جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے اے بی وی پی کو دیا چیلنج، کہا:میرا ڈنڈا بے صبرا ہوا جا رہا ہے

01:55PM Thu 2 Mar, 2017

نئی دہلی، (بھٹکلیس نیوز)دہلی کے رام جس کالج میں جے این یو کے طلباء لیڈر عمر خالد کو ایک پروگرام میں مدعو کئے جانے کی اے بی وی پی کی طرف سے مخالفت کے بعد سے دہلی یونیورسٹی کی طلباء سیاست میں ابال آ گیا ہے۔کارگل جنگ میں شہید ہوئے فوجی افسر کی بیٹی گرمہر کور کے ٹوئٹ اور پھر ان کو ریپ کی دھمکی کے واقعہ نے اس تنازعہ کو مزید طول دے دیا ہے۔اے بی وی پی کی مخالفت کے بعد سے دہلی یونیورسٹی کے رام جس کالج کے کیمپس میں ماحول کافی گرم ہے اور جے این یو کے ساتھ ساتھ دیگر بیرونی کالجوں کے طلباء نے مل کر احتجاج کیا ہے، بائیں بازو اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں نے وہاں جاکر اور بالواسطہ طور پر مخالفت کو حمایت دی ہے، تمام لوگوں کا آر ایس ایس، بی جے پی اور اے بی وی پی پر غنڈہ گردی کرنے کا الزام لگایا ہے۔ایسے میں کئی سیاسی لیڈران اور عام لوگ سوشل میڈیا پر اپنی اپنی بات رکھ رہے ہیں اور کچھ نامور شخصیات بھی اس جنگ میں کود پڑے ہیں۔ان میں نئی انٹری سپریم کورٹ کے سابق جج مارکنڈے کاٹجو نے کی ہے۔انہوں نے ٹوئٹ کرکے کہا ہے کہ اے بی وی پی کے کارکنان ہمیشہ کمزور لوگوں کو ہی کیوں دھمکاتے ہیں؟۔ انہوں نے کہاکہ ان لوگوں کو میرے پاس آنا چاہیے، میرے پاس ڈنڈا ہے جو ان کا انتظار کر رہا ہے اور یہ ڈنڈا بے چین ہواجا رہاہے۔