اے ایم یو اور منگلایتن یونیورسٹی کے درمیان باہمی تعاون کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے
11:40AM Thu 27 Apr, 2017
منگلایتن میں جنرل ضمیر الدین شاہ اور برگیڈیر احمد علی کی الوداعی تقریب کا انعقاد
(علیگڑھ)علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور منگلایتن یونیورسٹی کے اعلی افسران نے زور دے کرکہا ہے کہ دونوں یونیورسٹیاں ایک دوسرے کی مخالف نہیں ہیں اور ان کے درمیاں باہمی تعاون کی جو روایت شروع ہوئی ہے وہ جاری رہنا چاہیے۔
منگلایتن یونیورسٹی میں اے ایم یو کے وائس چانسلر جنرل ضمیر الدین شاہ اور پرو وائس چانسلر برگیڈیر سید احمد علی کے اعزاز میں الوداعی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔دونوں اعلی عہدیداران نے کہا کہ دونوں یونیورسٹیوں کا مشترک ہدف سماج اور ملک کی خدمت کرنے والے انسان تیار کرنا ہے۔انھوں نے طلباء سے کہا کہ وہ اظہار کے طریقے ضرور سیکھیں لیکن کم بولنے اور زیادہ سننے کی عادت ڈالیں کیوں کہ خاموشی کی بھی اپنی ایک زبان ہوتی ہے۔جنرل شاہ نے طلبا کو خالی وقت میں اچھی کتابیں پڑھنے کی صلاح دی اور کہا کہ کتابیں انسان کی سب سے اچھی دوست ثابت ہوتی ہیں۔
پی وی سی سید احمد علی نے کہا کہ دونوں یونیورسٹیوں کے درمیان تعاون کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے وہ مستقبل میں مزید فروغ پائے گا ۔انھوں نے کہا کہ وہ جہاں بھی رہیں گے اے ایم یو کے ساتھ منگلایتن کو بھی یاد کرتے رہیں گے۔انھوں نے منگلایتن کے طلبا کے ڈسپلن کی تعریف بھی کی۔
منگلایتن کے پرو چانسلر پروفیسر ستیش چندر جین نے کہا کہ ہمارے ملک کی یونیورسٹیاں ہاورڈ اور کیمبرج سے تو تعاون کی متمنی ہیں لیکن وہ ہندوستانی یونیورسٹیوں کے ساتھ کسی طرح کے تعاون کے لئے تیار نہیں ہیں۔پروگرام کے آغاز میں منگلایتن کے وائس چانسلر برگیڈیر پردیپ سواچ نے مہمانان کا تعارف پیش کیا۔اس موقع پر بیگم صبیحہ سیمی شاہ،بیگم رضوانہ علی،پروفیسر جاوید اختر رجسٹرار اے ایم یو،کنٹرولر امتحان یوسف الزمان خان ،پروفیسر کے وی ایس ایم کرشنا،اجے راجپوت ،سبھی ڈین ،چیرمین وغیرہ موجود رہے۔نظامت طالبہ زینب علی نے کی۔
--
منگلایتن یونیورسٹی میں اے ایم یو کے وائس چانسلر جنرل ضمیر الدین شاہ اور پرو وائس چانسلر برگیڈیر سید احمد علی کے اعزاز میں الوداعی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔دونوں اعلی عہدیداران نے کہا کہ دونوں یونیورسٹیوں کا مشترک ہدف سماج اور ملک کی خدمت کرنے والے انسان تیار کرنا ہے۔انھوں نے طلباء سے کہا کہ وہ اظہار کے طریقے ضرور سیکھیں لیکن کم بولنے اور زیادہ سننے کی عادت ڈالیں کیوں کہ خاموشی کی بھی اپنی ایک زبان ہوتی ہے۔جنرل شاہ نے طلبا کو خالی وقت میں اچھی کتابیں پڑھنے کی صلاح دی اور کہا کہ کتابیں انسان کی سب سے اچھی دوست ثابت ہوتی ہیں۔
پی وی سی سید احمد علی نے کہا کہ دونوں یونیورسٹیوں کے درمیان تعاون کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے وہ مستقبل میں مزید فروغ پائے گا ۔انھوں نے کہا کہ وہ جہاں بھی رہیں گے اے ایم یو کے ساتھ منگلایتن کو بھی یاد کرتے رہیں گے۔انھوں نے منگلایتن کے طلبا کے ڈسپلن کی تعریف بھی کی۔
منگلایتن کے پرو چانسلر پروفیسر ستیش چندر جین نے کہا کہ ہمارے ملک کی یونیورسٹیاں ہاورڈ اور کیمبرج سے تو تعاون کی متمنی ہیں لیکن وہ ہندوستانی یونیورسٹیوں کے ساتھ کسی طرح کے تعاون کے لئے تیار نہیں ہیں۔پروگرام کے آغاز میں منگلایتن کے وائس چانسلر برگیڈیر پردیپ سواچ نے مہمانان کا تعارف پیش کیا۔اس موقع پر بیگم صبیحہ سیمی شاہ،بیگم رضوانہ علی،پروفیسر جاوید اختر رجسٹرار اے ایم یو،کنٹرولر امتحان یوسف الزمان خان ،پروفیسر کے وی ایس ایم کرشنا،اجے راجپوت ،سبھی ڈین ،چیرمین وغیرہ موجود رہے۔نظامت طالبہ زینب علی نے کی۔
--