زرا پلا تمیں چڑواں ہاری ۔   محمد علی پرواز بھی ہم سے رخصت ہوگئے - تحریر : عبد المتین منیری

07:10PM Wed 12 Apr, 2017

      آج مورخہ ۱۲   اپریل عصر کے وقت عمر اسٹریٹ میں واقع﴿ پرواز ہاوس﴾  میں رکھا محمد علی پرواز کا جسد خاکی دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ ابھی گہری نیند میں سورہے ہیں  آپ کی یہ دائمی نیند تھی ، اب روز قیامت ہی وہ اس نیند سے اٹھا ئے جائیں گے ، پرواز صاحب کی رحلت کے ساتھ نائطی شعر و ادب کا ایک اہم ستون گر گیا ، مرحوم اس قافلہ کے آخری شہ سوار تھے ، جس نے گزشتہ صدی کی سنہ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں ممبئی سے نوائط مرکز کے خیمے تلے نائطی شعر و ادب کے فروغ  اوراسے نئی نسل میں مقبول عام کرنے کے لئے اپنی خداداد صلاحیتیں صرف کی تھی ، اور انہوں نے اس زبان کو شعر و ادب  کی نت نئی اصناف سے مالا مال کیا تھا ، سید عبد الرحیم ارشاد ، محمد علی قمر ،  سید اسماعیل حسرت برماور ، محمد حسن معلم ، شبیر بائیدا  و غیرہ اس  سلسلے کی سنہری کڑیاں تھیں  ۔ محمد علی پرواز نے عمر کی﴿ ۸۷ ﴾بہاریں دیکھیں ۔ اور آخری چند ایک سال کو چھوڑ کر جب کے وہ عارضہ قلب سے دوچار ہوگئے تھے  وہ متحرک اور فعال رہے ۔

آپ کے والد ایک جفاکش انسان تھے ، بڑی محنت سے اپنے بچوں کی کفالت کی ، ابھی پرواز صاحب تین سال کے تھے تو شوکت علی اسٹریٹ آپ کے بھائی بہنوں کو اپنا ذاتی مکان نصیب ہوا جو ﴿کندن گوڑا ہاؤس ﴾ کے نام سے مشہور تھا ، دوچار مکان چھوڑ کر شاعر بھٹکل محمد حسین فطرت کا مکان اسی محلہ کے نکڑ پر واقع تھا ، لہذا بچپن  ہی سے ان دونوں میں جان پہچان ہوگئی ۔

           اس زمانے میں تعلیم تجارت نہیں بنی تھی ، نہ ہی تین سال کی عمر میں بچوں کا بچپن چھین لیا جاتا تھا ، تعلیم قرآن سے بچے کی تعلیم کا آغاز ہوتا  ، اور  چھ سات سال کی عمر میں اسکول میں داخلہ ہوجایا کرتا تھا ، اس وقت کے اساتذہ مخلص تھے ، نونہالان قوم کو کچھ کرکے دکھلانا چاہتے تھے ، لہذا پانچ چھ سال کی تعلیم میں بچوں میں اتنی تعلیمی صلاحیت پیدا ہو جاتی تھی جو آج کے دور میں دس بارہ سال میں نہیں ہو پاتی ، پرواز صاحب گورنمنٹ پرائمری بورڈ اسکول میں ابتدائی چار سال اور انجمن ہائی اسکول میں دو سال یعنی جملہ چھ سال تعلیم پاسکے ۔اس دوران آپ کو یہاں پر مولانا قاضی شریف محی الدین اکرمی ، کوٹیشور شاہ الحمید ، کوٹیشور منصور اور ابوبکر غنی  اور خاص طور پر مولانا محمود خیال جیسے انجمن کے مایہ ناز اساتذہ سے فیض حاصل ہوا ۔

           اس کے بعد ا معاشی  ضرورتوںنے آپ کو تلاش معاش کے لئے ممبئی جانے پر مجبور کیا ، جہاں آپ نے بھنڈی بازار میں واقع شینگری محمد غوث مرحوم کی کپڑوں کی دکان میں ملازمت اختیار کی ۔ اس دوران آپ کو اہل وعیال بال بچوں کی ضروریات پورا کرنے کی ہمیشہ فکر رہی ، اس کے لئے آپ نے دکان کی ملازمت کے علاوہ بھی مختلف پیشے اختیار کئے ، جن میں ممبئی بس میں کنڈکٹر کے ملازمت بھی شامل ہے ، جس کے لئے آپ کا تین سو درخواستوں سے انتخاب ہوا تھا ، جب آپ کو یہ پیشہ نہ بھایا تو آپ نے ڈرائیونگ کرکے بال بچوں کا پیٹ پالا ۔ اس طرح  ۱۹۷۷ء  تک تیس پینتیس سال کا عرصہ ممبئی میں گزارا۔

