مالیگاؤں دھماکہ معاملے پر عدالت نے کہا، یہ ممکن نہیں کہ مسلمانوں نے اپنے ہی لوگوں کا قتل کیا ہو

12:31PM Wed 27 Apr, 2016

ممبئی۔ سال 2006 کے مالیگاؤں بم دھماکوں کے آٹھ مسلم ملزمان کو باعزت بری کرنے والی خصوصی این آئی اے عدالت نے کہا ہے کہ یہ ناممکن ہے کہ ملزمان نے، جو خود مسلمان ہیں، شب برات جیسے مقدس دن دو فرقوں میں بدنیتی پیدا کرنے کے لئے اپنے ہی لوگوں کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا ہوگا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ انسداد دہشت گردی دستہ (اے ٹی ایس) کے حکام نے غلط طریقے سے اپنے عوامی فرض پرعمل کیا اور محض شک کی بنیاد پر انہیں اس معاملے میں ملزم بنا دیا۔ مالیگاؤں میں ہوئے سلسلہ وار بم دھماکوں میں 37 لوگوں کے مارے جانے کے واقعہ کے 10 سال بعد منگل کو عدالت نے ثبوتوں کی عدم موجودگی میں آٹھ مسلم نوجوانوں کے خلاف الزام مسترد کر دیئے۔ این آئی اے کے خصوصی جج وی وی پاٹل نے کہا کہ آٹھ ستمبر 2006 کو ہوئے دھماکے کے پیچھے اے ٹی ایس کی جانب سے دکھائے گئے مقصد یا اس کی بنیاد، میری نظر میں ایک عام سمجھداری والے انسان کو قابل قبول نہیں ہوگا۔ میں ایسا اس لیے کہہ رہا ہوں کیونکہ اس سے ٹھیک پہلے گنیش وسرجن ہوا تھا اور ملزمان کا اگر ایسا کوئی مقصد ہوتا تو مالیگاؤں میں فسادات ہو سکتے تھے، پھر انہیں گنیش وسرجن کے دن بم رکھنے چاہئے تھے، جس سے مرنے والوں میں ہندوؤں کی تعداد کہیں زیادہ ہوتی۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اے ٹی ایس کی جانچ دستاویزات کی چھان بین کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ ملزمان کے خلاف کارروائی آگے بڑھانے کے لئے کافی بنیاد نہیں ہے۔ جج نے کہا کہ میں یہ بھی مانتا ہوں کہ ملزمان کی جانب سے ایسا کوئی جرم کئے جانے کا بادی النظر میں بھی معاملہ نہیں بنتا، جس سے ان کے خلاف لگائے گئے الزامات میں سے کسی میں بھی الزام طے کئے جا سکیں۔ عدالت نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ چونکہ ملزمان کا پس منظر مجرمانہ رہا تھا، اس لئے اے ٹی ایس نے انہیں بلی کا بکرا بنا دیا۔