ستلج جمنا رابطہ نہر تنازع:پنجاب کے خلاف ہریانہ کی درخواست پرسپریم کورٹ 21نومبر کو کرے گا سماعت
02:27PM Fri 18 Nov, 2016
نئی دہلی ، (ایف او یس)
سپریم کورٹ پنجاب کی طرف سے ستلج جمنا رابطہ نہر کے لئے زمین پر جمود برقرار رکھنے کے سپریم کورٹ کے عبوری حکم کی مبینہ خلاف ورزی کرنے کے معاملے میں ہریانہ کی درخواست پر 21نومبر کو سماعت کیلئے آج اتفاق ہو گیا۔جسٹس اے آر دوے اور جسٹس اے ایم کھانولکر کی بنچ کے سامنے ہریانہ حکومت کے وکیل نے اس درخواست پرغور کرتے ہوئے اس پر فوری طور پر سماعت کی آج درخواست کی۔ہریانہ کا کہنا تھا کہ نہر کے منصوبے کی خاطر زمین پر جمود بنائے رکھنے کی پنجاب حکومت کو ہدایت دینے سے متعلق عدالت عظمی کے پہلے حکم کی خلاف ورزی کرنے کی مانگ کر رہے ہیں۔اس پر بنچ نے کہا کہ اس معاملے کو سماعت کیلئے پیر کو درج کیا جائے۔حال ہی میں پنجاب حکومت نے اس منصوبے کی خاطر تحویل اراضی کو فوری طور پر نوٹیفکیشن کے دائرے سے باہر کرنے اور اسے مفت میں اس کے مالکان کو لوٹانے کا فیصلہ کیا تھا۔ریاستی حکومت کا یہ فیصلہ کافی اہم ہو گیا ہے کیونکہ جسٹس دوے کی صدارت والی پانچ رکنی بنچ نے گزشتہ ہفتے پنجاب معاہدہ تنسیخ، 2004قانون کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔اس قانون کے ذریعے ہی پنجاب نے ہریانہ کے ساتھ پانی تقسیم کرنے سے متعلق 1981کے معاہدے کو یک طرفہ طور پر منسوخ کر دیا تھا۔عدالت عظمی نے صدر کو بھیجی اپنی رائے میں کہا تھا کہ پنجاب معاہدے کو یک طرفہ رد نہیں کر سکتا ہے اور نہ ہی عدالت عظمی کے فیصلے کو غیر مؤثر بنا سکتا ہے۔ہریانہ حکومت نے آج عدالت عظمی میں دائر درخواست میں الزام لگایا کہ پنجاب دس نومبر کا انتظام اور 17مارچ کے عبوری حکم کا احترام نہیں کر رہا ہے۔مارچ کے حکم میں عدالت نے اس نہر منصوبے کی خاطر زمین پر جمود بنائے رکھنے کا پنجاب کو ہدایت دی تھی۔پانی کی تقسیم کیلئے 1981کا متنازعہ معاہدہ 1966میں پنجاب سے ہریانہ ریاست بننے کے بعد ہوا تھا۔