بی جے پی کا منگلور چلو پروگرام ناکام فرقہ وارانہ فسادات کے ذریعہ اقتدار حاصل کرنے کی سازش: سدارامیا
03:25PM Mon 11 Sep, 2017
بنگلور( بھٹکلیس نیوز ) :۔وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا کہ بی جے پی کا منگلور چلو پروگرام ناکام رہا ہے جس سے بی جے پی کو ناکامی کا منہ دیکھنے کے علاوہ اسے ہر جگہ مایوسی ہونے لگی ہے اور اعلیٰ کمان نے تمام لیڈروں کو آڑے ہاتھوں لیا ہے اورتادیبی کاروائی کی بھی وارننگ دی ہے ۔انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ عوام بی جے پی کی چالوں سے با خوبی واقف ہے اس لئے اس پروگرام کوکوئی خاص کامیابی نہیں ملی اور ریالی کے بعد منگلور کے نہرو میدان میں انعقاد کنونشن میں صرف تین ہزار پارٹی کارکن جمع تھے ۔بی جے پی نے میڈیا کو جو تصاویر روانہ کی تھیں وہ تصاویر کافی پرانی تھیں۔ پتہ نہیں بی جے پی جھوٹی تشہیر حاصل کرنے کے لئے کچھ بھی کرنے کے لئے تیار رہتی ہے۔ محکمۂ پولیس نے بھی بائک ریالی کو روکنے میں کامیاب رہی۔ محکمۂ انٹلی جنس کی جانب سے خفیہ اطلاعات اور جانکاری ملنے کی بنیاد پر ہی حکومت نے بائک ریالی کو منظوری نہیں دی کیونکہ بائک ریالی کے موقعہ پر بی جے پی کارکن حکومت کے خلاف اشتعال انگیز نعرے لگانے کے علاوہ لوگوں کے جذبات کو بھڑکانے اور تشدد برپا کرنے کی گہری سازش کی تھی۔ اس سازش کو ناکام کردیا گیا۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے ہاتھوں میں اقتدار نہ ہونے کی وجہ سے وہ ذہنی طورپرپریشان ہے۔بی جے پی کے تمام لیڈرس اتر پردیش کے طرز پر انتخابی مہم چلا کر کامیابی حاصل کرنے کی سازش کررہی ہے۔ یہاں اتر پردیش جیسے حالات نہیں ہے ۔ریاست کرناٹک ایک سیکولر صوبہ ہے اوریہاں کے لوگ امن پسند اور تعلیم یافتہ ہیں ۔انہیں معلوم ہے کہ کس پارٹی کو کس وقت اقتدار سونپنا ہے۔