برادران وطن کے ساتھ خوشگوار تعلقات رکھنے روشن بیگ کی آواز

02:20PM Mon 1 May, 2017

مسلمان خدمت خلق کو نصب العین بنالیں: مولانا حنیف افسر عزیزی بنگلورو۔(بھٹکلیس نیوز)وزیر برائے شہری ترقیات وحج آر روشن بیگ نے آج بتایا کہ انسان زندگی میں چاہے جتنا بھی عیش وآرام کرلے مگر اس کی موت کے بعد آخری آرام گاہ کیلئے جگہ نہ ملے تو اس سے شرمناک بات اور کوئی نہیں ہوسکتی۔ یلہنکا ہوبلی کے وڈیرا ہلی دیہات میں طٰہٰ قبرستان کی تجدید شدہ سہولیات اور تقریب تشکر کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایاکہ ریاست کی تقریباً 28 فیصد آبادی شہری علاقوں میں مقیم ہے اور 2030تک اس کی شرح 50 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے، ایسے میں شہری علاقوں میں قبرستانوں کیلئے جگہ مہیا ہونا مشکل ہوگیا ہے، جس کے پیش نظر حکومت نے سرکاری زمینات کو قبرستانوں کیلئے فراہم کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔ انہوں نے اس قبرستان کی منظوری میں اہم رول ادا کرنے والے بی جے پی کے مقامی رکن اسمبلی ایس آر وشوناتھ اور ملیشورم کے بی جے پی رکن اسمبلی ڈاکٹر سی ایس اشوتھ نارائن کی کاوشوں کی ستائش کرتے ہوئے بتایاکہ اگر ایسے منتخب نمائندے ملک میں موجود ہوں تو سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ معنی خیز ہوسکتا ہے۔ ان اراکین اسمبلی نے مسلمانوں کے قبرستان کیلئے نہ صرف دیڑھ ایکڑ زمین فراہم کی ہے بلکہ ان لوگوں نے یہاں پر بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے بے لوث خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ مسلمانوں کو ضرورت ہے کہ وہ حکمت کا سہارالیں کیونکہ ہماری آبادی صرف 16 فیصد ہے، روزانہ ہمیں برادران وطن سے ہی ملاقاتیں اور کاروبار کرنا پڑتاہے۔ جناب روشن بیگ نے بتایاکہ نریندر مودی بی جے پی کے نہیں بلکہ اس ملک کے وزیراعظم ہیں۔ ایسے میں ہمیں کھلے ذہن سے کام کرنا چاہئے۔ انہوں نے بتایاکہ وہ خدمت خلق عبادت کی طرح کرتے ہیں، اسلام ایسا مذہب ہے جس میں ایک کتے کو پانی پلانا بھی ثواب کا درجہ رکھتا ہے۔ ایسے مذہب پر چلنے والوں کو چاہئے کہ وہ حکمت سے ملک میں زندگی بسر کریں۔اس موقع پر ماہر مورخ پروفیسر بی شیخ علی کے ایک قول کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر موصوف نے بتایاکہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ سستی ، مستی اورزبردستی کو ترک کریں۔ اور پیار ومحبت ، بھائی چارہ اور ہم آہنگی سے اپنے نشانہ کو پار کریں۔ انہوں نے دونوں اراکین اسمبلی کی سیکولر ذہنیت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے بتایاکہ مسلمانوں میں موجود احساس عدم تحفظ کو ختم کرنا بے حد ضروری ہے۔ اس موقع پر مسجد بیوپاریاں کے خطیب وامام مولانا حنیف افسر عزیزی نے واضح الفاظ میں بتایاکہ اگر ملک میں مسلمانوں کو اپنی شناخت مذہب ، تشخص اور عظمت کے ساتھ زندگی گزارنا ہے تو خدمت خلق کو اپنا نصب العین بنائیں۔ انہوں نے بتایاکہ اگر اس ملک میں آج بھی فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارہ کا ماحول ہے تو اس کیلئے وشواناتھ اور اشوتھ نارائن جیسے اراکین اسمبلی ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے بی جے پی اراکین اسمبلی سے مخاطب ہوکر بتایاکہ اگر وہ کسی سچے مسلمان کو سینے سے لگائیں تو آپ کو ماں کی ممتا سے زیادہ محبت محسوس ہوگی۔انہوں نے دونوں اراکین اسمبلی کو مسجد بیوپاریاں میں جمعہ کی نماز کے موقع پر شریک ہونے کی دعوت بھی دی۔ صدارتی خطاب کرتے ہوئے یلہنکا کے رکن اسمبلی ایس آر وشواناتھ نے دوٹوک انداز میں بتایاکہ بی جے پی کو فرقہ پرست اور مسلم دشمن جماعت قرار دیا جاتاہے مگر بقول وزیراعظم نریندر مودی مسلمانوں کو دور رکھ کے طاقتور ملک کی تعمیر ناممکن ہے۔ ایسے میں ہم لوگ مسلمانوں میں موجود غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اپنے حلقہ میں شدید مخالفت اور رکاوٹوں کے باوجود مسلمانوں کو سرکاری سہولیات فراہم کرنے کی دیانتدارانہ کوشش کی جارہی ہے۔ایم ایس پالیہ میں مسجد کی تعمیر میں موجود رکاوٹوں کو ختم کرتے ہوئے تعمیری کام کیلئے اجازت فراہم کی گئی ہے۔ اسی طرح گزشتہ پچاس برسوں سے ایم ایس پالیہ میں سرکاری زمین پر مقیم لوگوں کو حق پتر فراہم کیا گیا ہے جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ ایسے میں ہم لوگوں کو چاہئے کہ ہم ایک خاندان کی طرح زندگی بسر کریں۔ ہمارے ذریعہ کسی بھی مسلمان کو تکلیف ہونے نہیں دی گئی اور آئندہ بھی ایسا نہیں ہوگا۔ انہوں نے طٰہٰ قبرستان کیلئے درکار تمام سہولیات فراہم کرنے کا وعدہ دہرایا اور بتایاکہ روشن بیگ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی زندہ مثال ہیں۔ ہر سال رمضان میں میوہ جات ان کے گھر پہنچائے جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ ملک کی ترقی کیلئے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارہ بے حد ضروری ہے، اس میں رکاوٹ بننے والوں کے خلاف تحریک چلائی جائے۔ ڈاکٹر اشوتھ نارائن نے بتایاکہ مسجد طٰہٰ کمیٹی کے ذریعہ حکومت کی امداد کا انتظار کئے بغیر جس طرح تیز رفتاری سے قبرستان کی تعمیر مکمل کی گئی ہے اسی طرح دیگر اداروں کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے طور پر جدوجہد کریں۔انہوں نے بتایاکہ ہر کوئی روزانہ ملک کی تعمیر کیلئے جدوجہد کرتا ہے ایسے میں غلط فہمیوں کو دور کرتے ہوئے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ذریعہ زندگی بسر کریں تو ملک میں خوشحالی ممکن ہے۔ استقبالیہ خطاب کرتے ہوئے کار گذار صدر کنڑا سمیع اﷲ خان نے بتایاکہ اس قبرستان کی جگہ کیلئے بھی کئی لوگوں نے رکاوٹیں پیدا کی تھیں ، جنہیں دور کرنے کیلئے جناب روشن بیگ نے نمایاں رول ادا کیا اور اس پروگرام میں شرکت کیلئے وہ نئی دہلی میں وزیراعظم نریندر مودی کی موجودگی میں منعقدہ بسوا جینتی پروگرام میں بطور سرکاری نمائندہ شریک نہ ہوسکے۔جلسے کا آغاز قرأت سے ہوا۔اس موقع پر مسجد طٰہٰ کمیٹی کے صدر ہارون رشید ، کارپوریٹر نیترا پلوی ، سنٹرل مسلم اسوسی ایشن کے سید شاہد احمد ، مولانا فضل الرحیم کے علاوہ برادران وطن کی بڑی تعداد جلسہ میں موجود رہی۔طٰہٰ قبرستان میں غسل خانہ کے ساتھ پانی اور لائٹنگ کے عمدہ انتظامات موجود ہیں۔