سعودی شہری پر بجٹ کا انعکاس کیسا ہوگا ؟

03:11PM Fri 23 Dec, 2016

اگرچہ سعودی عرب واضح پروگراموں کے ذریعے آمدنی کے ذرائع میں تنوع کی جانب گامزن ہے جس کا مقصد مالی استحکام کو برقرار رکھنا ہے.. تاہم ان پروگراموں میں متعدد اقدامات کے ذریعے سماجی پہلو اور محدود آمدنی والوں کو خصوصی طور خاطر میں لایا گیا ہے۔ مملکت کے بجٹ میں ریاست کی سپورٹ کی منصفانہ تقسیم کو مقصد بنایا گیا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے مذکورہ سپورٹ کو مستحق افراد تک پہنچانے اور تیل کے متبادل وسائل فراہم کرنے کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ نئے بجٹ میں بالواسطہ اقدامات کے ذریعے سعودی شہریوں کو روزگار کے مواقع کی فراہمی کو یقینی بنانے پر پوری توجہ دی گئی ہے۔ اس کا مقصد اُن سیکٹروں میں سعودی ملازمین کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے جن میں غیر ملکی لیبر کے سبب مقامی افراد کی تعداد کم ہے۔ مالیاتی استحکام برقرار رکھنے کے لیے مملکت نے متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ ان اقدامات کا آغاز 2017 میں بجلی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے ہوگا۔ 2018 میں ویلیو ایڈڈ ٹیکس لاگو کیا جائے گا۔ 2019 میں پانی کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے گا اور 2020 میں ان تمام قیمتوں کو عالمی قیمتوں سے مربوط کر دیا جائے گا۔ بجٹ اور ترقیاتی پروگراموں میں اس بات پر خصوصی توجہ مرکوز رکھی گئی ہے کہ مذکورہ اقدامات کا محدود آمدنی والے سعودی شہریوں پر منفی طور اثر نہ پڑے۔ اس حوالے سے سعودی خاندانوں کو پانچ مجموعوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ماہانہ 20 ہزار ریال سے کم آمدنی والے خاندانوں کو مذکورہ اشیاء کی قیمتوں میں بتدریج اضافے کے اثرات سے بچانے کے لیے نقد سبسڈی دی جائے گی۔ پہلے اور دوسرے مجموعے کے خاندان پوری یعنی 100 فی صد سبسڈی حاصل کریں گے جو انہیں بجلی اور پٹرول جیسی خدمات کی مد میں ادا کی جائے گی۔ تیسرے مجموعے کو 75 فی صد اور چوتھے مجموعے کو 50 فی صد سبسڈی ملے گی جب کہ پانچویں اور آخری مجموعے میں آنے والے خاندانوں کو کسی قسم کی سبسڈی نہیں دی جائے گی۔ یہ وہ خاندان ہوں گے جن کی ماہانہ آمدنی 20 ہزار ریال سے زیادہ ہے۔ ان پروگراموں میں کافی بڑی شکل میں سماجی انصاف کو یقینی بنایا گیا ہے۔ اعلان کردہ پروگراموں کے مطابق آئندہ برس فروی سے مئی کے اختتام تک سعودی شہریوں کے کھاتے اور ان کے کوائف کا اندراج عمل میں آئے گا۔ جون 2017 میں سعودی حکومت کی جانب سے مستحق شہریوں کو پہلی سپورٹ فراہم کی جائے گی جب کہ جولائی میں قیمتوں میں اضافے کا اطلاق ہوگا۔