکومت59لاکھ کسانوں کو 3,578کروڑ روپئے دینے کا منصوبہ رکھتی ہے تو ہمیں اس کو کیاکہنا چاہئے، بجٹ مٹھائی یا کاٹن کینڈی ؟ اس بجٹ کو انتخابی بجٹ قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس کو زیادہ سنجیدہ لینے کی ضرورت نہیں کیونکہ مجوزہ لوک سبھا انتخابات کے بعد ملک میں بہت بڑی تبدیلی آئے گی۔ ماہ مئی میں نئی حکومت مرکز میں بر سراقتدار آئیگی اور وہ تازہ بجٹ پیش کرے گی ۔کمار سوامی نے کہا کہ کرناٹک کیلئے یہ بجٹ مایوس کن ہے ،جس میں بنگلور کی مضافاتی ریلوے ( سب اربن) پراجیکٹ کچھ بھی ذکر نہیں۔ پچھلے انتخابات میں اس ریاست نے بی جے پی کو 17ارکان پارلیمان دےئے ۔ پچھلے 5برسوں سے وہ ایوان میں رہے۔ ان کی خدمات کا یہ صلہ دیا گیا ۔ ان 17ارکان پارلیمان کو انہوں نے مبارکباد دی ہے۔