رہنمائے کتب : احادیث مبارکہ ﷺ کی فہرست سازی میں مستشرقین کا اہم کارنامہ ... تحریر : عبد المتین منیری

09:15PM Sat 24 Jun, 2017

مطلوبہ مواد تک کم وقت میں اور آسانی سے رسائی کے لئے بڑی کتابوں کی فہرست سازی اور اشاریہ بنانے کا فن مسلمانوں کا ایجاد کردہ ایک اہم فن ہے ، حروف تہجی کی بنیاد پر کتب لغت کی ترتیب اس کا اولین مظہر ہے ، خلیل بن احمد فراہیدی (۱۷۵ھ) نے حروف تہجی کی ترتیب پر اپنی لغت ﴿کتاب العین ﴾ابن درید ( ۳۲۱ھ) نے اپنی لغت ﴿کتاب الجمھرۃ ﴾ یورپ کی کسی لاطینی زبان کی پہلی ڈکشنری کے وجود میں آنے سے تین سو سال پہلے تیار کی تھی ، چونکہ دین اسلام کی اساس قرآن و سنت پر ہے اور حدیث نبوی ﷺ کی شکل میں سنت کا ذخیرہ ایک لاکھ احادیث نبویہ تک پہنچتا ہے اور اتنے بڑے ذخیرے میں سے مطلوبہ حدیث نبویﷺ تک پہنچنا بہت ہی وقت طلب کام ہے لہذا حدیث کی فہرست سازی کی ضرورت پہلی صدی ہجری ہی میں محسوس کی گئی اور تلاش حدیث کو آسان بنانے کے لئے مختلف طریقے ایجاد ہوئے جن میں سے مندرجہ ذیل چار طریقے اہم ہیں ۔ ۱۔ اطراف حدیث و مسانید کی فہرست سازی : اس کا طریقہ یہ تھا کہ کتب حدیث میں سے کسی کتاب کو منتخب کیا جائے، اس میں جتنے صحابہ کرام کی روایات مندرج ہیں ان کے ناموں کوحروف تہجی پر ترتیب دیا جائے ، پھر ہر صحابی کی روایات کے ابتدائی ٹکڑوں کو ترتیب وار جمع کیا جائے۔یہ فہرست سازی میں رائج ہونے والاپہلا طریقہ تھا، جیسا کہ امام دارمی ؒ کی سند سے ابن عون کے اس قول سے معلوم ہوتا ہے ۔کہ’’ امام ابراہیم نخعی ( ۹۶ھ) نے حماد ابن ابی سلیمان کوفی (۱۲۰ھ) کواپنی کچھ روایات لکھتے ہوئے دیکھا تو دریافت کیا کہ کیا میں نے تم کو لکھنے سے روکا نہیں تھا؟ تو آپ نے فرمایا کہ یہ اطراف ہیں’’ کہ اطراف الحدیث جمع کرنے کا یہ طریقہ پہلی صدی ہجری کے اواخر میں رائج ہوچکا تھا۔ ان فہرستوں میں ابی مسعود دمشقی ( ۴۰۱ھ) کی﴿اطراف الصحیحین﴾’’ ، ابو العباس احمد بن ثابت بن محمد طرقی اصبہانی ( بعد ۵۲۰ھ) کی ﴿اطراف کتب خمسہ﴾ ،ابن عساکر ( ۵۷۱ھ) کی۔﴿ الاشراف بمعرفۃ الاطراف﴾، مزی ( ۷۴۲ھ) کی﴿ تحفۃ الاشراف بمعرفۃ الاطراف﴾، اور عبد الغنی نابلسی (۱۱۴۳ھ) کی ۔﴿ذخائر المواریث فی الدلالۃ علی مواضع الاحادیث’﴾ اہمیت کی حامل ہیں۔ ۲۔ احادیث کی ابتدائی عبارتوں کی فہرست سازی فہرست ساز موضوعات یا مسانید پر ترتیب دی ہوئی کتاب منتخب کرتا ہے ،پھرجملہ احادیث کی ابتدائی عبارتوں کو حروف تہجی پرترتیب دیتا ہے ۔ آج کل یہ طریقہ بہت زیادہ رائج ہے ۔ امام جلال الدین سیوطی ؒ (۹۱۱ھ) فہرست سازی کے اس طریقہ کے راہنما تھے ، آپ کی ﴿کتاب الجامع الکبیر ، الجامع الصغیر اور زوائد الجامع الصغیر ﴾ اسی ترتیب پر تیار کی گئی ہے ۔ ۳۔ موضوعاتی فہرست: فہرست ساز مسانید کی ترتیب پر موجود کسی کتاب کو منتخب کرکے موضوعات پر اس کو از سر نو ترتیب دیتا ہے ، اس طرح موضوعات پر پھیلی روایات کو ایک جگہ پر سمیٹتا ہے ، کوئی اس طریقہ پر دو یا زیادہ کتابوں کو ترتیب دیتا ہے، اس انداز سے ترتیب دی گئی فہارس میں حمیدی ( ۴۸۸ھ) کی ﴿الجمع بین الصحیحین﴾ رزین ( ۵۳۵ھ) کی ﴿التجرید للصحاح الستۃ﴾، ابن الاثیر (۶۰۶ھ) کی ﴿جامع الاصول﴾، ھیتمی (۸۰۷ھ) کی ﴿مجمع الزوائد﴾د ، حافظ ابن حجر عسقلانی (۸۵۲ھ) کی﴿ المطالب العالیۃ﴾ ، علی المتقی برہانپوری (۹۷۵ھ) کی﴿ کنز العمال﴾ ، احمد بن عبد الرحمن البناء الساعاتی کی ﴿الفتح الربانی فی ترتیب مسند الامام احمد بن حنبل الشیبانی﴾ اور ﴿منحة المعبود فی ترتیب مسند الطیالسی ابی داؤد ﴾ شامل ہیں ۔ ۴۔ الفاظ حدیث کی فہرست فہرست ساز کسی متعین حدیث کی کتاب کو لے کر اس میں سے مشکل و نامانوس الفاظ کو اکٹھا کرکے انہیں لغت کے انداز میں حروف تہجی پر ترتیب دے ،پھر یہ الفاظ جس حدیث میں وارد ہوئے ہیں وہ عبارتیں نقل کرے۔ اس طرح اس فہرست میں ایک حدیث کئی مرتبہ نقل ہوتی ہے۔ اس قسم کی فہارس میں شیخ مصطفی بن علی بن محمد مصطفی البیومی مصری کا نا م آتا ہے جنہوں نے اس طریقہ کو ایجاد کیاتھا، اور کتب ستہ کی اہم کتابوں کی فہرست سازی کی تھی ۔آئے اب ہم اس میدان میں مستشرقین کے اہم کارنامے کا تذکرہ کرتے ہیں ۔ اٹھارویں صدی عیسوی میں جب مشرقی ممالک پر مغربی سامراج کا غلبہ شروع ہوا تو ان قوتوں کی کوشش ہوئی کہ یہاں کے تہذیب و تمدن و ثقافت کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کریں ، تاکہ ان اقوام کے مزاج کو سمجھ کر ان پرحکومت کرنا آسان ہوسکے ۔ کوشش کی جائے کہ ان کی غلام قوموں کا علمی ورثہ ان کے قبضہ میں اس طرح آئے کہ بوقت ضرورت اپنے قومی ورثہ سے استفادے کے لئے یہ سامراجی اداروں سے رجوع کرنے پر مجبور ہوں ، اس طرح غاصب قوت کو ان کے مذہبی امور میں بھی مرجعیت حاصل ہوسکے۔ لہذا جن ملکوں پر ان کا قبضہ ہوا یہاں کے کتب خانوں اورنادر قلمی کتابوں کو ڈھونڈھ ڈھونڈ کر اپنے ملکوں میں منتقل کیا گیا اور انہیں سینت سینت کر اور حفاظت سے رکھا گیا ، پھر اپنوںکے ان سے استفادہ کو آسان بنانے کے لئے فنی بنیادوں پر ان کی فہرستیں ترتیب دی گئیں اور فہرست سازی کے جس کام کو مسلمانوں نے ایجاد کیا تھا اسے ترقی کی انتہاء تک پہنچانے کی کوشش کی گئی ، اس مقصد کے حصول کے لئے انہوں نے اپنی حکومتوں کے خزانے کھول دئے ۔یہ کام صرف قلمی کتابوں کے ناموں اور ان کے مصنفین کی تفصیلات پر مشتمل فہرستوں کی حد تک محدود نہیں رہا ، بلکہ ان قوموں کی بنیادی علمی کتابوں کے صفحات کے اندر پھیلے ہوئے مواد تک کم وقت میں رسائی کے لئے ان کی تفصیلی فہرستیں تیار کی گئیں ۔ایسے علمی کاموں کو انہوں نے طویل المیعاد پروجکٹ کی حیثیت سے اس طرح مکمل کیا کہ اپنے ملکوں کی مالدار یونیورسٹیوں ۔ اکیڈمیوں سے اس کے لئے بجٹ میں حصہ مقرر کیا جاتا تھا ، اس کی تیاری کے لئے مشرقی زبان کے ماہرین کو جنہیں عرف عام میں مستشرق کہا جاتا ہے ان کی ٹیم تیار کی جاتی ،کتاب تیار ہونے کے بعد اس کا محدود مقدار میں ایڈیشن تیار ہوتا جو حصہ داروں پر تقسیم ہوکر ان کے کتب خانوں کی زینت بن کر نایاب ہوجاتا، اس طرح یہ عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہوجاتا ، یہی وجہ تھی کہ مستشرقین کے جو قابل تعریف کام ہیں ان سے مسلم ممالک اور برصغیر کے اہل علم عرصہ تک نابلد رہے ۔ یہ علمی کام ان کی دسترس سے باہر رہے ، ایسے علمی کاموں میں مستشرقین کی تیار کردہ حدیث شریف کی فہرستیں بڑی اہمیت کی حامل ہیں ، کمپوٹر اور انٹر نٹ کے آج کے دور میں جب کہ چند سکنڈوں میں مطلوبہ معلومات تک پہنچا جاسکتا ہے ، مطبوعہ کتابیں روز بروز اپنی اہمیت کھوتی جارہی ہیں ۔ المکتبۃ الشاملۃ ، جامع الحدیث، موسوعۃ الحدیث الشریف ، جوامع الکلم جیسے سوفٹ ویر عام ہو کر فہرستوں کی ضرورت ختم کررہے ہیں ، مستشرقین کی تیار کردہ ان فہرستوں کی افادیت اب بھی باقی ہے ، زمانہ گزرنے کے باوجود ابھی ان کی رونق ماند نہیں پڑی ہے ، آج کی مجلس میں ان میں سے چند ایک کا تذکرہ کرتے ہیں ۔ جاری۔۔۔۔

