بابری مسجد کیس: ملکیت کا مقدمہ ہے آستھا کا ہرگز نہیں: مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
12:07PM Sat 29 Sep, 2018
حیدرآباد: مولانا خالد سیف اللہ رحمانی سکریٹری مسلم پرسنل لا بورڈ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ بابری مسجد کا کیس ملکیت کی بنیاد پرطے ہوگا نہ کہ آستھا اورعقیدہ کی بنیاد پر، یہ بہت اہم ہےاور بورڈکا شروع سے یہی موقف رہا ہے کہ اس مقدمہ کا فیصلہ ملکیت کی بنیاد پر ہونا چاہئے کہ یہ سنی وقف بورڈ اتر پردیش کی ملکیت ہے یا ان لوگوں کی جو اس کے رام جنم بھومی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ کورٹ کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ مقدس شخصیتوں کی جائے پیدائش کو طے کرے اورخود ہندو مذہبی کتابوں میں اس جگہ کے رام جنم بھومی ہونے کا کوئی ذکر نہیں ہے اورنہ تاریخ سے اس کا کوئی ثبوت ہے، لیکن بہر حال عدالت کواس پیچیدگی میں نہیں پڑنا چاہئے اور سرکاری ریکارڈکی روشنی میں یہ بات طے کرنی چاہئے کہ یہ سنی وقف بورڈ کی ملکیت ہے یا نہیں؟
مولانا رحمانی نے مزید کہا کہ بورڈ کو پوری امید ہے کہ اگرعدالت اس نکتہ پراپنی توجہ مرکوز رکھے گی تو فیصلہ ہمارے موقف کے مطابق آئے گا۔ سپریم کورٹ نے کل ایک اورکیس میں قانون تعزیرات ہند دفعہ497 اور دفعہ 198کوکالعدم قراردے دیا ہے، ہندوستان جیسے ملک میں جہاں ہمیشہ سے مذہب اوراخلاقی اقدار پر یقین رکھنے والوں کی اکثریت رہی ہے۔اس طرح کا فیصلہ ملک کی تہذیب اوریہاں کی متفقہ اخلاقی قدروں کے خلاف ہے، اس دفعہ کو ختم کرنے کی وجہ سے اب شادی شدہ عورت یا مردکا دوسرے مرد یا دوسری عورت سے جنسی تعلق قائم کر نا قانون کی نظر میں جرم نہیں ہے۔