مجلس علماء مہدویہ چیف جسٹس کے فیصلے کا خیر مقدم کرتی ہے۔مولانا عابد خوندمیری

03:33PM Thu 24 Aug, 2017

چن پٹن۔(بھٹکلیس نیوز )مجلسعلماء مہدویہ ہندکے صدر مولاناسید میرانجی عابدؔ خوندمیری صاحب نے اپنے ایک اخباری اعلامیہ کے ذریعہ بتایا ہے کہ عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس کے فیصلہ کا خیر مقدم کرتی ہے۔شریعت محمدی قانون الٰہی ہے اور صرف اللہ تعالیٰ کوقانون الٰہی میں ترمیم کا حق حاصل ہے ۔ ’ ’مسلم پرسنل لاء ‘‘ مسلمانوں کا پرسنل لاء ہے جس کو آئین ہند میں تسلیم کیا گیا ہے ۔طلاق ثلاثہ کے مسئلے میں ججوں کی پانچ رکنی کمیٹی نے جو فیصلہ سنایا ہے وہ متفقہ نہیں ہے ۔مولانا نے کہا ہے کہ عدالت عظمیٰ میں پانچ ججوں میں سے تین ججوں نے طلاق ثلاثہ کو غیر آئینی ( unconstitutional)قرار دیا ہے اور کمال کی بات یہ ہے کہ طلاق ثلاثہ کو جن تین ججوں نے غیر آئینی قرار دیا ہے ان میں کسی نے بھی یہ بتانا ضروری نہیں سمجھا کہ طلاق ثلاثہ آئین ہند کے کونسی دفعات کے خلاف ہے ۔بر خلاف اس کے (چیف جسٹس آف انڈیا )جے ، یس کھیہر نے صاف طور پر اس بات کی وضاحت کی ہے کہ(۱) ’ ’مسلم پرسنل لاء ‘‘کو آئین ہند کی دفعہ 25کا تحفظ حاصل ہے اور(2) طلاق ثلاثہ ،آئین ہندکی دفعہ 15،14،25 اور 24کے خلاف نہیں ہے۔اس لئے مجلس علماء مہدویہ ہند،عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس جے یس کھیہراور جسٹس جے یس عبد النذیر کے تاریخی فیصلہ ،قانونی رائے اور آئینی وضاحت کا خیر مقدم کرتی ہے اور حکومت ہند سے مطالبہ کرتی ہے کہ ’’مسلم بہنوں‘‘ کے حقوق کی آڑ میں مسلمان مردوں اور عورتوں کے درمیان خلیج پیدا کرنے اور مسلم پرسنل لاء کے مضبوط قلعہ میں چور دروازے کے ذریعہ داخل ہونے کی کوشش نہ کرے ۔مولانا نے کہا کہ ترمیم اور اصلاح دلوں کو چھُو کر کی جاتی ہے زبردستی مسلط نہیں کی جاتی ۔