شاہین پی یو کالج بیدر کے طلباء و طالبات کی این این ای ٹی میں بہتر نتائج لانے پر تہنیتی تقریب

02:41PM Tue 18 Jul, 2017

بیدر۔( بھٹکلیس نیوز)آج بیدر کے رنگ مندر میں شاہین پی یو کالج بیدر کے طلباء و طالبات کی NEETمیں تاریخ ساز نتائج لانے پر منعقدہ تہنیتی تقریب میں بحیثیت مہمانِ خصوصی شرکت کرتے ہوئے یو پی ایس سی میں25واں رینک حاصل کرنے والے جناب شیخ آصف تنویرنے شاہین ادارہ جات کے سکریٹری ڈاکٹر عبدالقدیر اور NEETکے ٹاپرس طلباء کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ دنیا میں نا ممکن کوئی چیز نہیں ‘بس قوتِ ارادی کی ضرورت ہے۔اپنی توجہ کوبھٹکنے نہ دیا جائے ‘ عزم و استقلال اور بلند حوصلوں کے ساتھ حصول تعلیم میں سخت محنت سے آگے بڑھتے رہیں‘ محنت‘ لگن اور عزم مصمم ہو تو بڑی سے بڑی کامیابی حاصل کرنا بھی ممکن ہے‘ تعلیم کے میدان میں بھی یہ بات سچ ثابت ہوتی ہے ‘رسمی اور اعلی تعلیم کے بعد مقابلہ جاتی امتحانات میں کامیابی آسان نہیں ہوتی‘ بہت مشکل سے طلباء اس امتحان تک رسائی حاصل کرتے ہیں راستے میں بڑی مشکلیں آتی ہیں‘ ان تمام کو آگے بڑھ کر بلند حوصلوں کے ساتھ سامنا کرتے ہوئے تمام ٹینشنوں سے فری ہوجائیں گے تو ہمیں کامیابی نصیب ہوتی ہے۔انھوں نے کہا کہ انسانیت کی خدمت کا جذبہ ‘غریب اور کمزور کی فلاح و بہبود کے ساتھ ساتھ ذریعہ معاشی طورپر مضبوط و مستحکم کرنے کا خواب دیکھنا ضروری ہے۔ناکامیوں کی وجہ سے اپنی جدوجہد اور کوششوں سے منہ موڑ لینے کے بجائے اس دوران ہوئی خامیوں اور غلطیوں سے سیکھ کر مزید اونچے عزائم اور کچھ حاصل کرنے کا جذبہ دلوں میں پیدا کرکے زندگی کے ہر میدان میں اللہ رب العزت کی نصرت و نگہبانی شامل حال ہوتی رہے گی‘جس سے بڑے کام آسان دکھائی دینے لگتے ہیں ۔انھوں نے کہا کہ کوئی بھی چیز بغیر مشقت اور محنت کے حاصل نہیں ہوگی اس کیلئے کڑی محنت کی اشد ضرورت ہے۔ زندگی کے کسی امتحان میں ناکامی سے مایوس ہوکر منہ موڑ لینا بڑی ناکامی ہے۔انھوں نے تمام طلباء سے کو پُر زور اندازمیں کہا کہ میڈیکل کے ساتھ ساتھ ہمیں کرجرنلزم‘کامرس‘ آرٹس ایم بی اے اور سول سروسس کورس کو ترجیح دینا چاہئے ۔انھوں اولیائے طلباء سے کہا کہ منفی سوچ رکھ کر اپنے بچوں کی تعلیمی ترقی روکنے کی کوشش نہ کریں ‘ان کی تعلیمی زندگی کیلئے ان سے بھی مشورہ لیں اور ان کے مقاصد کو جاننے کی کوشش کریں جس سے ان میں پوشیدہ عزائم اور مقاصد سامنے آئیں گے۔انھوں نے اپنے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ نوبل اسکول میں ان کی ابتدائی تعلیم اور پی یو سی کی تعلیم گُلبرگہ میں ہوئی ‘ بعدانھوں نے اعلی تعلیم کیلئے بنگلورو کے ایم ایس رامیا انجینئرنگ کالج میں الیکٹرانک اینڈ کمیونکیشن کی تعلیم مکمل کی۔اس دوران انھیں ایچ پی کمپنی میں انفارمیشن ڈیولپمنٹ افسر کے طورپر ملازمت حاصل ہوئی لیکن اس سے مطمئن نہیں تھے کیونکہ خدمتِ خلق کا جو خواب انھوں نے دیکھا تھا اس کو شرمندہ تعبیر کرنے کی تڑپ بڑھتی رہی اور ذہنی طورپر پریشان رہے جس کے بعد انھو ں نے 2015ء میں یو پی ایس سی امتحان کے مصمم ارادے کے ساتھ نئی دہلی روانہ ہوگئے۔شروع میں تھوڑی بہت مایوسی ہوئی لیکن والدین خواب کو پورا کرنے کا ارادہ کیا تھا اس کو ہر حال میں پورا کرنے کے ارادہ س کے ساتھ سخت محنت‘ جدوجہد شروع کی اور وہ30ماہ تک والدین سے الگ رہ کر ہر دن10 ۱ے12گھنٹوں تک پڑھائی کرتے رہے تب کہیں جاکر ا پنی منزل کو پاسکا۔