مارکنڈے کاٹجو کا پھر متنازع بیان ، بابائے قوم مہاتما گاندھی کو بتایا فراڈ

03:40PM Sun 2 Oct, 2016

نئی دہلی : اپنے متنازع بیانات کیلئے اکثر سرخیوں میں رہنے والے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے اب بابائے قوم مہاتما گاندھی سے متعلق متنازع بیان دیا ہے۔ گاندھی جینتی کے موقع پر لکھے اپنے ایک مضمون میں مہاتما گاندھی کو فرضی قرار دیتے ہوئے بھگت سنگھ اور سوریہ سین جیسے انقلابیوں کو اصل مجاہد آزادی قرار دیا ۔ جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے اس کو اپنے فیس بک پر بھی شیئر کیا اور اس کے کمنٹس میں انہوں نے گاندھی جی کو فراڈ اور منافق بتایا۔ کاٹجو نے لكھا کہ جب 1938 میں انگلینڈ کے وزیر اعظم جرمنی سے میونخ معاہدہ کرکے لوٹے تھے ، تو حزب اختلاف کے لیڈر وسٹن چرچل نے کہا تھا کہ آپ کے پاس جنگ یا توہین میں سے ایک کو منتخب کرنے کا آپشن ہے اور آپ نے توہین کو منتخب کیا ۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ جنگ آزادی کے دوران ہندوستان کی جانب سے برٹش کے خلاف اپنایا گیا تشدد کا طریقہ غلط تھا، جس کی بھگت سنگھ، سوریہ سین، چندر شیکھر آزاد، راج گرو اور رام پرساد بسمل وغیرہ نے وکالت کی تھی۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ گاندھی کا تشدد سے پاک طریقہ صحیح ہے۔ میں اس بات سے مکمل طور پر غیر متفق ہوں۔ پہلی بات کیا کوئی کسی کی بھوک ہڑتال، نمک یاترا اور رگھوپتی راگھو راجا رام گانے کی وجہ سے اپنی سلطنت چھوڑ سکتا تھا۔ ہندوستان کو آزادی گاندھی جی کی وجہ سے نہیں ملی ، بلکہ دوسری عالمی جنگ کی وجہ سے ملی، جس میں جرمنی نے انگلینڈ پر حملہ کرکے اسے کمزور کر دیا تھا، جس کے بعد انہیں امریکیوں کی مدد کی ضرورت پڑی۔ امریکہ نے مدد کے عوض میں برٹش پر ہندوستان چھوڑنے کا دباؤ ڈالا ، کیونکہ ہندوستان سرمایہ کاری کے نقطہ نظر سے کھلا بازار تھا۔ انہوں نے کہا کہ گاندھی کی وجہ سے کچھ نہیں ملا۔ اگر ان کے راستے پر ہم چلتے ، تو ہندوستان کو کبھی آزادی نہیں ملی ہوتی۔ جنگ آزادی کے لئے مسلح جدوجہد ضروری ہے۔katju