 مفتاح کنوز السنۃ

موضوعاتی بنیاد پر ترتیب شدہ یہ حدیث کی سب سے بڑی فہرست ہے ۔ یہ حدیث کی ﴿۱۴﴾ بنیادی کتابوں ۔’’صحیح بخاری ، مسلم ، سنن ابو داؤد،ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ ، دارمی ، مؤطا مالک ، مسند احمد، ابوداؤد طیالسی ، زید بن علی ، مغازی واقدی ، سیرت ابن ہشام ، طبقات ابن سعد’’ میں وارد احادیث و آثار کی موضوعاتی تقسیم پر مشتمل ہے ۔ اس کی ترتیب میں مفہوم ، علمی مسائل، تاریخی شخصیات کی حروف تہجی پر تقسیم ، اور ہر موضوع کے تحت ذیلی عنوانات کا اہتمام کیا گیا ہے ، پھر ہر ذیلی عنوان کے تحت متعلقہ حدیث کا مختصر مفہوم بطور سرخی اور اس کے ساتھ جن کتابوں میں یہ پائی جاتی ہیں حوالہ کے لئے ان کے علامتی رموز دئے گئے ہیں ۔اگر آپ کو حدیث کا ابتدائی حصہ یا کوئی لفظ یاد نہ ہو ، یا لفظ کے ہجے میں غلطی ہورہی ہو تو بھی مفہوم کی بنیاد پر تھوڑی سی مشق سے بہ آسانی مطلوبہ حدیث تک آپ پہنچ سکتے ہیں ۔ یہ فہرست ، تقریر کی تیاری اور مقالہ کی تیاری کے موقعہ پر خطیبوں اور مقالہ نگاروں کو موضوع سے متعلق احادیث تک بہت ہی کم وقت میں رسائی دلا سکتی ہے ۔ یہ یم اے اور ڈاکٹریٹ کی تھیسیس تیار کرنے اسکالروں کے لئے بہت ہی مفید اور معاون ہے ۔ متوسط ضخامت میں ہونے کے باوجود اپنے مطلوب تک پہنچانے میں یہ دوسری بڑی اور صخیم فہرستوں سے زیادہ سود مند ثابت ہوسکتی ہے۔ اس فہرست کا اہم امتیاز سیرت ، قصص الانبیاء و صحابہ کرام کی شخصیات سے متعلق مواد کو یکجا فراہم کرنا بھی ہے ۔ مثلا آپ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی سیرت پر چودہ کتابوں میں منتشر احادیث و آثار کو مرتب طور پر یکجا دیکھنا چاہتے ہو ں تو آپ کو ﴿عمر ﴾ کی شہ سرخی کے تحت پانچ صفحات ﴿۳۵۷۔۳۶۱﴾ پر ایک سو سے زیادہ جامع عنوانات کے تحت آپ کی سیرت کا احاطہ ملے گا ۔ جو اس طرح ہونگے۔ ٭اسلامہ٭شہود جبریل اسلام عمر٭سماہ اہل الکتاب الفاروق٭۔صفۃ عمر ٭قول النبی ﷺ لاتنسنا فی دعائک ٭ماطلعت الشمس علی رجل خیر من عمر۔۔۔۔۔۔ اگر ان روایات کا حوالہ دینے کے بجائے مکمل روایتیں دی جائیں تو انداز ا یہ ڈھائی تین سو صفحے کی کتاب بن جائے گی۔انگریزی زبان میں اس کتاب کی تیاری کا آغاز (۱۳۳۵ھ ۔ ۱۹۱۷ء) میں ولندیزی مستشرق آرنٹ جان وینسنک A.G.Wensincit ( ۱۹۳۹ء) نے کیا تھا ۔دس سال کی لگاتار محنت کے بعد اس کا انگریزی ایڈیشن (۱۳۴۶ھ ۔ ۱۹۲۷ء) میں لائڈن سے شائع ہوا ۔ چودہ سال بعد اس کا عربی ترجمہ استا د محمد فواد عبد الباقی نے ( ۱۳۵۳ھ۔۱۹۴۱ء ) میں قاہرہ سے شائع کیا۔ عربی ایڈیشن کی تیاری میں مترجم کو علامہ رشید رضا مصری سے بھرپور رہنمائی حاصل ہوئی ۔ علامہ نے کتاب کے مقدمے میں اس کتاب کے بارے میں اپنے جذبات کا اظہار یوں کیا ہے اگر اس جیسی جملہ کتب حدیث کی کنجیاں میرے ہاتھ میں ہوتیں تو عبارتوں کے تلاش میں گذرنے والی میری آدھی عمر بچ جاتی ، باوجود اس کے اس کتاب ﴿مفتاح کنوز السنۃ ﴾ سے بے نیازی نہ ہوتی ، کیونکہ یہ کتاب آپ کی رہنمائی جہاں ان قولی احادیث کی طرف کرتی ہیں جن کے ابتدائی الفاظ سے آپ واقف ہیں ، وہیں یہ آپ کی رہنمائی تمام قولی و عملی سنتوں جیسے شمائل ، وضاحتوں ، مناقب اور غزوات وغیرہ سے وابستہ احادیث کی طرف کرتی ہے ۔ اگر یہ یا اس قسم کی کوئی کتاب حدیث کی کتابوں کے ساتھ میری مشغولیت  --کے ابتدائی زمانے میں ملتی تو میری تین چوتھائی عمر اس میں صرف ہونے سے بچ جاتی

