ریاستی کسانوں کے قرضہ معاف کرنے کیلئے وقت متعین نہیں دلالوں سے بچانے کے لئے حکومت کی جانب سے اقدامات کئے جارہے ہیں:کمارسوامی
02:01PM Mon 8 Oct, 2018
بنگلورو:8؍اکتوبر(سالار نیوز)وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت شہر بنگلور کو بنیادی انفرااسٹرکچر مہیا کرانے کی پابند ہے، ایک ماہ کے اندر شہر کے پریفرل رنگ روڈ کی تعمیر کا کام شروع کردیا جائے گا۔لیڈر شپ سمٹ سے خطاب کے دوران بنگلور کے انفرااسٹرکچر کے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہوئے کمار سوامی نے کہاکہ مخلوط حکومت کے قیام کو چار پانچ ماہ کا عرصہ ہی ہوا ہے، اتنے عرصے میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں لانا ممکن نہیں ہے، البتہ اگلے چار پانچ ماہ کے دوران شہر کے انفراسٹرکچر میں بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئے گی، وزیر اعلیٰ نے کہاکہ میٹروریل پراجکٹ پر کام تیزی سے جاری ہے اور وقت مقررہ پراس کو مکمل کرلیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ صرف میٹرو سے ٹریفک کے مسئلہ کو قابو میں لانا ممکن نہیں ہے۔ اس کے علاوہ دیگر متبادل ذرائع پر بھی غور وخوض کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہاکہ شہر میں بالائی سڑکوں کا ایک نیٹ ورک قائم کرنے کا حکومت منصوبہ رکھتی ہے لیکن مختلف حلقوں سے اس کی مخالفت کی جارہی ہے۔مرکزی حکومت اگر اس منصوبے کو پورا کرنے میں مدد دے تو اسے آگے بڑھایا جاسکتاہے۔ریاستی حکومت کومستحکم قرار دیتے ہوئے کمارسوامی نے کہاکہ کانگریس اور جے ڈی ایس کے درمیان تعلقات انتہائی خوشگوار ہیں۔ریاست میں سیلاب سے تباہی کے بارے میں انہوں نے کہاکہ کورگ ضلع میں سیلاب ، طوفانی بارش اور زمین کھسکنے کے واقعات سے کافی کی فصلیں مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہیں، کافی کے کاشتکاروں کی مدد کے لئے حکومت کی طرف سے ہر ممکن قدم اٹھایا جارہاہے، اس میں مرکزی حکومت کی طرف سے بھی آج تعاون کی درخواست کی گئی۔ کمار سوامی نے کہاکہ اس سلسلہ میں ریاستی سطح کے عہدیداروں کے ساتھ بھی تبادلہ خیال کیاگیا ہے۔ ان کی فراہم کردہ تفصیلات کی بنیاد پر مرکزی حکومت سے نمائندگی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ریاستی حکومت کی طرف سے کسانوں کے قرضے معاف کرنے کے لئے جو اسکیم لاگو کی گئی ہے مرکزی وزیر داخلہ نے اس میں گہری دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہے، اس سلسلہ میں تفصیلات بھی طلب کیں۔وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ریاستی حکومت کی طرف سے اب تک 45ہزار کروڑ روپیوں تک کے قرضے معاف کردئے گئے ہیں۔ انہوں نے اس سلسلہ میں ریاست کے کسانوں سے درخواست کی کہ وہ قرضوں کے معافی سے متعلق تفصیلات جلد مقامی انتظامیہ کو روانہ کردیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ریاستی حکومت کی طرف سے قرضے معاف کرنے کے لئے کوئی وقت متعین نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کسانوں میں یہ گمراہ کن خبریں پھیلائی جارہی ہیں کہ ریاستی حکومت نے قرضوں کی معافی کے لئے وقت کا تعین کیا ہے۔ کسان طبقے کو اس معاملے میں خوفزدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی کابینہ میں حال ہی میں قرضوں سے راحت کا قانون منظور کیا ہے تاکہ نجی طور پر قرضے دینے والوں کی طرف سے ہراسانی کے واقعات کو سختی سے روکا جائے۔کمار سوامی نے کہاکہ کسانوں کے قرضے معاف کرنے کے لئے ریاستی حکومت نے جو شرائط وضع کی ہیں ان کے تحت کسانوں کو اپنے قرضوں کی مکمل تفصیل ریاستی حکومت کو پیش کرنی ہوگی تاکہ قرضوں کی معافی کی رقم راست طور پر ان کے کھاتوں میں داخل کی جائے۔اگر ایسا نہیں ہوا تو اکثر حکومتوں کی طرف سے کسانوں کو دی جانے والی مراعات کا فائدہ دلال اٹھا لیتے ہیں ، ریاستی حکومت ایسا کوئی موقع فراہم کرنا نہیں چاہتی۔ ریاستی حکومت کی طرف سے ان قرضوں کی معافی کے بارے میں مرکزی وزیر داخلہ سے چند وضاحتوں کے تقاضے پر کمارسوامی نے کہاکہ تمام وضاحتیں مہیا کرادی گئی ہیں۔ ان وضاحتوں کے بعد کسانوں کے قرضے معاف کرنے اور ان سے چھوٹے اور متوسط درجے کے کسانوں کو فائدہ پہنچانے میں کافی مدد ملے گی۔