جموں و کشمیر میں حالات پٹری پر لوٹ رہے ہیں
03:31PM Wed 9 Nov, 2016
سری نگر ،(ایف او یس)
سری نگر سمیت کشمیر کے بڑے شہروں میں لوگوں کی نقل و حرکت اور ٹریفک میں اضافہ ہوا ہے، جو وادی میں حالات کے پٹری پرلوٹنے کا اشارہ ہے۔دوسری طرف علیحدگی پسندوں نے مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے وادی میں آج سبھی فریقوں کی میٹنگ بلائی ہے ۔حکام نے بتایا کہ علیحدگی پسندوں کے احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے سری نگر سمیت وادی کے دیگر شہروں میں لوگ کافی تعداد میں باہر نکلے، بسوں کو چھوڑ کر دیگر پبلک ٹرانسپورٹ بھی زیادہ تعداد میں سڑکوں پر نظرآئیں ۔کاروباری علاقہ لال چوک سمیت شہر کے سول لائنس اور دیگر بیرونی علاقوں میں بڑی تعداد میں ٹیکسی، آٹورکشہ اور نجی کاریں سڑکوں پردوڑتی نظرآئیں ۔کئی ضلع ہیڈ کواٹروں کو جوڑنے والے راستوں پر اضلاع کے درمیان میں چلنے والی کیب بھی چلیں ۔حکام نے بتایا کہ وادی کے دیگر شہروں میں بھی ٹریفک میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔حکام نے بتایا کہ ان علاقوں میں کچھ دکانیں بھی کھلیں اور بینکوں میں گراہنکوں کی بھیڑ امڈ پڑی۔انہوں نے بتایا کہ کشمیر میں کہیں بھی لوگوں کی نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں ہے، حالانکہ قانون وانتظام کی صورت حال کو برقرار رکھنے اور لوگوں میں تحفظ کا احساس پیداکرنے کے لیے کچھ حساس علاقوں میں سیکورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔علیحدگی پسندو ں کی جانب سے بلائی گئی ہڑتال کی وجہ سے وادی میں دیگر مقامات پردکانیں، پٹرول پمپ اور دیگر کاروباری ادارے بند رہے۔علیحدگی پسندوں نے شام 4بجے سے ہڑتال میں 15گھنٹے کی چھوٹ دی ہے، جس کی وجہ سے یہ ادارے شام تک کھل سکتے ہیں۔8 ؍جولائی کو سیکورٹی فورسز کے ساتھ ہوئے تصادم میں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے وادی کشمیر میں حالات کشیدہ بنے ہوئے ہیں۔وادی میں جاری تحریک کی قیادت کر رہے علیحدگی پسندوں نے حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی شاہ گیلانی کی رہائش گاہ پر سبھی فریقوں کی میٹنگ بلائی ہے۔اس میں آگے کی حکمت عملی پر بحث کی جائے گی۔ جاری تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے تمام فریقوں کواعتماد میں لینے کا مطالبہ اٹھا تھا ۔اتوار کو جاری مشترکہ بیان میں علیحدگی پسندوں نے کہا ہے کہ تاجروں، ماہرین تعلیم،ٹرانسپورٹرس ، سول سوسائٹی کے لوگ، مذہبی، سماجی اور سیاسی تنظیم، بار ایسوسی ایشن اور دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو حید پورہ میں مستقبل کے اقدام پر فیصلہ لینے کے لیے مدعو کیا گیا۔اس سے پہلے، اسی دن حریت کے دونوں گروپ کے سربراہ گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق اور جے کے ایل ایف کے سربراہ یاسین ملک نے گیلانی کی رہائش گاہ پر ملاقات کی تھی جس کے دوران سبھی فریقوں کو مدعو کرنے کا فیصلہ لیا گیاتھا ۔غورطلب ہے کہ وادی میں جاری پرتشدد مظاہروں کے دوران اب تک85لوگوں کی موت ہو چکی ہے جبکہ کئی ہزار زخمی ہیں۔