المعجم المفھرس لالفاظ الحدیث النبوی

یہ حدیث نبوی کی نو مشہور کتابوں کے الفاظ کی فہرست ہے ۔ اس میں صحاح ستہ کے علاوہ مؤطا مالک ، مسند احمد اور مسند الدارمی شامل ہیں ۔اس پر وجکٹ کے لئے برطانیہ،فرانس، بلجیم،ڈانمارک ،اسپین ، ناروے اور ہولینڈ کی علمی اکیڈمیوں اور حکومتوں نے مالی تعاون پیش کیا تھا۔اس معجم کی تیاری کا خیال مفتاح کنوز السنۃ کے مصنف وینسنک کو (۱۳۳۴ھ ۔ ۱۹۱۶ء ) میں آیا تھا ، اور (۱۳۴۰ھ۔۱۹۲۲ء) میں آپ کے زیر نگرانی مستشرقین کی ایک ٹیم نے اس کام کا آغاز کردیا تھا۔ فنسنک نے( ۱۳۵۵ھ۔ ۱۹۳۶ء) میں اس کی پہلی جلد کی اشاعت مکمل کی ، لیکن قبل اس کے کہ یہ پروجکٹ مکمل ہو آپ کی (۱۳۵۸ھ۔ ۱۹۳۹ء )میں موت واقع ہوگئی ۔ پھر اس کام کو مستشرقین کے دوسرے گروہوں نے یکے بعد دیگرے آگے بڑھایا۔ یہاں تک کہ( ۱۳۸۹ھ ۔ ۱۹۶۹ء) میں اس کی ساتویں جلد منظر عام پر آئی ، پھر (۱۴۰۷ھ ۔ ۱۹۸۷ء) میں شخصیات ، قرآنی آیات اور جگہوں کی فہرست پرمشتمل آٹھویں جلد یں شائع ہوئی ۔ چونکہ اس دوران دنیا کے سیاسی حالات بدل گئے تھے ۔ مسلم ممالک پر سے مغرب کا سیاسی قبضہ ختم ہوگیاتھا ، عالمی جنگوں نے یورپ کی اقتصادی کمر توڑدی تھی، اس دوران فہرست سازی کرنے والی ٹیم کے افراد بھی یکے بعد دیگرے وفات پارہے تھے،اور اس جیسے پروجکٹوں کی افادیت بھی مغرب کے لئے ختم ہوگئی تھی ، لہذا کتاب کی تیاری اور اشاعت کا یہ پروجکٹ تقریبا (۷۲) سال تک چلتا رہا۔ اس پروجکٹ پر (۳۲) افراد نے کام کیا ،ان افراد میں استاذ محمد فواد عبد الباقی بھی شامل تھے۔ یہ اپنے موضوع پر بہترین کتاب ہے ، اس کتاب کے جو بہت سارے فائدے ہیں انہیں دیکھتے ہوئے اس کی بعض غلطیاں و خامیاں درگذر کرنے کے قابل ہیں۔ اس کتاب کا سب سے بڑا فائدہ ریسرچ کرنے والوں کے وقت کی بچت ہے ،اور وقت بڑی قیمتی چیز ہے ۔ یہ کتاب مستشرقین نے اپنے لئے تیار کی تھی ، لہذا اس کے صرف پانچسو نسخے چھاپے گئے تھے ، جو مسلمان اسکالروں کی پہنچ سے باہر تھے ، سنہ ۱۹۸۰ء میں سات جلدوں پر مشتمل یہ کتاب ایک لاکھ ہندوستانی روپئے میں بھی دستیاب نہیں تھی ۔ پھر ترکی وغیرہ کے ناشرین کتب کی مہربانی سے اس کے تصویر شدہ نسخوں نے اسے خاص و عام تک پہنچا دیا ۔ ﴿۳﴾ تیسیر المنفعۃ بکتابی مفتاح کنوز السنۃ و المعجم المفہرس لالفاظ الحدیث النبوی جب وینسنک نے مفتاح کنوز السنۃ اور المعجم المفہرس کا پروجکٹ شروع کیا تھا ، اس وقت کتابیں آج کےدور کی طرح عام ملتی نہیں تھیں ۔ نہ ہی علوم دینیہ سے وابستہ افراد کے معاشی حالات ایسے تھے کہ وہ کتابوں کی خرید پر اپنی آمدنی صرف کرتے ۔ ان فہرستوں میں جن کتابوں کو شامل کیا گیا ہے وہ ان کتابوں کے ابتدائی ایڈیشن تھے ۔چونکہ فہرستوں اور اشاریوں کی تیاری کے وقت سرخیوں کی عبارت کو مختصر رکھنا ، حوالہ کے لئے علامتوں اور رموز سے کام لینا ، اس کیلئے اجزاء ، صفحات ، ابواب کے لئے نمبرات سے مدد لینا ایک ضروری امر ہے ۔ لہذا اشاریہ کے اصول کے مطابق جن کتابوں کے ایڈیشنوں پر ابواب و احادیث کے نمبرات پہلے سے موجود تھے انہیں لیا گیا ، بقیہ پر مصنفین نے اپنے معیارات کے مطابق نمبرات لگائے ۔ ان فہارس و اشاریوں کی تیاری کے وقت کتابوں کے مندرجہ ذیل ایڈیشن ان کے سامنے رہے ۔ ۱۔ صحیح البخاری : لائڈن ایڈیشن سنہ ۱۸۶۲۔۱۸۷۸م و ۱۹۰۷۔ ۱۹۰۸ء ۲۔ صحیح مسلم : بولاق ایڈیشن سنہ ۱۲۹۰ھ ۳۔ سنن ابی داؤد : قاہرہ ایڈیشن ۱۲۸۰ھ ۴۔ جامع الترمذی : بولاق ایڈیشن ۱۲۹۲ھ ۵۔ سنن النسایٔی : قاہر ہ ایڈیشن سنہ ۱۳۱۲ھ ۶۔ سنن ابن ماجہ : قاہرہ ایڈیشن سنہ ۱۳۱۳ھ ۷۔ سنن الدارمی : دہلی ایڈیشن سنہ ۱۳۳۷ھ ۸۔ مؤطا مالک : قاہرہ ایڈیشن سنہ ۱۲۷۹ھ ۹۔ مسند احمد : قاہرہ ایڈیشن سنہ ۱۳۱۳ھ( میمینیہ) ۱۰۔ مسند زید بن علی : میلانو ایڈیشن سنہ ۱۹۱۹ء ۱۱۔ مسند الطیالسی : حیدرآباد ایڈیشن ۱۳۲۱ھ ۱۲۔ طبقا ت ابن سعد : لائڈن ایڈیشن ۱۹۰۴ء۔۱۹۰۸ء ۱۳۔ سیرت ابن ہشام : گوٹنگن ایڈیشن سنہ ۱۸۵۹۔۱۸۶۰ء ۱۴۔ طبقات ابن سعد : برلین ایڈیشن سنہ ۱۸۸۲ء ایڈیشنوں کی تفصیل سے آپ نے اندازہ لگا لیا ہوگا۔ کہ یہ ایڈیشن زیادہ تر ا س زمانے میں بھی نادر اور ناپید تھے ، اب ایسی کتابوں کے اشاریہ کا کیا فائدہ جن کا حوالہ آسانی سے تلاش نہ کیا جاسکے ۔یہی وجہ ہے کہ عرصہ تک ان اشاریوں کا طلبہ و اساتذہ نے نام سن کر جب انہیں حاصل کیا تو جن افراد کے ہاتھوں تک یہ کتابیں پہنچیں تو ایک طویل عرصہ تک ان سے استفادہ انکی دسترس سے باہر رہا ۔ المعجم المفہرس سے تو ابواب کے مختصر عنوانات ہونے کی وجہ سے تھوڑا بہت استفادہ ہوتا رہا ، لیکن مفتاح کنوز السنہ تو مظلوم ہی رہی ۔ کیونکہ اس میں ابواب اور فصلوں کے جو نمبرات دئے گئے ہیں ان سے دستیاب کتب حدیث کے ایڈیش خالی تھے ۔ اسی ضرورت کو محسوس کرکے مذکورہ بالا دونوں اشاریوں کے ترجمہ و ترتیب میں شریک استاد فواد عبد الباقی نے آخر الذکر کتاب ترتیب دی اور اس کتاب کے بعد مذکورہ بالا دونوں اشاریوں کو آپ نے فہرست شدہ کتابوں کے تمام ایڈیشنوں سے استفادے کے قابل بنادیا ۔