یمن جنگ کے خاتمے کے لیے پیش رفت: سعودی نائب ولی عہد
01:06PM Mon 4 Apr, 2016
سعودی عرب کے نائب ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ یمن میں جاری تنازعے کے متحارب فریقوں کے درمیان بات چیت میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور بہت جلد اس کے حل پر اتفاق کر لیا جائے گا۔
انھوں نے اتوار کو بلومبرگ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ''مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے،ہمارے حوثیوں کے ساتھ اچھے روابط استوار ہوئے ہیں۔ ان کا ایک وفد اس وقت الریاض میں ہے''۔
شہزادہ محمد کا کہنا تھا کہ ''ہم اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے معاملے کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں لیکن اگر چیزیں گڑ بڑ ہوتی ہیں تو ہم اس کے لیے بھی تیار ہیں''۔انھوں نے بلومبرگ کے ساتھ گذشتہ ہفتے ایک انٹرویو میں سعودی عرب کی معیشت کا تیل پر انحصار کم کرنے کے لیے دو کھرب ڈالرز کے ایک منصوبے کا اعلان کیا تھا۔
ان کا یمن میں جاری جنگ کے حوالے سے یہ بیان اتوار کو شائع ہوا ہے۔یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد مارچ 2015ء سے ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں اور ان کے اتحادی سابق صدر علی عبداللہ صالح کے حامیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کررہا ہے۔عرب اتحاد نے یہ کارروائی یمن کے صدرعبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کی درخواست پر اور اس کی جائز حکمرانی کی بحالی کے لیے شروع کی تھی۔
اس فوجی مداخلت کی بدولت یمنی فوج نے گذشتہ مہینوں کے دوران ملک کے جنوبی ،وسطی اور جنوب مشرقی شہروں اور صوبوں سے حوثی باغیوں کو نکال باہر کیا ہے اوروہ ان کا پیچھا کرتے ہوئے دارالحکومت صنعا کے دروازوں تک جا پہنچے ہیں۔اس دوران اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن اسماعیل ولد شیخ احمد کی ثالثی میں تنازعے کے حل کے لیے یمنی فریقوں کے درمیان مذاکرات بھی جاری ہیں۔