ڈاکٹر جسیم محمد نے ممبئی میں مہیش بھٹ کو’’ اسباب بغاوتِ ہند ‘‘کا ہندی ترجمہ پیش کیا
12:54PM Thu 21 Jul, 2016
سرسید عظیم مفکر تھے جنہوں نے انگریزوں کو آئینہ دکھایا :مہیش بھٹ
علی گڑھ21؍جولائی: ڈاکٹر جسیم محمد نے عظیم مصلح قوم، جدید ہندوستان کے معمار اورعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سرسید احمد کی تصنیف کردہ کتاب’’ اسباب بغاوتِ ہند‘‘ کی ہندی میں خود کی ترجمہ کردہ جلد ممبئی میں ممتاز فلم ساز و ہدایت کار اور سماجی کارکن مسٹر مہیش بھٹ کو پیش کی۔
ڈاکٹر جسیم محمد نے بتایا کہ آج انہوں نے سرسید احمدخاں کی تصنیف اسباب بغاوتِ ہند، جس کا ترجمہ خود ڈاکٹر جسیم نے کیا ہے،کی ایک جلد ممبئی میں ممتاز فلم ساز و ہدایت کار اور سماجی کارکن مسٹر مہیش بھٹ کو پیش کی۔ ڈاکٹر جسیم محمد نے بتایا کہ انہوں نے اسباب بغاوتِ ہند کا ہندی زبان میں ترجمہ سرسید کی فکر اور ان کے مشن کو فروغ دینے کی غرض سے کیا ہے۔
اسباب بغاوتِ ہند کے ہندی ترجمہ کی جلد کو قبول کرتے ہوئے مہیش بھٹ نے کہا کہ سرسید کا پیغام ملک کے بچے بچے تک پہنچنا چاہئے اور یہ ان کی کتابوں کے ہندی ترجمہ سے ہی ممکن ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرسید کی کتب کا ہندی زبان میں ترجمہ کرکے ڈاکٹر جسیم محمد سرسید مشن کے فروغ میں اہم رول ادا کر رہے ہیں۔ مہیش بھٹ نے کہا کہ سرسید نہ صرف ایک عظیم ماہرِ تعلیم تھے بلکہ عظیم مفکراور ایک بہادر ہندوستانی بھی تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کی برطانوی حکومت کے دور میں اس قسم کی کتاب تصنیف کرنے کے لئے بہت بڑی ہمت کی ضرورت تھی لیکن سرسید نے انگریزوں پر ان کی غلط پالیسیوں کو بہتر انداز میں اجاگر کرکے انہیں آئینہ دکھایا۔
ممتازفلم ہدایت کار مسٹر مکیش بھٹ نے کہا کہ سرسید کی فکر آج بھی اہمیت کی حامل ہے اور ڈاکٹر جسیم محمد نے اسباب بغاوتِ ہند کا ہندی ترجمہ کرکے ایک عظیم کارنامہ انجام دیا ہے۔ ممتاز فلم ساز مسٹر ساجد نڈیاڈوالا نے کہا کہ سرسید جدید تعلیم کے حامی تھے اور انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کی تعلیمی خود کفالت کا خواب دیکھا تھا جو پورا ہونا چاہئے۔
یو ٹی وی کے مالک اور معروف اداکارہ ودیا بالن کے شوہر مسٹر سدھارتھ رائے کپور نے کہا کہ سرسید نے ہندوستانی مسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ تمام نوجوان نسل کو ایک نئی راہ دکھائی اور ہمیں ان کی فکر کی قدر کرتے ہوئے ان کی راہ پر چلنا چاہئے۔
واضح ہوکہ سرسید نے اسباب بغاوتِ ہند کتاب کے ذریعہ1857 میں غدر کے لئے انگریزوں کی پالیسیوں کو ذمہ دار قرار دیا تھا۔ ڈاکٹر جسیم محمد نے مذکورہ کتاب کا ہندی ترجمہ کیا ہے تاکہ عام لوگ بھی اس قدیم تاریخی حقیقت سے واقف ہوسکیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے سرسید احمد خاں کے200ویں یومِ پیدائش کی تقریبات پر مذکورہ کتاب کو اجراء کے لئے منظور کرلیا ہے۔