قرآن مجید جس کی شفا عت و تصدیق کرے وہ بندہ کامیاب جس سے وہ جھگڑے وہ ناکام نامراد اور ذلیل

07:23AM Fri 21 Apr, 2017

مدرسہ عر بیہ روح الاسلام با گے پلی میں طلباء کے حفظ قرآن ختم کے موقع پر مولانا نذیر احمد باقوی کا خطاب بنگلور:(بھٹکلیس نیوز) قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام اور اس کی صفت خاص ہے بالفاظ دیگر اس کو جو مقام حاصل ہے کائنات میں کسی کو حاصل نہیں اللہ نے اس کو اپنے بندوں کے لئے رہبر و رہنما شا فع و مشفع ما حل و مصدق بنا کر نازل فر مایا یہ اللہ تعالیٰ کا وہ ابدی عالمی و آفاقی کلام ہے جو اپنے پڑھنے اور اس پر عمل کر نے والے کی شفاعت و تصدیق کرے گا اور اس کی شفاعت قبول کی جا ئے گی اور پسِ پشت ڈال دینے والے سے جھنم گا قرآن مجید جس کی شفا عت و تصدیق کرے وہ بندہ کامیاب جس سے وہ جھگڑے وہ ناکام نامراد اور ذلیل و خوار داخل جھنم ہو گا ۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ فر ما تے ہیں کہ قرآن مجید اللہ کا دستر خوان ہے جتنا کھا سکتے ہو کھا لو کو ئی روک ٹوک نہیں اللہ کی مضبوط رسی ہے اچھی طرح پکڑ لو پھسلنے سے محفوظ رہو گے ، نور مبین ہے ، اس کی روشنی کو حاصل کر لو ٹھو کروں سے بچ جا ؤ گے قرآن میں شفا ہے ، اس نسخہ کو استعمال کر لو ہر بیماری سے دور رہو گے قرآن نجات دہندہ تلاوت و عمل کی خوب کوشش کرو، جھنم سے بچ جا ؤ گے قرآن علم کا خزا نہ ہے جتنا چا ہو اس کو لوٹ لو یہ خزا نہ کبھی ختم نہیں ہو گا مذکورہ خیالات کا اظہار بروز بدھ ۱۹ اپریل ۲۰۱۷ ؁ ء مدرسہ عربیہ روح الاسلام باگے میں چھ طلباء کے حفظ قرآن مجید کے ختم کے موقع پر مہتمم مدرسہ حضرت مولانا نذیر احمد صاحب باقوی نے فر مایا نیز آپ نے اپنے مختصر خطاب میں قرآن مجید کے حفظ کی فضیلت کو بتاتے ہو ئے فر مایا حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے فر مایا فر شتے قرآن پڑھنے والے کے لئے دعا کر تے ہیں خصوصاً قرآن مجید کے ختم پر ، اگر صبح کو قرآن ختم کر تا ہے تو رات تک اور رات کو ختم کر تا ہے تو صبح تک دعا کر تے ہیں اس لئے حضرت عبد اللہ بن مبا رکؓ نے فر مایا کہ فر شتوں کو یہ پسند ہے کہ گر می میں صبح کو اور سر دی کے دنوں میں رات کو قرآن مجید ختم کیا جا ئے اس لئے کہ گر می میں دن بڑا اور سر دیوں میں رات بڑی ہو تی ہے حضرت ابو ہریرہؓ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نقل کر تے ہیں کہ جو قرآن پڑھنے یا سننے کے لئے مسجد میں جمع ہو تے ہیں اللہ کی طرف سے ان پر سکینہ و رحمت کا نزول ہوتا ہے فر شتے ان کو گھیر لیتے ہیں اللہ ان کا تذکرہ فر شتوں کی محفل میں فر ما تے ہیں ۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کا ارشاد ہے کہ جو قرآن پاک