پرپنا اگراہار جیل میں شاہی مہمان نوازی جیل کے افسرانے تمام الزامات قبول کرلئے

03:35PM Sun 23 Jul, 2017

بنگلور :(( بھٹکلی نیوز) ):۔ شہر کے پرپنا اگر اہار سنٹرل جیل میں ملزموں کو شاہی مہمان نوازی اور جیل حکام کو رشوت دئے جانے کے معاملات کو اعلیٰ افسران نے قبول کرلیا ہے جس سے ریاستی حکومت کی کافی بدنامی ہونے لگی ہے اور اس معاملہ کو منظر عام پر لانے والی ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس ( ڈی آئی جی ) ڈی روپا کو نوٹس جاری کرنے کے ساتھ ہی انہیں سزا کے طور پرتبادلہ بھی کردیا تھا ۔ان تمام واقعات سے صاف طور پر یہی ثابت ہونا ہے کہ یہاس ایمانداری سے کام کرنے اولے افسان کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیرمن او ررکن اسمبلی آر اشوک نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ جیل میں اے آئی اے ڈی ایم کے کی جنرل سکریٹری وی کے ششی کلا او رجعلی اسٹامپ کاغذات گھوٹالہ کے اہم ملزم کریم لالہ تیلگی کو رشوت لیکر کئی سہولیات فراہم کی گئی تھیں۔ ششی کلا کو الگ باورچی خانہ اور ا سکا پسندیدہ کھانا بنابے کے لئے دو زنانہ قیدیو ں کی خدمت فراہم کرانے اور تیلگی کو باڈی مساج کرانے کے لئے دو قیدیوں کو فراہم کرانے اور دیگر قیدیوں کو موبائل فون کی سہولت ۔ منشیات اوردیگر چیزوں کی فراہمی کے تعلقات سے جو بھی واقعات ہیں وہ سچائی اور حقیقت پر مبنی ہیں اور اس میں کوئی شک یا شبہ نہیں ہے۔ششی کلا کو جیل کے اندر پانچ کمرے دئے گئے تھے اسے اور تیلگی کو جیل کوٹھری میں رنگین ٹی وی ۔ فرج ۔پلنگ ۔ پنکھے او ردیگر کئی سہولیات فراہم کی گئی تھیں۔یہ تمام سہولیات فراہم کرانے کے لئے سابق ڈی جی پی کو دو کروڑ روپیوں کی رشوت د ی گئی تھی۔ ڈی روپا نے اس معاملہ کی جانچ کرکے حکومت کو رپورٹ پیش کی تھی اور روپا کے تمام الزامات میں سچائی ہے اور اس رپورٹ کو نظر انداز کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ وہ سابق ڈی جی پی سیتہ نارائن راؤ۔ چیف سپرنٹنڈنٹ کرشنا کمار اور سپرنٹنڈنٹ انیتا کے خلاف کاروائی کرنے کی سفارش کریں گے۔ تینوں افسران کو معطل کرنے کے بجائے ملازمت سے برخاست کرکے حکومت سے دی جانے والی تما م سہولیات کو بندکردینے کی سفارش بھی کرسکتے ہیں۔ ان افسران کی وجہ سے پورے ہندوستان میں ریاست کی بدنامی ہوئی ہے۔ حکومت نے اس معاملہ کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور صرف سزا کے طور پر تبادلہ کردیا ہے ۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت بھی بدعنوانیوں کر بڑھاوا دے رہی ہے ۔