امریکی صدر اور سعودی شہزادے کی ملاقات کے دوران عراق اور شام پر توجہ مرکوز
01:04PM Sat 18 Jun, 2016
واشنگٹن۔ صدر بارک اوبامہ اور سعودی عرب کے نائب ولی عہد نے دولت اسلامیہ (داعش) کے خلاف لڑائی میں عراقیوں کی مدد کرنے کے طریقوں اور جنگ زدہ شام میں سیاسی منتقلی پر توجہ مرکوز رکھی۔ یہ اطلاع وائٹ ہاؤس نے دی ہے۔ اوبامہ نے ایک گھنٹہ تک اوول آفس میں شاہ سلمان کے بیٹے محمد بن سلمان سے بات چیت کی۔ نائب ولی عہد کشیدہ تعلقات کو بحال کرنے اور سعودی حکومت کے تیل کی برآمدات پر انحصار کم کرنے کے لئے ’’ویژن 2030‘‘ منصوبہ کو فروغ دینے کے لئے امریکہ کے دورے پر آئے ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے کہا ’صدر نے دولت اسلامیہ (داعش) کے خلاف لڑائی میں سعودی عرب کی خدمات کی تعریف کی‘‘۔ دونوں رہنماؤں نے اس پر بات کی کہ عراقیوں کی کیسے مدد کی جائے کیونکہ وہاں لڑائی کی وجہ سے لوگوں کو امداد کی بھی فوری ضرورت ہے۔
امریکی افسروں نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سعودی حملوں پر بے چینی ظاہر کی کیونکہ ان حملوں میں بڑے پیمانے پر عام شہری مارے گئے ہیں اور اقوام متحدہ نیز انسانی حقوق کے گروپوں نے اس پر اعتراض بھی کیا ہے۔ اوبامہ نے لڑائی کا سیاسی حل نکالنے کے سعودی عرب کے عزم کا خیرمقدم کیا ہے جو یمن کی تعمیر نو کرنا اور وہاں امداد پہنچانا چاہتا ہے۔ شام کے حوالے سے اوبامہ اور شہزادے نے صدربشار الاسد سے ایک سیاسی منتقلی کی حمایت پر بات کی۔ امریکہ اپنے بین اقوامی شریکوں کے ساتھ اس پر کام کررہا ہے۔
امریکی وزارت خارجہ میں 50 سے زیادہ سفارتکاروں نے ایک یاد داشت پر دستخط کئے ہیں۔ جن میں اوبامہ انتظامیہ کی شام کے تئیں پالیسی پر نکتہ چینی کی گئی ہے اور اسد حکومت کے خلاف فوجی حملوں کی اپیل کی گئی ہے۔ جب اس یاد داشت کے بارے میں پوچھا گیا تو سعودی عرب کےوزیر خارجہ عادل الجبیر خود بھی واشنگٹن میں تھے ۔ جبیرنے بتایا کہ نائب ولی عہد نے امریکی افسران کو سعودی عرب کی معیشت کو متنوع بنانے اور صاف توانائی کی طرف قدم بڑھانے کے منصوبوں سے مطلع کیا ہے۔