ریاض مولوی کے قتل معاملے کی تحقیقات کو سبوتاژ کرنے کی حکومت کی کوشش قابل مذمت ۔عبدالمجید فیضی
04:07PM Mon 22 May, 2017
ریاستی حکومت کے خلافSDPIکے ہزاروں کارکنان نے کیا ADGPدفتر کا محاصرہ
کالی کٹ (بھٹکلیس نیوز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے ہزاروں کارکنان نے ریاستی صدر عبدالمجید فیضی کے قیادت میں کالی کٹ کے ADGP دفتر کا محاصرہ کیا ۔ واضح رہے کہ کاسر گوڈ کے مضافات میں واقع مدرسہ کے استاد اور محی الدین جمعہ مسجد کے نائب امام ریاض مولوی عمر (34) سال کو مبینہ طور پر گزشتہ 20مارچ 2017 کو آر ایس ایس ممبران نے مدرسہ سے متصل کمرے میں گھس کر ان کا گلا کاٹ کر قتل کردیا تھا۔ ADGPکے دفتر کے محاصرے کے دوران ریاستی صدر عبدالمجید فیضی نے اپنے خطاب میں ریاستی حکومت پر الزام لگایا کہ ریاض مولوی کے قتل معاملے کی تحقیقات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے ریاستی وزیر اعلی سے مطالبہ کیا کہ یا تو وہ اپنے منصبی فریضہ کو بخوبی نبھائیں یا اپنے عہدے سے استعفی دے دیں۔ عبد المجیدفیضی نے کہا کہ سی پی آئی ( ایم ) کی حکومت میں مسلمانوں کامسلسل قتل ہورہا ہے اور ریاستی حکومت اور محکمہ پولیس ریاض مولوی کے قتل کی تحقیقات کو سبو تاژ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ ریاستی صدر عبدالمجید فیضی نے ریاستی وزیر اعلی پنیارا وجئین کو یاد دلا یا کہ اقلیتوں کے ووٹ کی وجہ سے وہ اقتدار میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان کی حکومت میں مسلمانوں کو کمزور اور پریشان کیا جارہا ہے۔ انہوں نے پولیس حکام سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ واضح کردیں کہ ریاست میں مسلمانوں پر ہورہے آر ایس ایس کے حملوں کے خلاف پولیس حکام کارروائی کریں گے یا خود مسلمان اپنے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری اٹھائیں۔انہوں نے کہا کہ 2019کے لوک سبھا انتخابات کے مدنظر بی جے پی ریاست کیرلا میں فرقہ وارانہ تشدد کے ذریعے اقتدار حاصل کرنا چاہتی ہے۔ عبدالمجید فیضی نے کہا کہ شمالی ہندوستان میں جس طرح آرایس ایس غنڈہ گردی و قتل و عام کرتی ہے ان کی غنڈہ گردی ریاست کیرلا میں نہیں چلے گی۔ ریاست کیرلا کے عوام متحد ہیں اور وہ آرایس ایس کے ایجنڈے کو کیرلا میں کھبی کامیاب نہیں ہونے دینگے۔ اس احتجاجی مظاہرے میں کیرلا ریاستی عہدیداران سمیت ہزاروں پارٹی کارکنان شریک رہے ، پولیس نے مظاہرین پرپانی، آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا ، جس میں پارٹی کے تین کارکنان زخمی ہوئے۔