           یہ تین دہائیاں ممبئی بھنڈی بازار میں اہالیان بھٹکل کا دور عروج تھا، اس علاقے میں جہاں دیکھو بھٹکل والوں کی کپڑوں کی دکانیں ، بیسیاں اور ریسٹورنٹ نظر آتے تھے ، سستائی کا زمانہ تھا ،ابھی منفعت خوری کا دور شروع نہیں ہواتھا ، لہذا آنے پاؤنے ہی میں منافع کا حساب لگایا جاتا تھا ،  آمد نی کے ذرائع بھی  محدود تھے ، قوت لایموت پرہی  زیادہ تر لوگوں کی گزر اوقات ہوتی تھی ۔ بے کاری بھی عام تھی ۔  پرواز صاحب نے بڑا گداز دل پایا تھا ، دوست احباب کی دل داری ، ان کی حاجت روائی آپ کے رگ رگ میں بسی تھی ، ایسے حالات میں جب کہ ان کا ہاتھ بھی بہت تنگ ہوا کرتا تھا، جب وہ کسی عزیز یاد دوست کو مجبوری ، بیماری ، بے کاری اور حالت  ضرورت مندی میں پاتے تو خاموشی سے اس کی تکیہ کے نیچے  رقم چھوڑ کر خود بھوکے پیٹ رات گزارنا ان  کے لئے عام سی بات تھی ۔

            ثقافتی ، اجتماعی و سماجی طور پر یہ ممبئی میں اہل بھٹکل کے لئے یہ ایک سنہرا دور دور تھا ، بھٹکل کے محنت کش طبقہ کا زیادہ تر طبقہ یہیں تلاش معاش میں مگن تھا ،  ان دنوں  ادارہ تربیت اخوان ، نوائط آنہ فنڈ ، نوائط مرکز ، بھٹکل مسلم جماعت ممبئی وغیرہ بھٹکلی احباب کے ادارے  کافی فعال رہے ، النوائط ، نقش نوائط ،داعی انہی ایام میں یہاں سے جاری ہوئے ۔

            نائطی شاعر و ادیب و صحافی کے طور سید عبد الرحیم ارشاد مرحوم کا سورج سنہ ساٹھ کے اواخرمیں ممبئی ہی سے طلوع ہوا ، ارشاد صاحب فطرتا شاعر تھے ، لہذا شاعرانہ اوصاف ان میں بہ اتم موجود تھے ، نت نئے ماحول میں رہنے کی انہیں عادت تھی ، صوفی سنتوں سے انہیں ابتدا میں بڑا لگاؤ تھا ، کم لوگوں کو معلوم ہے کہ ﴿چمٹے والے بابا﴾ کے آستانے سے موصوف کو پرواز صاحب ہی نکال کے لائے تھے اور انہیں ممبئی کی قومی جماعتی  و ثقافتی زندگی سے وابستہ کیا تھا ، اور نوائط مرکز کی ادبی و سماجی سرگرمیوں میں آپ ان کے شانہ بہ شانہ رہے تھے  ۔ ۱۹۷۴ء  جامعہ اسلامیہ  بھٹکل کے جامعہ آباد کے ساتھ جب فاروقی مسجد کملپکس میں جامعہ کا دفتر قائم ہوا تو غالبا ماسٹر شفیع صاحب کے ذمہ داری سنبھالنے سے قبل کچھ عرصہ یہاں پر آپ نے ذمہ داری سنبھالی ، اور اس دوران آپ  تعاون  حاصل کرنے کے لئے  وفد لے کر کلکتہ کا دورہ کیا ، جامعہ کے وفد کے لئے یہاں کے بھٹکلی احباب کے احترام ، ان کی میزبانی اور محبت کے تاثر ہی میں کلکتہ پر آپ کی وہ شاہ کار نظم  تخلیق پائی تھی  جس کا عنوان تھا

 ﴾کشی میں سوڑوں کلکتہ﴿

          پرواز صاحب نے اردو اور نائطی دونوں زبانوں میں شعری تخلیقات کیں ، لیکن چونکہ کسی تاثر ہی کے نتیجہ میں  آپ سے شعر وں کی آمدہوتی تھی  لہذا آپ کا کلام بہت محدود رہا ، لیکن چونکہ آپکے  افکار و خیالات  نائطی تہذیب و ثقافت کی سوندھی مٹی سے گوندھے ہوئے تھے  لہذا آپ کے قلم سے جو بھی گیت یا نظم وارد ہوا اسے اپنے دور میں بے پناہ مقبولیت ملی اور وہ  گھر گھر کی عورتوں اور مردوں کی زبان پر چڑھ گیا

