صنعت کار کی پٹائی کرنے پرانسانی حقوق کمیشن نے آئی پی ایس افسر کے خلاف کاروائی کا حکم دیا

05:00PM Thu 6 Jul, 2017

بنگلور ((بھٹکلیس نیوز ): ):۔ ریاستی انسانی حقوق کمیشن نے میسور شہر کے نظر آباد کے رہنے والے ایک صنعت کار پر حملہ کرکے اسے بری طرح سے زخمی کرنے والے آئی پی ایس افسر ابھینوکھرے کے خلاف قانونی کاروائی کرنے کا حکم دیاہے اور اس معاملہ میں تین ماہ کے اندررپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔کمیشن کے چیرمن میرا ایس سیکسینا نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ شیموگہ ضلع کے موجودہ پولیس سپرنٹنڈنٹ ابھینو کھرگے سال 2013 میں میسور ضلع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ تھے انہوں نے نظر آباد کے رہنے والے ایک صنعت کار راجندر کمار کو اپنے دفتر طلب کیا تھا اور اس پر غیر قانونی طریقہ سے چٹ فنڈچلانے اور غریب لوگوں کو قرضہ دے کر ان سے زیادہ سود وصول کرنے کا الزام لگا کر اسے گرفتار ی سے بچانے او رمعاملہ درج نہ کرنے کے لئے رشوت دینے کی مانگ کی تھی۔ راجندر کمار نے رشوت دینے سے انکار کردیا اور کہا کہ وہ لائنس حاصل کرنے کے ذریعہ سے ہی چٹ فنڈ چلارہا ہے اور وہ لوگوں کو قرضہ دے کر زیادہ سود وصول نہیں کرہا ہے اور اس کے خلاف لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔ابھینوکھرکے ناراض ہوکر چند لوگوں کو راجندر کمار کے خلاف نظر آباد پولیس تھانہ میں زیادہ سود وصول کرنے اور غنڈوں کے ذریعہ پٹائی کرانے کا الزام لگا کر راجندر کمار کے خلاف مقدمہ دائر کروایا تھا۔ پوچھ تاچھ کے نام پر ابھینو کھرکے نے راجندر کمار کی خوب پٹائی کرکے زخمی کیاتھا اور راجندرکمار کو کئی دنوں تک نرسنگ ہوم میں علاج کروانا پڑا تھا۔ اس معاملہ کو لیکر راجندرکمار کی بیوی ونیتا دیوی نے قومی انسانی حقوق کمیشن اور ریاستی انسانی حقوق کمیشن میں شکایت درج کرائی تھی۔ اس سلسلہ میں ریاستی انسانی حقوق نے آئی جی پی ( ساؤتھ رینج) رامچندرراؤ کو جانچ کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ رامچندرراؤ نے اس معاملہ کی جانچ کرکے کمیشن کو رپورٹ پیش کی تھی۔ رپورٹ میں خلاصہ ہوا تھا کہ اس معاملہ میں راجندرکمار کی پٹائی کرکے بری طرح زخمی کیا گیا تھا او راس معاملہ میں ابھینوکھرکے قصور وار ہیں۔ کمیشن نے پھر اس معاملہ کی جانچ کرکے عدالت میں چارج شیٹ داخل کرنے کا حکم دیا تھا۔ نظر آباد پولیں نے اس معاملہ کی جانچ کرکے عدالت میں بی رپورٹ داخل کرکے ابھینو کھرکے کو بے قصور قرار دیا ہے ۔ اس بی رپورٹ سے ناراض راجندر کمار نے پھر کمیشن سے شکایت کی۔ کمیشن نے اس معاملہ کو سنجیدگی سے لیکر محکمۂ داخلہ سکریٹری کو حکم دیا ہے کہ وہ اس معاملہ میں ابھینو کھرکے کے خلاف قانونی کاروائی کرکے تین ماہ کے اندر رپورٹ پیش کرے۔