سرسری نگاہ سے دیکھنے پر یہ کتابوں کے عنوانات کی عام سی فہرست محسوس ہوتی ہے جو کتابوں کے ایڈیشنوں کے ساتھ چھپا کرتی ہے ۔ اس کتاب کو مکرر شئی سمجھ کا اس سے استفادہ بہت ہی کم کیا گیا ، عموما طلبہ اور علماء اس کتاب سے واقفیت ہی نہیں رکھتے ، نہ ہی اس کتاب کی کوئی ضرورت محسوس کرتے ہیں ، لیکن حقیقتا ایسا نہیں ہے ، اگر مفتاح کنوز السنۃ اور المعجم المفھرس کنجی ہیں تو یہ کتاب کنجی کے دانت ہیں۔ کتاب کی ترتیب اس طرح ہے : ﴿مفتاح کنوز السنۃ﴾ میں اصل عنوان کے بعد ذیلی عناوین میں کتاب کا علامتی نام ،باب نمبر ، اور حدیث نمبر دیا جاتا ہے ۔ جیسے کتاب کی ابتدا حضرت آدم علیہ السلام کی سیرت سے ہوتی ہے ۔ جس کا پہلا ذیلی عنوان ہے ﴿ احتجاج آدم و موسی۔۔۔ بخ ۔ ک ۶۰ ب ۳۱؛ک ۶۵ سورۃ ۲۰؛ب ۱و۳؛ک ۸۲ ب ۱۱؛ ک ۹۷ ب ۳۷ الخ مس ۔ ک ۴۶ ح ۱۳۔۱۲ ا﴾ اس کا مطلب ہے کہ صرف بخاری میں چھ جگہ اس موضوع سے متعلق حدیثیں وارد ہوئی ہیں۔ مسلم،ابوداؤد ،ترمذی،ابن ماجہ ،موطا،مسند احمد کے مکانات کی نشاندہی ان کے علاوہ ہے، جو ﴿۱۴ ﴾میں سے﴿ ۹ ﴾کتابوں میں ﴿۲۱﴾ تک پہنچتی ہے ۔ یہاں بخ سے مراد بخاری ، ک ۶۰ سے مراد کتاب الانبیاء،۳۱ سے مراد باب وفاۃ موسی وذکرہ بعد ۔ مس سے مراد مسلم ہے ، ک ۴۶ سے مراد القد ر اور ۱۳ سے مراد حدثنی محمد بن حاتم ۔۔۔ ہے ۔ اس سے آپ بہ آسانی سمجھ سکتے ہیں کہ ایک ہی موضوع سے متعلق روایات ایسی ایسی جگہوں میں پھیلی ہوئی ہیں ، جن کے بارے میں محسوس ہوتا ہے کہ موضوع سے حدیث کی مناسبت نہیں ہے ۔ اس صورت میں کسی اشاریہ کے بغیر مطلوبہ حدیث تک پہنچنا حدیث کے عام قاری کے لئے بہت ہی مشکل ہے ۔ شیخ محمد رشید رضا کی آدھی عمر تلاش میں صرف ہونے کی بات اسی کی طرف نشاندہی کرتی ہے ۔ ﴿ تیسر المنفعۃ﴾ بخاری ، مسلم ، ابو داؤد ، ترمذی ، نسائی ،ابن ماجہ، موطا مالک اور دارمی کے ابواب کی فہرست ہے ۔ بقیہ چھ کتابوں کو اس میں شامل نہیں کیا گیا ہے ، کیونکہ ان اشاریوں میں ان کے صفحات کے نمبرات کی نشاندہی کی گئی ہے اور ان کتابوں کے اس زمانے میں کوئی دوسرے ایڈیشن پرنٹ نہیں ہوئے تھے ۔ یہ رہی ﴿مفتاح کنوز السنۃ ﴾کے لئے تیسیر کی افادیت ۔ رہی بات ﴿المعجم المفھرس ﴾ کی تو اس میں مفتاح کے برخلاف ابواب کے نمبرات کے بجائے ان کے مختصر نام دئے جاتے ہیں ، مثلا مثلا ﴿ خ جھاد ۱۹۱۔۔۔ م اضاحی ۲۰، ت صید ۱۹، ن صید ۱۷۔۔۔ ق ذبایٔح ۹۔۔۔دی ۱۵۔۔۔﴾ ، اس سے مراد ہے بخاری کا باب نمبر ۵۶،مسلم کا باب نمبر ۳۵، ابوداؤد کا باب نمبر ۱۶، ترمذی کا باب نمبر ۱۶، نسائی کا ۴۲،ابن ماجہ کا باب نمبر ۲۷، دارمی کا باب نمبر ۶۔ تیسیر میں حروف تہجی پر المعجم میں استعمال شدہ کتابوں کے رموز اور نمبرات دئے گئے ۔ ابواب کے نمبرات معلوم ہونے پر جتنی وقت کی بچت ہوتی ہے ۔ اس کا اندازہ تلاش کرنے والوں کو آسانی سے ہوسکتا ہے ۔ ﴿۴﴾ مفتاح المعجم المفہرس لالفاظ الحدیث تصنیف : مامون صاغر جی ناشر : دار الفکر المعاصر ۔ دمشق ۔ (۳۵۸ صفحات) اس کتاب کی اشاعت پر بیس سال گذررہے ہیں ۔ یہ ۱۹۹۵ء میں پہلی مرتبہ شائع ہوئی تھی ، اس کتاب کا مقصد معجم سے استفادے کو آسان بنانا ہے ۔ اس میں معجم میں ابواب کے لئے جو رموز استعمال ہوئے ہیں انہیں حروف تہجی پر ترتیب دیا گیا ہے اس کے بعد آج سے بیس سال قبل کے کتابوں کے متداول ایڈیشنوں کے جلد نمبر اور صفحات دئے گئے ہی۔ اس مفتاح کی ترتیب میں کتابوں کے مندرجہ ذیل ایڈیشن سامنے رکھے گئے ہیں ۔ صحیح البخاری ۔ دار الطباعۃ العامرہ ۔ مصر ۱۳۱۵ھ ۔ صحیح البخاری ۔ الشعب ۔ مصر ۱۳۷۸ھ ۔ صحیح البخاری ۔ ڈاکٹر مصطفی دیب البغا ۔ دار ابن کثیر ۔ دمشق ۱۴۰۷ھ ۔ ۱۹۸۷ء ۔ فتح الباری بشرح صحیح البخاری ۔ ابن حجر العسقلانی ۔ السلفیۃ زیر نگرانی محب الدین الخطیب - صحیح مسلم : تحقیق محمد فواد عبد الباقی ۔ دار احیاء التراث العربی - سنن ابی داؤد : تحقیق محمد محی الدین عبد الحمید ۔ دار احیاء السنۃ النبویہ - سنن ابی داؤد : اعداد و تعلیق عزت عبید الدعاس۔ حمص ۱۳۸۸ھ۔ ۱۹۶۹ء - سنن الترمذی المسمی الجامع الصحیح ۔ تحقیق احمد محمد شاکر ، محمد فواد عبد الباقی ، ابراہیم عطوہ عوض - سنن النسائی بشرح السیوطی و حاشیۃ السندی ۔ الازھر ۱۹۳۰ھ - سنن ابن ماجہ القزوینی : تحقیق محمد فؤاد عبد الباقی ، دار احیاء التراث العربی ۱۳۹۵ھ۔۱۹۷۵ء - سنن الدارمی عب اللہ بن عبد الرحمن ۔ تحقیق محمد احمد دھمان - موطا مالک بن انس : تحقیق محمد فواد عبد الباقی بیروت ۱۴۰۶ھ۱۹۸۵ء دار احیاء التراث العربی۔ کتاب اپنی جگہ مفید ہے ، لیکن اس سے تیسیر کی ضرورت ختم نہیں ہوتی ۔ ابواب کے نمبرات کے لئے اس سے رجوع کئے بغیر چارہ نہیں ۔ مفتاح کنوز السنہ اور المعجم المفھرس کے عام ہونے کے بعد کتب حدیث کے جو ایڈیشن آئے ان میں ان کتابوں کے ابواب و حدیث کے نمبرات کی مطابقت کا اہتمام کیا گیا ۔

