سعودی عرب نے بالآخر خشوگی کے قتل کا اعتراف کر لیا، اقوام متحدہ سربراہ فکرمند

12:16PM Sat 20 Oct, 2018

سعودی عرب نے بالآخر تسلیم کر لیا ہے کہ ترکی کے استنبول میں واقع اس کے قونصل خانے میں ایک جدوجہد کے دوران صحافی جمال خشوگی کی موت ہو گئی۔ سعودی عرب کی سرکاری میڈیا نے  خشوگی کی موت کی تصدیق کی ہے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی میں ایس پی اے نے ہفتہ کو بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ  خشوگی کی ترکی کے استنبول واقع قونصل خانے کی عمارت میں ایک جدوجہد کے بعد موت ہو گئی۔ قونصل خانے میں خشوگی اور دوسرے لوگوں کے درمیان پہلے بحث ہوئی جو بعد میں ہاتھا پائی میں تبدیل ہو گئی جس میں خشوگی کی موت ہو گئی۔ اس معاملے میں تحقیقات اب بھی جاری ہے اور سعودی عرب کے تقریباً 18 شہریوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس معاملہ میں خفیہ محکمہ کے نائب سربراہ احمدالاسیری اور کراؤن پرنس محمد بن سلمان کے سینئر ساتھی سعود الخطاني کو برخاست کر دیا گیا ہے۔
 الجزیرہ کے مطابق سعودی عرب نے صحافی خشوگی کے قتل پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اس معاملہ میں تعاون کرنے کے لئے ترکی حکومت کی تعریف کی ہے۔ یہ ابھی تک واضح نہیں ہو پایا ہے کہ خشوگی کے قتل کے بعد ان کی لاش کو کہاں لے جایا گیا۔ خشوگی سعودی عرب کے ولی عہد پرنس محمد بن سلمان کے سخت ناقد تھے۔ وہ تقریبا ایک سال سے امریکہ میں رہ رہے تھے۔ خشوگی امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے لئے کام کرتے تھے۔ انہیں آخری بار دو اکتوبر کو استنبول میں دیکھا گیا تھا۔ وہ اپنی شادی کے لئے ضروری دستاویزات پورے کرنے کے لئے سعودی عرب کے قونصلیٹ گئے تھے۔ یہ پہلی بار ہے جب سعودی عرب کی حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ صحافی جمال خشوگی کی موت ہو چکی ہے۔اس سے پہلے سعودی عرب کے حکام نے خشوگی کے سعودی عرب کے قونصلیٹ میں مارے جانے کی خبروں سے انکار کیا تھا۔ موصولہ رپورٹوں کے مطابق سعودی عرب کے شاہ سلمان نے خفیہ محکمہ کی تنظیم نو کے لئے کراؤن پرنس محمد بن سلمان کی قیادت میں وزرا کی ایک کمیٹی قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