اس موقع پر شاہین ادارہ جات کے روح رواں ڈاکٹر عبدالقدیرنے اپنے خطاب میں طلباء کوبتایا کہ تعلیمی ترقی کیلئے کوئی بھی ذریعہ تعلیم رکاؤٹ نہیں بن سکتی‘شاہین ادارہ جات میں مُختلف میڈیم ( ذریعہ تعلیم )کے طلباء حصول تعلیم کیلئے آرہے ہیں ۔انھوں نے کہا کہ شاہین ادارہ جات میں 25ریاستوں اور7بیرون ممالک کے طلباء حصول تعلیم کیلئے آئے ہیں ۔انھوں نے کہا کہ ایسا بھی ہوا کہ ایک ہی دن میں9ریاستوں یعنی میگھالیہ سے مہاراشٹرا تک ریاستوں کے طلباء شاہین ادارہ جات میں داخلہ کیلئے آئے ۔شاہین ادارہ جات کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہاں بھائی چارہ و قومی یکجہتی پروان چڑھتی ہے۔ادارہ میں تمام مذاہب کے طلباء حصول تعلیم میں منہمک ہیں ۔جس کی مثال شاہین کے NEETکے نتائج ہیں جس میں سلسلہ وار ایک مسلم و دیگر مذاہب یعنی ایک بعد ایک قومی یکجہتی کی بہترین مثال سامنے آئی ہے۔انھوں نے کہا کہ موجود دور میں قومی یکجہتی و بھائی چارہ کی بہت زیادہ ضرورت ہے اور یہ ضرورت صرف اور صرف تعلیمی ادارہ جات ہی پوری کرسکتے ہیں ۔اس کیلئے لیڈروں اور مذہبی ذمہ داروں سے اُمید نہیں کی جاسکتی۔ہر سال20لاکھ ڈاکٹرس کی ضرورت ہے اور ہمارے ملک میں 1000عوام میں ایک ڈاکٹر ہے ۔اور دیہی علاقوں کی حالت تو بہت خراب ہے۔امسال ہمارے NEETکے نتائج بہت ہی اچھے آئے ہیں 225طلباء مفت سرکاری میڈیکل نشست کے اہل ہوگئے ہیں۔ یہ ہمارے لئے بہت بڑی کامیابی ہے۔شاہین ادارہ جات سے ہم ملک کو ایک فیصد کو میڈیکل نشست کیلئے اہم بنائیں گے۔انھوں نے پُر زور انداز میں طلباء سے کہا کہ ایکایسے ڈاکٹربنیں جس میں ایمانداری و انسانی ہمدردی کاجذبہ ہواور اپنے فرائض کو پوری ایمانداری کے ساتھ نبھائیں گے تو99فیصد ڈاکٹرس ہر اس کا اثر پڑے گا۔انھوں نے بیدر کے ایک گھر کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ جناب محمد عظیم قریشی جن کی گھر5افراد شاہین کالج سے تعلیم حاصل کرکے میڈیکل کیلئے اہل ہوئے ہیں اور ان میں تین ایم بی بی ایس مکمل ہونے کے بعد ایم ڈی کررہے ہیں۔اور اس مرتبہ ان کی اور بیٹی بھی میڈیکل میں داخلہ کیلئے اہل ہوئی ہیں۔انھوں نے کہا کہ شاہین پی یو کالج کے تاریخ ساز نتائج کیلئے تدریسی اسٹاف اور اور اولیائے طلباء کا انتظامیہ کے ساتھ بہتر تعاون رہا ہے ‘میں طلباء کے ساتھ ساتھ اولیائے طلباء اور ہمارے تدریسی اسٹاف کے تئیں مسرت کا اِظہار کرتے ہوئے انھیں مبارکباد دیتا ہوں۔مہمانانِ خصوصی کی حیثیت سے مسٹر بسواکمار پاٹل صدر کرناٹک کلیان پرتشٹھان‘شریمتی گورما سداریڈی‘ گذشتہ سال شاہین پی یو کالج کی طالبہ جو KCETمیں تیسرا رینک حاصل کرنے والی وچنا شری پاٹل نے بھی طلباء سے خطاب کیا۔شاہین پی یو کالج کی وائس پرنسپل کرشنا وائننگ نے استقبالیہ خطاب کیا‘مسٹر ستیشایچ او ڈی فزیکس نے شاہین پی یو کالج کی سالانہ تعلیمی ترقی کی رپورٹ پیش کی ۔زبیر انعامدارپرنسپل شاہین پی یو کالج نے پروگرام کی بحسن خوبی نگرانی انجام دی ۔چند طلباء اور اولیائے طلباء نے شاہین ادارہ جا ت کے تئیں اپنے خیالات کا اِظہار کیا۔قبل ازیں شاہین پی یو کالج کے NEETکے میں بہتر نتائج لانے والے تمام طلباء کوڈاکٹر عبدالقدیر سکریٹری شاہین ادارہ جات اور مہمانانِ خصوصی کے ہاتھوں گُلپوشی و شالپوشی کے ذریعے تہنیت پیش کرتے ہوئے انھیں مومنٹو پیش کیا گیا۔اس موقع شاہین دارہ جات بیدر کی جانب سے یو پی ایس سی میں25واں رینک حاصل کرنے والے جناب شیخ آصف تنویرکو شالپوشی و گُلپوشی کرتے ہوئے والہانہ انداز میں تہنیت پیش کی گئی۔آخر میں جناب محمد زبیر انعامدار پرنسپل شاہین ادارہ جات بیدر کے اِظہار تشکر پر پروگرام کا اختتام عمل میں آیا۔