مودی حکومت نے غیر اعلانیہ اقتصادی ایمرجنسی جیسا ماحول پیداکردیا :مایاوتی
04:13PM Fri 11 Nov, 2016
لکھنؤ، (ایف او یس ) 10؍نومبر
بہوجن سماج پارٹی(بی ایس پی)کی صدر مایاوتی نے مرکزی حکومت پر 500اور 1000روپے کے نوٹوں کی قانونی حیثیت ختم کرکے ملک میں غیر اعلانیہ اقتصادی ایمرجنسی جیسا ماحول پیدا کرنے کا الزام لگاتے ہوئے آج کہا کہ نریندر مودی حکومت نے ڈھائی سال کے اپنے دور میں اپنا مکمل بندوبست کرنے کے بعد عوام میں افراتفری پیدا کرنے والا یہ قدم اٹھایاہے ۔مایاوتی نے یہاں پریس کانفرنس میں کہا کہ مرکز کی نریندر مودی حکومت نے اترپردیش میں اسمبلی انتخابات قریب آتا دیکھ اپنی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے انتخابات سے عین قبل ملک میں بلیک منی پر روک لگانے کے لیے ایمرجنسی لگانے جیسا ماحول پیدا کیا ہے، اس سے ملک میں 90فیصد لوگ ناخوش ہیں۔انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کے اس فیصلے کے بعد لوگوں میں یہ بحث ہے کہ مرکز نے اپنی ڈھائی سالہ مدت میں اپنی اور اپنی پارٹی کی اقتصادی مضبوطی کاسارا بندوبست کرنے اور سرمایہ داروں کو بڑے پیمانے پر فائدہ پہنچانے کے بعد عوام کو پریشان کرنے کا یہ قدم اٹھایا ہے۔جب یہ مکمل کام ہو گیا تو ان کو بلیک منی کی یاد آئی۔بی ایس پی صدر نے الزام لگایا کہ مرکز نے اتنا بڑا فیصلہ لینے سے پہلے غریبوں کے بارے میں نہیں سوچا۔مایاوتی نے کہاکہ میں کہنا چاہتی ہوں کہ اس فیصلے سے کالابازاری بڑھ گئی ہے۔کچھ دیر کے لیے پٹرول پمپو ں پر لوٹ ہوئی۔بی جے پی کی ان سے ملی بھگت ہے کہ جتنا کمانا ہے کما لو، کچھ حصہ ہم کو دے دینا۔اسپتا لوں اور میڈیکل اسٹور پر لوگوں کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ۔انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا نقصان غریبوں، مزدوروں اور چھوٹے کاروباریوں کو ہوا ، بی جے پی کا ووٹ بینک وہ غریب لوگ نہیں ہیں۔عوام آنے والے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی اینڈ کمپنی کو اس کی سخت سزا دے گی۔
بی ایس پی صدر نے کہا کہ بڑے کرنسی نوٹ اچانک بند کرنے کے فیصلے کو بھی دیکھا جائے تو یہ بھی اس معیار پر پوری طرح کھرا نہیں اترتا، جس کا مرکزی حکومت تصور کر رہی تھی، جو تصویر ابھری ہے، اس سے پورے ملک میں ہر طرف افراتفری کا ماحول ہے۔پرسوں رات لوگ سڑکوں پر ایسے اترے گویا زلزلہ آ گیا ہو۔کشمیر سے کنیا کماری تک عوام میں افراتفری مچ گئی۔مایاوتی نے کہا کہ بی جے پی صدر امت شاہ مرکزی حکومت کی طرف سے 500 اور 1000روپے کے نوٹوں کی قانونی حیثیت ختم کئے جانے کو سرجیکل اسٹرائیک بتا کر وزیر اعظم مودی کی تعریف کرکے اندھ بھکتی کر رہے ہیں۔سرجیکل اسٹرائیک کے علاقے محدود اورمتعین ہوتے ہیں ۔اگر ملک کے 500یا 1000بڑے سرمایہ داروں کے یہاں ایک ساتھ چھاپے ماری ہوتی تو ان کی بلیک منی کے خلاف سرجیکل اسٹرائیک مانا جاتا اور عوام بھی اس کی تعریف کرتی۔انہوں نے کہا کہ ملک میں چھپا کر رکھا گیا کالا دھن باہر نکالنے کے لیے مرکز کی حالیہ اسکیم میں اپنی جائیداد کا اعلان کرنے والوں کے ناموں کو حکومت نے عوامی نہیں کیا ہے ۔یہ بھی بحث ہے کہ اس اسکیم کا سب سے زیادہ فائدہ گجرات کے لوگوں نے اٹھایا ہے۔اس بلیک منی کی رقم جو حکومت کے خزانے میں آئی ہے، اس سے دلتوں اور غریبوں کے مفاد میں کام کیا جانا چاہیے تھا۔بی ایس پی صدر نے کہا کہ مرکز کی پچھلی کانگریس اور موجودہ بی جے پی حکومت کا اقدام، کردار، چہرہ، پالیسی اور نیت میں ذرہ برابر بھی فرق نظر نہیں آ رہا ہے۔