پر ایمان رکھتا ہو اس کی تلا وت کر تا ہو اسے چا ہئے کہ رات کو جب عام لوگ سو تے ہوں تو یہ عبادت و تلاوت میں مشغول ہو دن کو جب لوگ کھا تے پیتے ہوں تو یہ روز ہ دار ہو لوگ دنیا کی خوشی میں مست ہوں تو یہ آخرت کے لئے فکر مند ہو غمزدہ ہو لوگ غفلت سے ہنس رہے ہوں تو یہ خوف خدا میں رو رہا ہو جب لوگ دنیا کی نعمتوں پر اترا رہے ہوں تو یہ عا جزی و انکساری میں ڈو با ہوا ہو قرآن کا حامل رونے والا غمگین ، برد بار با وقار ، نرم مزاج ہو تا ہے نہ کہ ظالم ، غافل شور و شغب کر نے والا اور تیز طرار ، حامل قرآن کی تعظیم جز و ایمان ہے اور تذلیل علامت نفاق ہے چنانچہ ارشاد نبوی ﷺ ہے کہ تین شخصوں کی تذلیل منافق ہی کر سکتا ہے ۱) بو ڑھا مسلمان ۲) منصف حاکم ۳) حامل قرآن رسول اللہ ﷺ نے فر مایا ہے کہ حافظ قرآن کے والدین کو ایسا تاج پہنایا جا ئے گا کہ اس کی روشنی سورج کی روشنی سے بھی زیادہ ہو گی ایک اور تفصیلی روایت میں بھی ہے کہ حضرت ابو امامہؓ فر ما تے ہیں رسول اللہ ﷺ نے بار ہا ہم کو قرآن سیکھنے کی ترغیب دی اور قرآن کی فضیلت بیان فر ما ئی ایک مر تبہ فر مایا کہ میدان محشر میں جبکہ ہر شخص کسی مدد گار کا انتہا ئی خواہشمند اور متمنی رہے گا قرآن نہا یت حسین و جمیل شکل میں اپنے پڑھنے والے پاس آ ئے گا اور کہے گا کیا تم مجھے پہچانتے ہو کہ میں کون ہوں ؟ حامل قرآن کہے گا نہیں ؟ قرآن کہے گا میں وہی ہوں جس کے ساتھ تم دنیا میں محبت وتعظیم کا معا ملہ کر تے تھے میری ہی وجہ سے رات کو جا گتے تھے اوردن میں میری تلاوت کر تے تھے ہھر وہ قرآن اس کو اللہ کے قریب لے جا ئے گا جہاں اس کو مختلف انعامات سے نوا زا جا ئے گا ہاتھوں میں کنگن اور سر پر تاج پہنا یا جا ئے گا اس کے والدین کو انتہا ئی عمدہ اور قیمتی لباس پہنا یا جا ئے گا وہ حیران ہو ں گے کہ یہ لباس ہمیں کیو نکر ملا ہم تو اس کے اہل نہیں تھے ان سے کہا جا ئے گا کہ یہ تمہاری اولاد کے طفیل میں ہے کہ جن کو تم نے قرآن مجید سکھایا۔ چھ طلباء (حافظ محمد اویس کدری ) (حافظ محمد علقمہ حافظ محمد انس ہندوپور) (حافظ محمد یوسف) (حافظ احمد سہیل باگے پلی)(حافظ محمد زبیر کر نول نندیال) نے اپنا آخری سبق سنا کر قرآن مجید حفظ ختم کیا جس کے لئے ادارہ کے مہتمم و ذمہ داروں نے طلباء کو ان کے والدین کو مبارکبادی دی اور حضرت مہتمم صاحب کی مستجاب دعاؤں کے ساتھ اجلاس اختتام کو پہنچا جلسہ کا آغاز مدرسہ ھذا کے طالب علم کی قرأت اور نعت پاک سے ہوا مولانا نذیر احمد باقوی مہتمم مدرسہ نے آ ئے ہو ئے مہمانوں کا استقبال کیا اور شکریہ ادا کیا مذکورہ اجلاس میں اساتذہ و طلباء اور والدین کے علاوہ مولانا حمایت الاسلام حضرت مولانا عطاء اللہ صاحب باقوی وغیرہ دیگر حضرات شریک اجلاس رہے