موسوعۃ کتب الحدیث الشریف ۔

 

الکتب الستۃ باشراف و مراجعۃ : صالح بن عبد العزیز محمد بن ابراہیم آل الشیخ دار السلام للنشر و التوزیع ۔ السعودیہ اس مجموعہ میں کتب ستۃ کو یکجا کیا گیا ہے ۔ اس میں موطا امام مالک ، سنن الدارمی کو شامل نہیں کیا گیا ہے ۔ اس میں ابواب اور احادیث کے نمبرات کو مفتاح اور معجم کی ترتیب کے مطابق کیا گیا ہے ، اس کی بدولت مفتاح سے استفادہ بہ نسبت آسان ہوگیا ہے ۔ لیکن معجم سے استفاد ہ اتنا آسان نہیں ہے ۔ اگر حروف تہجی پر ابواب کے نام اور صفحات نمبر دئے جاتے تو اس کا بہت فائدہ ہوسکتا تھا ۔ آج سے کوپچیس سال قبل اس ناچیز نے بھی ایک مفتاح اور معجم سے استفادے کو آسان بنانے کے لئے ایک ہنڈ بک تیار کیا تھا ۔ اس وقت الکٹرونک کتابیں شروع نہیں ہوئی تھیں ۔ نہ ہی کتابوں کے کثرت سے نئے نئے ایڈیشن نکلتے تھے ۔ بس پرانے ایڈیشنوں کے فوٹو چھپتے تھے ، ہم نے اس ہنڈ بک میں اس وقت تک مطبوعہ تقریبا سبھی متداول متون اور شروحات کے ابواب کو مفتاح اور معجم کے مطابق کرنے کی کوشش کی تھی ، لیکن بعد کے ایام میں کتابوں کے ایڈیشنوں کی بہتات ، کتابوں کی الکٹرونک لائبریریوں کی اشاعت کے بعد ہماری دلچسپی اس کام سے ہٹ گئی۔

مفتاح اور معجم تیار کرنے والے چونکہ اہل زبان نہیں تھے ، نہ ہی ان کا نبوت محمدی ایمان تھا ،لہذا ان سے کتاب کی تیاری میں غلطیاں سرزد ہونا ایک فطری بات تھی اس سلسلے میں جو تنقیدی تحقیقات سامنے آئی ہیں ۔ ان کا بھی کچھ اشارہ مفید معلوم ہوتا ہے

 مما یلاحظ علی کتابی مفتاح کنوز السنۃ و المعجم المفھرس لالفاظ الحدیث

 | تصنیف : محمد عبد اللہ حیانی صفحات104

 اضواء علی اخطاء المستشرقین فی المعجم المفھرس لالفاظ النبوی

 

 تصنیف : الدکتور سعد المرصفی ناشر : دار القلم صفحات : ۲۱۲