﴾موجی ہمدرد بہنیانو ایکا خبر گے﴿ 

           آپ کا پہلا گیت تھا جو سنہ ۱۹۶۰ء کے اوائل میں آپ کی قلم سے نکلا تھا ، بنیادی طور پر یہ کورس  کی شکل میں ایک طویل  منظوم مکالمہ ہے جو دلہن اور اس کی  سہلیوں کے درمیان ہوتا ہے ، ابھی چند سال قبل تک یہ نکاح کی شب  دلہن کو  جب  تخت پر بٹھایا جاتا تھا ، اور اس کے سامنے خوش الحان خواتین  ﴿جلوہ﴾ کی شکل میں جھوم جھوم کر گاتی تھیں ۔ جلوہ  ان لوک گیتوں کو کہا جاتا ہے ، جو شب نکاح دلہن کے سامنے خواتین گاتی ہیں ۔   ہر خواص و عام کی زبان پر اس طویل گیت کے بند یاد  ہوا کرتے تھے ۔اس طرح ﴿ سنت رسول اللہ توکا مبارک ﴾ بھی اپنے دور کو مقبول ترین جلوہ تھا۔

            پرواز صاحب کی جو نظم انہیں ہمیشہ زندہ رکھے گی وہ ہے ﴿ رڑتے گذرتا موجی گھڑی ۔ زرا پلا تمیں چڑواں ہاری ﴾ پرواز صاحب نے بلا کا موثر نائطی لہجہ پایا تھا ، جب وہ یہ گیت پڑھتے تھے توسننے والوں کی  آنکھوں سے آنسو جاری ہوتے تھے ،  ایسا محسوس ہوتا ہے  ان کے زندگی میں کبھی ایسے لمحات گزرے ہیں جب  اہل و عیال کی ضروریات پورا کرنا  ان پر دشوار ہوگیا  ،  ایک ذمہ دار اور حساس دل رکھنے والا شاعر اس الم کی شدت کو برداشت نہ کرسکا ، اور نائطی زبان کو خون جگر سے نکلا ہوا ایک شعری شاہکار مل گیا ۔  یہ ایک ایسی نظم ہے جو انسان میں احساس ذمہ داری  جگاتی ہے ۔ اور اپنے اندر ایک عظیم پیغام سموئے ہوئے ہے ۔

           ۱۹۷۷ء میں آپ نے تلاش معاش کے لئے دبی کا سفر کیا  اور وہاں  ۱۹۹۸ء تک جملہ ﴿۲۱﴾ سال  بڑی عزت نفس کے ساتھ  شیخ احمد محمد زکریا  صاحب کی دکان میں معمولی مشاہرے پر گزارے ، بھٹکل کے ایک اور عظیم شاعر محمد حسن معلم مرحوم بھی انہی کفیل کے پاس  ملازم تھے  ،  لیکن جب کفیل نے کاروبار سمیٹا تو مسجد بن دلموک میں امام مسجد مسعود خمیس مرحوم کی جگہ پر جزوقتی اذان و امامت اور دو ایک ٹیویشن پر گزارا کیا ۔ ابتدائی دنوں میں  وہ  یہاں کے بھٹکلی احباب کی ثقافتی و ادبی  میں شریک ہوا کرتے تھے ۔ آپ کے کفیل  اخیر وقت تک آپ کو یاد کرتے تھے اور ذکر خیر کرتے تھے ۔

           گزشتہ  ۱۹ سالوں میں جب تک  وہ چلنے پھرنے کے قابل رہے ، بھٹکل کی ادبی محفلوں میں شریک رہے ، نوائط محفل وغیرہ میں بھی فعال رہے ، گزشتہ سال خبر آئی تھی کہ نوائط محفل کی طرف سے آپ کے اعزا میں ایک پروگرام بھی رکھا گیا تھا۔

              چند سال قبل جب بھٹکلیس میں ہم نے نائطی کلاسیکل شاعری کو شعراء کی اپنی آواز میں محفوظ کرنے کا سلسلہ شروع کیا تو

نائطی کے ایک اور شاعر جناب عبد اللہ رفیق صاحب کے پرواز صاحب کا کلام محفوظ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ، رفیق صاحب کی دلچسپی اور تعاون سے مرحوم کے گھر کئی روز حاضری ہوئی اور آپ کی آواز میں منتخب کلام ریکارڈ کیا گیا ، جب دل کا دورہ پڑا تو کہنے لگے اس وقت آپ نے انہیں محفوظ کردیا ، اب اسے محفوظ کرنا ممکن نہیں تھا، اللہ کا شکرہے نائطی زبان کے اس عظیم شاعر کی آواز اور پیغام کو زندہ رکھنے کی توفیق بھٹکلیس کے حصے میں بھی  آئی ، جس طرح آپ کے پیش رو  سید عبد الرحیم ارشاد مرحوم کے آواز و آہنگ کی حفاظت اس کے حصہ میں آئی تھی ،۔  مرحوم جس تہذیب اور ثقافت کے امین تھے ، اب وہ روایتیں معاشرے سے ختم ہوتی جارہی ہیں ، اس زوال پذیر معاشرے میں آپ جیسی شخصیات یاد آتی رہیں گی ، اور ان کے بلندی درجات کے لئے ہاتھ بلند ہوتے رہیں گے ، اللہم اغفر لہ وارحمہ

 ammuniri@gmail.com